ٹوکیو (انٹرنیشنل ڈیسک) جاپان کی جانب سے کورونا وائرس سے متعلق ہنگامی صورتحال کے خاتمے کے باوجود ٹوکیو میں غیر مستقل ملازمین سمیت لوگوں کی ایک بڑی تعداد، نجی امدادی گروپوں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے مفت کھانوں پر انحصار کر رہی ہے۔ جاپانی خبررساں ادارے این ایچ کے نے ان گروپوں سے کھانا کھانے والوں کے متعلق سوالات کیے،جن میں سے 17 گروپوں نے سوالات کے جواب دیے۔8 گروپوں نے بتایا کہ مفت کھانا لینے والوں کی تعداد میں ستمبر کے اواخر سے اضافہ ہو رہا ہے، جب ہنگامی حالت ختم کی گئی تھی۔ صرف ایک گروپ نے کہا کہ ایسے لوگوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔ بعض تنظیموں نے کہا کہ ان افراد میں اضافے کی وجہ، غیر مستقل ملازمین کی آمدن میں کمی کا عرصہ طویل ہونا ہے۔ ایسے کئی افراد نے تنظیموں کو بتایا کہ ان کے کام کے اوقات میں کی جانے والی کمی اب بھی جاری ہے۔ مزدوروں کے معاملات کے ماہر اور ہوسے یونیورسٹی کے پروفیسر سکائی تداشی کہتے ہیں کہ کھانا لینے والے افراد کی تعداد میں اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی ملازمت پیشہ افراد کو اب بھی آمدن میں کمی کے باعث پریشانی کا سامنا ہے اور وہ ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیروزگاری کی شرح پر قابو پانے کے لیے حکومتی اعانت فراہم کیے جانے کی کوششوں کے باوجود ایسا ہو رہا ہے۔انہوں نے ایسے ملازمین کی فوری مدد کی ضرورت کی نشاندہی کی۔

