ویب ڈیسک —
امریکی ایوانِ نمائندگان نے چین میں ایغور مسلمانوں سے زبردستی مشقت کے ذریعے بنوائی گئی مصنوعات کی درآمد پر پابندی لگانے کے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔
ایک سال سے زائد جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ‘ایغور فورسڈ لیبر پریوینشن ایکٹ’ کو منگل کو کانگریس نے پاس کر لیا ہے اور جلد ہی یہ امریکی سینیٹ اور صدر جو بائیڈن کے پاس بھیجا جائے گا۔
قانون بننے کے بعد اس بل کے تحت چینی صوبے سنکیانگ میں بننے والی تمام مصنوعات کی درآمد پر پابندی لگا دی جائے گی سوائے اس کے کہ کمپنیاں امریکی حکومت کو شفاف ثبوت فراہم کریں کہ ان کی مصنوعات کے بنانے میں کیمپوں میں قید ایغور مسلمانوں کی مزدوری کو استعمال نہیں کیا گیا۔
بیجنگ ان کیمپوں کو تعلیمِ نو کے مراکز کہتا ہے جن کا مقصد دہشت گردی سے نمٹنا ہے۔


وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہم کانگریس کے اس اقدام سے اتفاق کرتے ہیں کہ عوامی جمہوریہ چین کو نسل کشی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ملزم ٹھیرایا جائے اور سنکیانگ میں جبری مشقت کے مسئلے کو دیکھا جائے۔‘‘
اگلے برس بیجنگ میں ہونے والے سرمائی اولمپکس سے پہلے چین کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات پر احتساب کا سامنا ہے۔ امریکہ نے رواں برس کے آغاز میں چین کی جانب سے ایغور مسلمانوں کے ساتھ سلوک کو نسل کشی قرار دیا اور پچھلے ہفتے سرمائی اولمپکس کا سفارتی بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا۔
چین نے امریکی کانگریس میں منظور ہونے والے بل کی مذمت کی ہے اور بدھ کو امریکہ پر ‘منافقت’ کا الزام لگایا ہے جہاں بقول چین کے لوگوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے۔
چین کی دفتر خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے ایک بیان میں کہا کہ چین امریکی کانگریس کی جانب سے چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔
انہوں نے امریکی سیاست دانوں پر چین سے متعلق جھوٹ پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ چین کی ترقی کو سیاسی چالوں سے روک سکٰیں اور انسانی حقوق کے نام پر معاشی طور پر نقصان پہنچائیں۔


No media source currently available
انسانی حقوق کے گروپوں نے اس قانون سازی کی تعریف کی ہے اور اسے چین کی جانب سے ایغور مسلمانوں کے ساتھ سلوک سے نمٹنے کے لیے ایک اچھی پیش رفت قرار دیا ہے۔
ایغور ہیومن رائٹس پراجیکٹ کے سینئیر پروگرام آفیسر فار ایڈوکیسی اینڈ کمیونی کیشن پیٹر ارون نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا بھر کے لیے پیغام ہے کہ اس معاملے پر امریکہ اقدامات اٹھائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ دوسری حکومتوں کے لیے مثال ہے کہ وہ بھی ایسے ہی جبری مشقت کے خلاف قوانین کو منظور کریں۔ انہوں نے امریکہ کی طرف سے سفارتی بائیکاٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے سب سے پہلے یہ قدم اٹھایا جس پر دوسری حکومتوں نے بھی عمل کیا۔
