English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسنیپ چیٹ اور انسٹا گرام کے بیوٹی فلٹرز کس طرح ہماری خوداعتمادی کو تباہ کررہے ہیں: شفقنا معاشرہ

القمر
ایک تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا ایپلی کیشنز تکمیلیت کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور نوجوان نسل کی انسانی نفسیات کو متاثر کرتی ہے حتی کہ انہیں خود کشی تک لے جاتی ہے۔ استنبول کی 19 سالہ طالبہ بیرا دیمر نے انسٹا گرام سیلفی لی تو فلٹرز نے اس کی بھوری آنکھوں کو نیلا کر دیا جس پر دیمر کا کہنا تھا کہ مجھے اس نیلی آنکھوں والے فلٹر سےنفرت ہے گویا بھوری آنکھیں بدصورتی کی علامت ہوں۔ جب دیمر سے سوال کی گیا کہ وہ فلٹر کے بغیر سیلفی لے لیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے چہرے کے فیچرز کے حوالے سے پر اعتماد نہیں ہیں۔ ان کا کہنا کہ عام حالت میں ان کی سیلفی خوبصورت نہیں آتی۔ دیمر کے جواب سے موجودہ دور کے مردوں اور عورتوں میں موجود اس پیچیدگی کا انکشاف ہوتا ہے جو موجودہ دور میں عام ہے۔ موجودہ دور میں ہر شخص سوشل میڈیا ایپلی کیشنز جیسا کہ انسٹا گرام، ٹک ٹاک یا سنیپ چیٹ پر اپنا فوٹولگا کر اپنی ذات کا اظہار کرتاہے۔ تاہم ان فوٹووں میں رنگت کی تبدیلی سے لے کر آنکھوں کی رنگت کی تبدیلی تک ہر چیز کو تبدیل کر کے لوگ اپنی اصل شخصیت کو چھپاتے ہیں۔
تھوڑا سا غور کریں کتے ہی قسم کے فلٹرز دستیاب ہیں، نیلی آنکھیں، چھوٹی آنکھیں،مکمل تراشا ہوا چہرہ، سمارٹ جسم، دہکتے رخساراور حتٰی کہ صنفی تبدیلی، اسکے علاوہ آج کل ایسے فلٹرز بھی آج گئےہیں جس میں آپ خود کو تصور کردہ دنیا میں پاتے ہو۔ سٹی یونیورسٹی لندن نے 175 نوجوان عورتوں اور مجرد زندگی گزارنے والے لوگوں کے بارے میں تحقیق کی جس میں معلوم ہوا کہ 90 فیصد افراد سوشل میڈیا پر اپنے فوٹو ڈالنے سے قبل ، اپنی جلد کی رنگت، اپنے جبڑوں اور ناک کو نئی شکل دینا ، اپنے دانتوں کو سفید دکھانا اور وزن میں کمی جیسی تبدیلیاں کرتے ہیں۔ دیمر کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں یہ حیران کن نہیں ہے کہ لوگ فلٹرز استعمال کرتے ہیں اور فیس ٹیون نامی ایپلی کیشن کے ذریعے اپنے چہرے میں تبدیلیاں کرتے ہیں۔
دیمر نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ نوجوان لڑکیا اور عورتیں اس خوف سے کہ لوگ انہیں پرکھیں گے اس لیے وہ سوشل میڈیا پر آنے سے قبل لامحالہ ایسی ایپلی کیشنز کی مدد لیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا ہم سب ایسا نہیں کرتے، جب آپ ایک تصویر لیتے ہیں تو آپ کسی بھی ایسے شخص کو کہتے ہیں کہ اس میں تبدیلی کر دیں جو اس کام میں ماہر ہوتاہے۔ ایک تحقیق کے مطابق بہت سارے افراد خاص طور پر نو عمر عورتیں معاشرے میں قبول کردہ شکل اختیار کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور اپنی فطری حسن کو پسند نہیں کرتیں۔سوشل میڈیا فلٹرز کی جانب سے عائد کردہ معیارات کی وجہ سے نسل نو عزت نفس کی کمی اور اپنی ذات پر عدم اطمینان کا شکار ہے۔

حقیقت بمقابلہ تخیل

اور اس سب میں خراب چیز یہ ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں ایسی ایپلی کیشنز کے خطرنات ذہنی اثرات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق فیس بک کی انسٹا گرام پر ایک اندرونی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ پرفیکشن فلٹرز نوجوان نسل کی ذہنی صحت خاص طور نوعمر لڑکیوں کے لیے انتہائی مضر اثرات رکھتے ہیں۔ ان سوشل میڈیا ویب سائٹس کا کہنا تھا کہ 60 فیصد لڑکیاں اس وقت پریشان ہوجاتی ہیں جب ان کا آن لائن ورژن ان سے میچ نہیں کرتادیمر کا کہنا تھا کہ جب وہ فلٹرڈ ہونٹوں کے ساتھ سیلفی لے ر انہیں شیشے میں دیکھتی ہوں تو میرا دل کرتا ہے میں انہیں تبدیل کردوں ۔ اس کے علاوہ وہ اپنی سیلفیوں میں اپنی ناک کو سیدھا کر دیتی ہیں۔
مزید برآں یہ فلٹرز اچھا کرنے کی بجائے زیادہ برا کرتے ہیں ، کسی بھی شخص کے امیج کو تبدیل کردیتے ہیں اور لڑکیوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ایپلی کیشنز کے مطابق اپنی شخصیت کو ڈھالیں۔ اور اس طرح کا دباؤ ذہنی تناؤ، کھانے میں عدم ترتیب اور حتٰی کہ خودکشی کے رحجانات پیداد کرتا ہے۔ نفسیاتی نکتہ نگاہ سے اسے پریشر ڈرون باڈی ڈسمارفک ڈس آرڈر یعنی بی ڈی ڈی کا نام دیا گیا ہے جو کہ ایک ذہنی بیماری ہے جس میں ایک شخص اپنی ظاہری حالت کے حوالے سے بہت زیادہ وقت تناؤ کا شکار رہتا ہے۔ مثال کے طور پر 13 فیصد برطانی صارفین اور 6 فیصد امریکن صارفیں کے حوالے سے پتا چلا ہے وہ انسٹا گرام پر خود کو قتل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔
دیمر کا کہنا تھا کہ وہ اپنا زیادہ وقت انسٹا گرام پر گزارتی ہیں اور انسٹا گرام وہ پرفیکٹ فاڈیز، چہرے اور زندگیاں دیکھتی ہیں اور ان کی عمر کی زیادہ لڑکیاں اسی طرح کے مشاغل پر انسٹا گرام پر وقت گزارتی ہیں خاص طور پر وبا کے دوران ۔ اس ایپلی کیشن پر آیا وہ دوسروں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں یا اپنے اور دوسروں کے ” لائکس” دیکھ کر وقت صرف کرتی ہیں۔ یہ چیزیں صرف نسل نو کو متاثر نہیں کر رہیں بلکہ بلکہ بچے اور بالغ اور ہر عمر کے افراد سوشل میڈیا کے زیر اثر ہیں اور اسی وجہ سے پلاسٹک سرجری جیسے رحجانات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سارے لوگ خود کو فلٹر کر کے اسے اپنی انسپائریشن قرار دے رہے ہیں۔
ہفتہ، 18 دسمبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post اسنیپ چیٹ اور انسٹا گرام کے بیوٹی فلٹرز کس طرح ہماری خوداعتمادی کو تباہ کررہے ہیں: شفقنا معاشرہ appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے