سندھ ہائیکورٹ نے 19 لاپتا افرادکی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔ ہائیکورٹ نے 19 لاپتا افرادکی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزاروں کے وکلا نے موقف دیا کہ شہری اعظم فاروق، مصطفی، ظفر، گل خان، بلال، سعد صدیقی ،یاسین اور دیگر کئی برسوں سے لاپتا ہیں۔ لاپتا شہریوں کو بازیاب کرایا جائے۔ عدالت نے سربراہ جے آئی ٹی شہلا قریشی اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سرزنش کردی۔ سربراہ مسنگ پرسنز جے آئی ٹی شہلا قریشی عدالت کے سوالات کے جواب دینے سے قاصر رہیں۔ جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے ریمارکس دیئے بتایا جائے لاپتا افرادکی بازیابی کے لیے کس تاریخ کو کیا اقدامات کیے؟ شہلا قریشی اپنے جوابات سے عدالت کو مطمین نہ کرسکیں۔ عدالت نے جے آئی ٹی سربراہ کو بیٹھا دیا۔ عدالت نے ایس ایس پی انوسٹی گیشن کو بھی جھاڑ پلادی۔ جسٹس نعمت اللہ نے ریمارکس دیئے ہم حکم دیتے ہیں آئندہ کسی قسم کی تفتیش ایس ایس پی انویسٹی گیشن کے سپرد نہ کی جائے۔ لوگ لاپتا ہیں اور انہیں کسی چیز کا احساس ہی نہیں۔ ہم نہیں جانتے ہیں بس لاپتا شہری واپس لا۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ لاپتا کی بازیابی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ مختلف اداروں کو خطوط لکھے ہیں ایک بار مہلت دی جائے۔ عدالت بے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

