سعودی عرب میں غیرملکیوں کے 49 لاکھ ریال چوری کرنے والے 3 سی آئی ڈی افسران پکڑے گئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب نے ایک علاقے کے کریمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے 3 ملازمین کو 2 غیر ملکیوں کے 49 لاکھ ریال چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ نگران اور انسداد بدعنوانی اتھارٹی (نزاہہ) کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ایک علاقے کے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کریمنل انویسٹی گیشن ڈویژن کے 3 ملازمین اور ایک شہری کو وزارت داخلہ کے تعاون سے ایک عرب شہریت کے 2 باشندوں کو روک کر 4.9 ملین ریال کی چوری کرنے پر گرفتار کیا گیا۔واقعے کے بارے میں جاننے کے بعد نزاہہ اور وزارت داخلہ نے معاملے کی تحقیقات شروع کی اور مشتبہ افراد کی رہائش گاہوں اور گاڑیوں کی تلاشی لینے سے 3.44 ملین ریال اضافی برآمد ہوئے ، رہائشیوں کو ان فنڈز کے ذرائع کا ثبوت نہ ہونے پر بھی گرفتار کیا گیا۔بدعنوانی کے ایک اور کیس میں ایک شہری نے ایک رپورٹ جمع کرائی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گورنریٹس میں سے ایک میں انسداد منشیات کے محکمے میں کام کرنے والا ایک نان کمیشنڈ افسر اپنے خلاف جاری جعلی منی لانڈرنگ کیس کو عوام کے سامنے زیر التوا رکھنے کے عوض 10 لاکھ ریال کی درخواست کر رہا ہے۔دوسری جانب ریاض پولیس نے سوشل میڈیا پر غیر ملکی کرنسی کو ایکسچینج سے کم قیمت پر فروخت کرنے کا اشتہار دے کر لوگوں کو لوٹنے والے 5 شہریوں کو گرفتار کرلیا ، گرفتار کیے گئے افراد عوام کو کم قیمت پر کرنسی فروخت کرنے کا جھانسہ دے کر ان کی رقم ہتھیالیتے تھے۔ ترجمان ریاض ریجن پولیس نے کہا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد سعودی شہری ہیں ، جنہوں نے وارداتوں کے لیے ریاض شہر میں ایک اپارٹمنٹ حاصل کیا جو ان کے جرائم کا ٹھکانہ تھا ، جہاں تلاشی کے دوران متعدد غیر ملکی جعلی کرنسیاں بھی برآمد ہوئیں ، گرفتار شدگان پر دھوکہ دہی اور نا جائز طریقے سے لوگوں کی رقم پر قبضہ کرنے اور اپنے جرائم کو فروغ دینے کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر سائبر کرائم میں ملوث ہونے کے متعدد الزامات ہیں ، جن کی بناء پر ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔

