امریکی ایوان نمائندگان نے اسلاموفوبیا کے خلاف بل منظور کر لیاہے یہ بل امریکی ایوانِ نمائندگان کی مسلمان ڈیموکریٹ رکن الہان عمرنےپیش کیا تھا۔اسلاموفوبیا کے خلاف بل کے حق میں تمام ڈیموکریٹس ارکان کے 219 ووٹ آئے جبکہ تمام 212 ری پبلکن ارکان نے بل کی مخالفت میں ووٹ دیے۔ ابھی اس بل کو قانون میں تبدیل کرنے کے لیے سینٹ سے پاس ہونا ضروری ہے۔ اس بل کے قانون میں تبدیل ہونے کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کے تحت ایک خصوصی نمائندے کا تعین کیا جائے جو دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کے واقعات کو رپورٹ کر کے امریکی محکمہ خارجہ کے علم میں لائے۔اس نمائندے کی تعیناتی صدر کے ذریعے ہو گی اور واضح رہے کہ ایسا ہی ایک نمائندہ پہلے ہی امریکی محکمہ خارجہ میں موجود ہے جس کا کام عالمی سطح پر یہود مخالف واقعات کو رپورٹ کرنا ہے۔
مزید برآں اس نمائندے کی ذمہ داریوں میں مسلمانوں کے خلاف تشدد، مساجد ، مدارس اور سکولوں کو دنیا بھر میں مسمار کرنا اور دیگر امتیازی اقسام جیسا کہ امتیاز، ہراسگی اور تشدد پر ابھارنے جیسے معاملات کو بھی دیکھنا شامل ہوگا۔ اس بل کے مخالفین کا کہنا تھا کہ یہ بل اسلاموفوبیا کی تعریف پر پورا نہیں اترتا اور جائز تنقید کا رستہ روکنے کا سبب بنے گا۔ ذیل میں تین وجوہات ہیں جس کی بنا پر جمہوریت پسندوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔
نسل پرستانہ مذاق
گزشتہ ماہ ہاؤس میں ایک بحث کے دوران ، ایک ریپبلکن رکن لورین بوبیرٹ نے الہان عمر پر نسلی تعصب اور اسلامو فوبیا کے جملے کسے۔ بوبیرٹ نے مسلمان رکن کو مبینہ طور پر ‘جہاد اسکواڈ کی ایک خودکش بمبار‘ بھی قرار دیا۔اُن کا یہ کہنا تھا کہ وہ کانگریس کی ایک لفٹ میں الہان عمر کے قریب اس لیے محفوظ محسوس کر رہی تھیں کیونکہ مؤخر الذکر اپنا بیک پیک زمین پر رکھ کر کہیں بھاگ نہیں رہی تھیں۔ اس کے کچھ دن بعد رپبلکن نمائندہ مارجوری ٹیلر گرین نے الہان عمر کو ’جہادی‘ قرار دیا۔ اس کے جواب میں مسلمان خاتون رکن ایوان الہان عمر نے کہا کہ یہ کلمات ہنسنے کا جواز نہیں بلکہ ایک سنجیدہ رویے کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے ان کلمات کی ادائیگی پر مناسب تادیبی اقدام کا بھی مطالبہ کیا۔ الہان عمر نے یہ بھی کہا کہ کانگریس میں مسلم مخالف جذبات کے اظہار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ بل اسی ریمارک کے رد عمل کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
دنیا بھر میں مسلم مخالف جذبات میں اضافہ
رواں ہفتے الہان عمر نے ایوان نمائندگان میں تقریر کرتے ہوئے کہ کہ مسلمانوں کے تشدد اور امتیاز دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مارچ میں شائع ہونے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں ادارے کے مذہبی آزادی پر نمائندے احمد شہید نے کہا تھا کہ مسلم مخالفت نفرت کے جذبات اب وبائی رخ اختیار کر چکے ہیں انہوں نے اس حوالے سے 2018 اور 2019 میں یورپ میں ہونے والے سروے کا حوالہ دیا جس میں 10 میں 4 لوگ مسلمانوں کے خلاف نامناسب خیالات رکھتے ہیں۔ اپریل 2017 میں 30 فیصد امریکیوں نے مسلمانوں کو منفی رشنی میں دیکھا۔ اسی طرح 2017 میں میانمر جنتا نے ہزاروں کی تعداد میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم ڈھائے اورانہیں بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں ہجرت پر مجبور کر دیا۔ اس سال کےآغاز پر بھارت کی شمالی ریاست آسام میں مسلمانوں کو زبردستی اپنے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا۔
ٹرمپ کی مسلمان مخالف پابندیوں
امریکن اسلامک کونسل کی حالیہ رپورٹ کےمطابق 1000 سے زائد مسلمانوں کی 69 فیصد تعداد نے سرورے میں بتایا کہ ان کے ساتھ مععصبانہ اور امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ چاہے امریکہ ہو یا دیگر ممالک مسلمانوں کے خلاف امتیاز کے پیچھے ریاست کی حمایت ہوتی ہے۔ جب جو بائیڈں اقتدار میں آئے تو انہوں نے متنازعہ مسلم پابندی کا خاتمہ کیا۔ جب کہ بہت سارےلوگوں کا خیال ہے کہ دہائیوں پر مشتمل اس مسلم نفرت کو قومی سیکورٹی کےپردے میں استعمال کیاجاتا ہے۔
جمعتہ المبارک، 17 دسمبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post اسلاموفوبیا بل کی امریکی جمہوریت پسندوں کی جانب سے حمایت کی تین وجوہات: شفقنا بین الاقوامی appeared first on شفقنا اردو نیوز.
