English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایم کیوایم شہریوں کی ہمدرد نہیں ،خونریزی نہیں کرنے دینگے،سندھ حکومت

القمر

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کراچی کے لوگوں کی ہمدرد نہیں ، کراچی میں خون ریزی کرکے اپنی سیاسی دکان چمکانا چاہتی ہے ،ہم ان دہشت گردوں کو دوبارہ کراچی میں دہشت گردی نہیں کرنے دیں گے ، 2008ء میں ہم نے تاجر برادری اور اس شہر کے عوام کو ان دہشت گردوں سے بچانے کے لیے کڑوا گھونٹ پیا اور ان کو نہ چاہتے ہوئے بھی حکومت کا حصہ بنایا تھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے بدھ کی صبح اقرا یونیورسٹی میں منعقدہ اسکالرشپ ایوارڈ کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت اور سندھ اسمبلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کیا۔علاوہ ازیں وزیربلدیات سید ناصر حسین شاہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ سانحہ پکا قلعہ پی پی پی حکومت کے خلاف ایک سازش تھی اور اس سازش میں اہم کردار ایم کیو ایم نے ادا
کیا۔انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کو بدنام کرنے کے لیے ہر مکروہ طریقہ اختیار کیا ۔انہوں نے ایم کیو ایم کو تو پی ٹی آئی کے خلاف سیاست کرنی چاہیے جنہوں نے ان سے مینڈیٹ چھینا اور جماعت اسلامی کو بھی ایم کیو ایم کے خلاف سیاست کرنی چاہیے جنہوں نے ان سے ان کا مینڈیٹ چھینا۔وزیربلدیات کے بقول کے ایم سی کے اسپتال سندھ حکومت کی تحویل میں جانے سے سب سے بڑا نقصان ایم کیو ایم کو ہوگا کیونکہ ان کے گھوسٹ ملازمین فارغ کیے جائیں گے اور یہی خوف انہیں کھائے جارہا ہے۔ سید ناصر شاہ نے کہا کہ عامر خان پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں اور بتائیں کہ مخالفین کے جسموں میں ڈرل مشینوں سے کس نے سوراخ کیے۔ بوریوں میں بند لاشیں کو ن پھینکتا تھا اور وکیلوں کوزندہ کس نے جلایا۔عامر خان کہتے ہیں جتنی بلاول بھٹو کی عمر ہے اتنی انہوں نے جیل کاٹی ہے۔ جیل تو آپ نے قتل و غارت گری، جلائو گھیرائو جیسے بدنام وارداتوں کی بدولت کاٹی ہے اور اس بات کا کریڈیٹ آپ کس منہ سے لے رہے ہیں،ایم کیو ایم اب کچھ بھی کرلے عوام ان کے مکروہ چہرے دیکھ چکی ہے اورانہوں نے سوائے لسانی فسادات کرانے کے اور کچھ نہیں سیکھا۔ ایم کیو ایم کے خلاف تو جنگی جرائم جیسے کیسز چلانے چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے بلدیاتی اداروں کو تباہ کرنے والے اب دوبارہ وائسرائے بننا چاہتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے