ویب ڈیسک —
کراچی کے علاقے شیر شاہ میں دھماکے سے 14 افراد ہلاک جب کہ ایک درجن سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں کراچی سے منتخب ہونے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکنِ قومی اسمبلی عالمگیر خان کے والد بھی شامل ہیں۔
شیرشاہ میں ہونے والے دھماکے سے متعلق بم ڈسپوزل حکام کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شیرشاہ میں پراچہ چوک پر ہونے والا دھماکہ سیوریج لائن میں گیس بھر جانے سے ہوا۔
دھماکے کے باعث نالے پر قائم دو منزلہ عمارت منہدم ہوگئی۔ جس کے گراؤنڈ فلور پر قائم بینک مکمل طور پر تباہ ہوگیا جب کہ قریب واقع پیٹرول پمپ، شو رومز اور دیگر آس پاس عمارتوں اور کھڑی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
حکام کا کہنا ہے کہ دو منزلہ عمارت غیر قانونی طور پر نالے پر قائم کی گئی تھی۔
دھماکہ کے بعد سول اسپتال کے ٹراما سینٹر اور برنس سینٹر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
سی ای او ٹراما سینٹر ڈاکٹر صابر میمن کے مطابق 10 افراد شدید زخمی ہیں جن کے سر اور سینے پر چوٹیں آئی ہیں۔ تمام افراد کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
وائس آف امریکہ کے نمائندے محمد ثاقب کے مطابق ملبے کو ہٹانے کے لئے بھاری مشینری کو بھی طلب کرنا پڑا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ بعض افراد کی لاشیں نالے سے ملیں۔
سائٹ پولیس کا کہنا ہے کہ 2 منزلہ عمارت نالے پر تعمیر کی گئی تھی، عمارت میں بینک اور دیگر دفاتر بھی موجود تھے۔
ہلاک ہونے والوں میں بینک میں تعینات تین ملازمین اور دو گارڈز کی بھی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ ہفتہ وار تعطیل ہونے کی وجہ سے بینک میں اسٹاف کم تھا اور پبلک ڈیلنگ نہیں ہورہی تھی۔
دھماکے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کار جائے وقوع پر پہنچے۔
امدادی اداروں کے کارکن بھی بھاری مشینری کے ساتھ دھماکے کے مقام پر پہنچ کر عمارت کے منہدم ہونے والے حصے کا ملبہ اٹھانے لگے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملبے کو ہٹانے کا عمل اب بھی جاری ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
ادھر کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن نے بتایا کہ واقعے میں دہشت گردی سمیت کسی قسم کی تخریب کاری کے شواہد ابھی تک نہیں ملے اور اب تک یہی معلوم ہوتا ہے کہ دھماکہ بند نالے پر گیس کے اخراج کی وجہ سے ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے اور تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی شیر شاہ دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی کو تفیصلی انکوائری کرنے کا حکم دیا۔
ترجمان وزیر اعلی’ ہاوس کا کہنا ہے کہ انکوائری میں پولیس کا افسر بھی شامل کیا جائے تاکہ ہر پہلو سے چھان بین ہوسکے۔
صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ دیکھا جائے گا کہ نالے پر عمارت کیسے بنا دی گئی۔ غیر قانونی تعمیرات پر ایکشن کیا جارہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ریسکیو کے دوران دوسرا دھماکہ بھی ہوا تاہم اس میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔
دھماکے کی جگہ کا دورہ کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ نالوں پر تعمیرات کے اصل ذمے دار تعمیرات کی اجازت دینے والے ہیں۔
سعید غنی کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے نالوں پر تعمیرات کرائیں ہیں وہ میں ہوں یا مصطفی کمال، کارروائی ہونی چاہیے۔
شیر شاہ دھماکے پر رد عمل دیتے ہوئے سوئی سدرن کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر گیس کے آثار نہیں ملے اور علاقے کی گیس سپلائی نارمل آ رہی ہے۔
سوئی سدرن کا کہنا ہے کہ دھماکے کو سوئی سدرن پائپ لائن سے نہیں جوڑا جا سکتا۔
یہ ابتدائی خبر ہے جس میں مزید معلومات تصدیق کے بعد شامل کی جا رہی ہیں۔
