
اسلام آباد (آن لائن ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان کو ضرورت کے وقت تنہا چھوڑنا کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا، امید ہے دنیا افغانستان سے قطع تعلق کی غلطی نہیں دہرائے گی ، عالمی برادری افغانستان کے کمزور لوگوں کی مدد کرے۔ بدھ کو وزیر اعظم کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی برائے افغانستان کا دوسرا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراشاہ محمود قریشی، فواد احمد، شیخ رشید، اسد عمر، مشیران شوکت ترین اور عبدالرزاق داود، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، قومی سلامتی مشیر ڈاکٹر معید یوسف اور سینئر سول و عسکری حکام شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان آئے افغان شہریوں کو مفت کورونا ویکسین کی سہولت جاری رہے گی، افغان شہریوں کے لیے ویزے کا حصول بھی آسان کر دیا گیا ہے۔اس موقع پر عمران خان نے کہا کہ ہنگامی صورتحال اور انسانی المیے سے بچنے کی خاطر پاکستان افغان عوام کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرے گا ،پاکستان نے افغان عوام کی مدد کے لیے 5 ارب روپے کی امداد مختص کردی ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی
کہ پاکستان کے راستے افغان عوام کو امداد دینے والے عالمی اداروں کو سہولیات فراہم کی جائیں ۔ ایپکس کمیٹی کے شرکاء نے افغانستان میں ہنگامی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں19دسمبر کو پاکستان کی سربراہی میں منعقد ہونے والے او آئی سی اجلاس کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی تمام شرکا نے کہا قابل فخر بات ہے کہ پاکستان اتوار کو او آئی سی ممالک کے وزرائے خارجہ کے خصوصی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے، اس خصوصی اجلاس میں افغان عوام کی مشکلات کو اجاگر کیا جائے گا اور ان کی مدد کے حوالے سے گفتگو ہوگی۔علاوہ ازیں راوی اربن ڈیولپمنٹ اٹھارٹی اور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ لاہور پروجیکٹ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اور راوی اربن ڈیولپمنٹ منصوبے لاہور اور ملک کے مستقبل کے لیے اہم ہیں۔ ان منصوبوں میں ماحول دوست مٹیریل کا استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گرین اربنائزیشن ماڈل ملک کے دوسرے شہروں میں بھی استعمال کیا جائے،ترقیاتی منصوبے شہریوں کی سہولت اور معاشی ترقی کے لیے شروع کیے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا حکومت غیر فعال اثاثوں کو سرمایہ کاری کے قابل بنا رہی ہے،منصوبوں میں رکاوٹیں ڈالنا اور ان کو سیاسی تنقید کا نشانہ بنانا بلا جواز ہے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی غیر قانونی تجاوزات اور غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے پہلے مرحلے میں 100 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
