بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع لکھیم پور میں 3 اکتوبر کو پرامن مظاہرہ کرنے والے کسانوں کو گاڑی سے کچلنے کے واقعے کی تحقیقات کرنے والی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت کو بتایا ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت کسانوں کوقتل کی نیت سے انہیں گاڑی سے کچلا گیا تھا‘معاملے کی تفتیش کے دوران جمع کئے گئے مواد اور موجود شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کسی قسم کی لاپرواہی سے نہیں ہوا بلکہ اسے منظم منصوبے کے تحت کسانوںکو قتل کرنے کی نیت سے انجام دیا گیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایس آئی ٹی کے انوسٹی گیشن افسر ودیارام دیواکر نے لکھیم پور کی عدالت میں دائر کی گئی اپنی عرضداشت میں کہا ہے کہ معاملے کی تفتیش کے دوران جمع کئے گئے مواد اور موجود شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کسی قسم کی لاپرواہی سے نہیں ہوا بلکہ اسے منظم منصوبے کے تحت کسانوںکو قتل کرنے کی نیت سے انجام دیا گیا تھا۔ایس آئی ٹی کی طرف سے گزشتہ ہفتے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میںدائر کی گئی درخواست میں واقعے کے مرکزی ملزم آشیش مشرا سمیت دیگر ملزمان کے خلاف لگائی گئی دفعات میں ترمیم کی اپیل کی تھی۔عرضداشت میں ملزمان کے خلاف دفعہ 304اے ، 279اور338کی جگہ اقدام قتل کی دفعہ 307،مہلک ہتھیاروں سے سے زخمی کرنے سے متعلق دفعہ 326 اور دانستہ طورپر فعل انجام دینے سے متعلق دفعہ 34لگانے کی درخواست کی۔واضح رہے کہ رواں سال 3اکتوبر کو لکھیم پور کھیری میں اتر پردیش کے نائب وزیر اعلی کیسوپرساد موریہ کی آمد پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے متعدد کسان پر امن احتجاج کر رہے تھے کہ جب ایک گاڑی نے انہیں کچل دیا جس سے 4کسانوں سمیت 8افراد ہلاک ہو گئے تھے۔واقعے میں استعمال کی گئی گاڑی بھارتی وزیر اجے مشرا کے بیٹے اشیش مشرا کی تھی۔ واقعے کے بعد پر تشدد واقعات میں ایک مقامی صحافی بھی ہلاک ہو گیا تھا۔ ایس آئی ٹی اب تک اشیش مشرا سمیت 13افراد کو گرفتار کرچکی ہے جو کہ لکھیم پور کھیری ڈسٹرکٹ جیل میں قید ہیں۔ادھر الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنو بینچ نے اتر پردیش حکومت کو اشیش مشرا کی ضمانت کی درخواست پر جواب دائر کرنے کیلئے دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔
The post بھارت: کسانوں کو ایک منظم سازش کے تحت گاڑی سے کچلا گیا، تحقیقاتی ٹیم کا انکشاف first appeared on Daily Jasarat News.
