مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں ایک یہودی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق واقعہ نابلس کے شمال میں حومش یہودی بستی کے قریب پیش آیااور گاڑی میں سوار نامعلوم افراد گولیاں برسا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ واقعے میں ایک آباد کار گردن میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا ،جب کہ دیگر 2کو معمولی زخم آئے۔ زخمیوں کی امداد کے لیے فوری طور پر فوجی ہیلی کاپٹر کو طلب کیا گیا،تاہم ایک زخمی دوران علاج دم توڑ گیا۔ واقعے کے بعد قابض فوج نے نابلس کے شمال مغرب میں کئی علاقوں میں ناکے لگا کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔ دوسری جانب قابض فوج نے غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل میں ایک فلسطینی بچے کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ۔عینی شاہدین نے بتایا کہ قابض فوجیوں نے زاہد کے علاقے میں مہند عمار مسک کو زدوکوب کیا اور اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی ۔ اس دوران بچے کی والدہ اور 2دیگر شہریوں نے اسے بچانے کی کوشش کی ،جس پر فوجیوں نے ان سے ہتک آمیز سلوک کیا۔ مغربی کنارے میں حماس کے میڈیا آفس کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ کے دوران قابض فوج اور آباد کاروں کی طرف سے 2341 انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی۔ آبادکاری کی مہم کے دوران حملوں کی تعداد 9 تک پہنچ گئی جس میں زمینوں کو لوٹنے اور مسمار کرنے، سڑکوں کی تعمیر، اور رہائشی عمارتوں کی تعمیر کی منظوری شامل تھی۔
