English Al Qamar Urdu جون 21, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سعودی عرب کی تبلیغی جماعت پر پابندی اور ہمارے نیروؤں کی بانسری

القمر
پچھلے دنوں سعودی عرب کے وزارت اسلامی نے ایک اعلامیہ اپنے سوشل میڈیا پر جاری کیا جس میں انہوں نے آئمہ مساجد کو ہدایت جاری کی کہ وہ اپنے جمعے کہ خطبوں میں لوگوں کو تبلیغی جماعت سے خبردار کریں اور لوگوں کو روکیں کہ وہ اس جماعت میں شامل ہوں اوور بتایا جائے کہ اس جماعت پر پابندی لگ چکی ہے. تبلیغی جماعت کے خلاف سابقہ جمعے کے خطبات میں درج ذیل بیانات دہرائے گئے اور یہ بیانات کم و بیش سعودی عرب کی تمام مساجد میں جمعے کے خطبے میں دہرائے گئے
"سعودی عرب کا ملک ایک ہی جماعت اور راستے پر چل رہا تھا کہ باہر سے کچھ جماعتیں آئیں، اس ایک جماعت اور ایک مذہب پر چلنے والے لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کا (سعودی شہریوں) اتحاد پارہ پارہ ہو جائے۔ ان معروف جماعتوں میں سے ایک تبلیغی جماعت بھی ہے جو اپنے آپ کو اس ملک (سعودی عرب) میں احباب کے نام سے پکارتے ہیں۔‘’اس جماعت کی اصل ہند (برصغیر) میں ہے۔ جماعت تبلیغ پیغمبر اسلام کے کئی طریقوں کے مخالف چلتے ہیں۔
یہ جماعت بغیر علم کے دعوت کے لیے نکلتی ہے۔ یہ اللہ اور پیغمبر اسلام کے طریقے کے برخلاف ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس سے دہشت گرد گروپ بھی پیدا ہوئے۔ ان کے ساتھ چلنے والے لوگ علم کی کمی کا شکار ہو کر تکفیری جماعتوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔‘اسی وجہ سے دہشت گرد جماعتوں کے لوگ جو کہ یہاں (سعودی عرب) کی جیلوں میں بند ہیں، ان کے بارے میں تفتیش کی گئی تو پتا چلا کہ یہ پہلے تبلیغی جماعت میں شامل تھے۔ اس ملک (سعودی عرب) کی فتویٰ دینے والی کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ اس جماعت (تبلیغی جماعت یا احباب) کے ساتھ شریک ہونا جائز نہیں ہے۔‘ہم پر واجب ہے کہ ہم ان کی دعوت کو قبول نہ کریں۔ یہ جماعت اور اس جیسی جماعتیں ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیں گی۔ یہ کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔”۔
اگر ہم سعودی علماء کے افکار کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت ہم پر عیاں ہوتی ہے کہ موجودہ سعودی علماء درحقیقت ”محمد بن عبد الوہاب“ کے افکار و نظریات سے متاثر ہیں۔ اور انہیں ”شیخ الاسلام“ کا درجہ دیتے ان کی کتابوں کو تلاش کر کر کے اہتمام سے سرکاری سرپرستی او ر خرچ پر شائع کروا رہے ہیں یہاں تک کہ حاجیوں کو ان کی کتاب ”مختصر زاد المعاد“ (جو کہ ابن قیم کی کتاب کا اختصار ہے) مفت دی جاتی۔ ان کے نزدیک محمد بن عبد الوہاب ایک عظیم مصلح تھے انہوں نے عقیدہ توحید کی خوب اشاعت کی اور انہوں نے لوگوں کی اصلاح کے لیے خوب کام کیا۔ اور یہ کام صرف سعودی عرب میں نہیں ہوا بلکہ سعودی عرب نے یہی کام پاکستان میں ایکس پورٹ کر دیا۔ پاکستان میں جا بجا مدارس کی تعمیر کے لیے فنڈنگ کی گئی اور پھر اس اور اس جیسے کئی مذہبی گروہوں کو فنڈنگ کایک سلسلہ شروع کیا گیا جو تاحال بھی جاری ہے۔
پاکستان میں مذہبی سیاسی جماعتوں اور ان کے تحت کام کرنے والی خیراتی، رفاہی تنظیموں کے اثر و رسوخ کے باعث ایسا تاثر قائم کیا جا رہا ہے جیسے سعودی حکومت نے اچانک فیصلہ کر کے اقدامات کیے ہوں، یا سب کچھ محمد بن سلمان کے منصۂ شہود پر آنے سے ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن ناصرف سعودیہ میں پیدا ہوئے بلکہ انہوں نے جدہ کی کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ نائن الیون کے تاریخی واقعہ میں شریک انیس میں سے پندرہ ہائی جیکرز سعودی تھے۔القاعدہ نے سعودی حکومت کے خلاف اسی طرح جہادی سرگرمیاں جاری رکھیں جیسی تحریک طالبان پاکستان نے پاکستان میں کر رکھی ہیں۔ شاہ فہد اور شاہ عبداللہ کے ادوار میں آئے دن سعودی سیکورٹی فورسز پر دہشت گردوں کے حملوں کی خبریں آتی رہتی تھیں۔ بالآخر 2015 ء میں حکومت نے اسکولوں، کالجز، لائبریریوں اور مساجد سے جن مصنفین کی کتب ہٹانے کا حکم دیا ان میں سید قطب، حسن البناء، محمد القرضاوی اور مولانا مودودی شامل تھے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ ان میں مودودی اور قرضاوی کو خود سعودی حکومت نے شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا۔ اس اعلی ترین ایوارڈ جو محض اعزاز نہیں بلکہ خطیر انعامی رقم اور سعودی سرپرستی کی علامت کا مظہر سمجھا جاتا ہے کو پانے والے برصغیر میں جانے پہچانے ناموں میں دارالعلوم ندوة کے ابوالحسن ندوی، ڈاکٹر ذاکر نائیک اور پروفیسر خورشید احمد شامل ہیں۔ ان بزرگوں کی مساعیٔ جمیلہ سے دنیا بھر میں بین المذاہب اور بین التہذیبی مورچہ بندی کرائی گئی معلوم ہوتا ہے کہ اس میدان کارزار کو ٹھنڈا کرنے کی ندائے غیبی آ چکی ہے۔ مگر یہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سعودی عرب نے اپنے گھر کو تو صاف کرنا شروع کر دیا ہے مگر پاکستان کے 22 کروڑ  پاکستانی جنتی مسلمانوں کو یہ بات کچھ پسند نہیں آ رہی۔ پاکستانی لوگوں میں اور میڈیا میں ایک اشتعال سا برپا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ خدا کے احکامات کی خلاف ورزی ہے اور اسلام ان سب چیزوں کی اجازت نہیں دیتا۔
یہ بات تو طے کہ سعودی حکومت کی ترجیحات اب مختلف ہیں اور وہ اپنے ملک کو مستقبل میں ایک معتدل مزاج، لبرل اور سیکولر دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں کئی ایسے کام کئے ہیں جن پر وہ شرمندہ ہیں لیکن اب وہ دنیا میں اپنی تصویر بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے تو اذان کے وقت کاروبار بھی بند کرنا ختم کر دیا ہے۔ وہ ہلکے ہلکے مذہب اور مسجد کو سیاست اور ریاست سے دور کر رہے ہیں جو یورپ اور امریکہ نے کیا ہے اور جہاں صرف اتوار کو ہی چرچ جایا جاتا ہے۔ لیکن اخلاقی طور پر وہ کافر معاشرے عین اسلامی اصولوں کے مطابق اپنی عوام کو سہولیات میسر کر رہے ہیں مگر دوسری جانب جس معاشرے کو انہوں نے مذہب کی افیون کھلا کر پراکسی جنگ کا حصہ بنایا اس معاشرے کا کیا ہوگا؟ پاکستان یہ کب سوچے گا کہ ان کی سرزمین کو محض پراکسی وار کے لیے استعمال کیا گیا ہے اوراب اسے گندگی میں چھوڑ کر سعودی عرب اپنا گھر صاف کرنے چلا ہے مگر پاکستان کو جس آگ میں وہ دھکیل گیا وہ اب اس کا یہ چلمن پھونک کر ہی چھوڑے گی اور سعودی عرب کے اقدامات کے بعد بھی ہمارے نیرو بانسریاں بجا رہے ہیں۔
جمعتہ المبارک، 17 دسمبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post سعودی عرب کی تبلیغی جماعت پر پابندی اور ہمارے نیروؤں کی بانسری appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے