English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان ڈائری

القمر

سانحہ اے پی ایس میں چار گھرانے ایسے ہیں جن کے دو دو بیٹے اس سانحے میں شہید ہوئے۔ یہ ایک ایسا غم ہے جو کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ بچے سکول گئے تھے لیکن واپس نہیں آسکے۔ یہ دہشتگردی کتنے ہی گھرانوں کو اجاڑ گئ۔

.پندرہ سال کے شاویل طارق اور تیرہ سال کے نگیال طارق نے بھی اس سانحے میں جام شہادت نوش کیا.شاویل نویں کلاس اور نگیال آٹھویں کلاس کے طالب علم تھے.سانحے سے دو سال پہلے ہی دونوں کو اچھی تعلیمی سہولیات کے باعث آرمی پبلک سکول ورسک روڈ میں داخل کروایا گیا ۔ انکی بہن کہتی ہیں کہ گیارہ بجے کے قریب میری آنٹی کا فون آیا کہ اے پی ایس پر حملہ ہوگیا ہے .میرے دونوں چھوٹے بھائی تو خیریت سے گھر آگئے .لیکن ہمیں شاویل اور نگیال نہیں مل رہے تھے.پھر سی ایم ایچ میں شاویل اور اس سے تھوڑا دور نگیال کے جسد خاکی ملے۔

نور اللہ سیف اللہ دونوں بھائی آرمی پبلک سکول میں نویں کلاس اور آٹھویں کے طالب علم تھے۔ دونوں بہت پیارے اور شرارتی تھے ۔ پڑھائی کے ساتھ خوب کھیلتے اور شرارتیں کرتے۔دونوں بچپن سے ہی آرمی پبلک سکول و کالج ورسک روڈ میں زیر تعلیم تھے.انکو کو مسلح افواج میں جانے کا بہت شوق تھا نور کو بری فوج میں اور سیف کو پاک فضائیہ جوائین کرنے کا جنون کی حد تک شوق تھا.شہید طالب علموں کے اہل خانہ کہتے ہیں کہ ایسا کوئی دن نہیں گزرتا کہ وہ یاد نا آتے ہوں ہم  بس دعاگو ہیں اللہ تعالی سب والدین کو صبر دے۔

اس سانحے میں ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والے صوبیدار ر اکرام اللہ نے دو بیٹوں نے بھی جام شہادت نوش کیا ۔ ذیشان ۱۰ ویں کلاس میں تھے اور اویس ۸ ویں کے طالب علم تھے وہ دونوں پلے گروپ سے اے پی ایس کے طالب علم تھے اور دونوں ہی پڑھائی میں اچھے تھے ۔ اکرام اللہ کے خاندان نے بہت صبر سے اس دکھ کا سامنا کیا۔

اس ہی سانحے میں دو بھائی سید عبداللہ شاہ اورسید حسنین شاہ بھی شہید ہوئے انکے والد کے مطابق اب گھر ایک قبرستان کا سا سماں پیش کرتا ہے انکے جانے سے ہمارے گھر سے رونق چلی گئ اور ہم سب آج بھی روتے ہیں ۔ عبداللہ پوزیشن ہولڈر تھا اور ڈاکٹر بننا چاہتا تھا۔ دعا ہے کہ ایسا سانحہ پھر کبھی نا ہو اور اس ملک کے والدین پھر کبھی ایسا غم نا دیکھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے