کیف (انٹرنیشنل ڈیسک) روس اور یوکرائن کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ،جب کہ یوکرائنی فوج نے روسی حمایت یافتہ گروپوں کی جانب سے حملے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یوکرائنی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ روس کے حمایت یافتہ گروپوں نے ہمارے ٹھکانوں پرحملہ کیا، جس میں ایک فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔ کشیدگی کے دوران رواں سال ہلاک ہونے والے یوکرائنی فوجیوں کی تعداد 65 ہوگئی۔ دونوں ممالک نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد سرحدوں پر جدید ہتھیاروں سے لیس فوجی اہلکار تعینات کردیے ہیں، جنہیں کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھرپور دفاع کرنے کا حکم جاری کیاگیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق روس نے یوکرائن کی سرحد پر ایک لاکھ فوجیوں کو تعینات کررکھا ہے ۔ امریکا ، یورپی ممالک سمیت دیگر نے الزام عائد کیا ہے کہ روس یوکرائن پر حملے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یوکرائنی فوج اور حکومت کی مدد کی جائے گی۔دوسری جانب روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ روس اور مغرب کو تعلقات کی تعمیر نو کے لیے نئے سرے سے آغاز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ برسوں کے دوران امریکا اور نیٹو کی طرف سے سلامتی کی صورتحال کو جارحانہ انداز میں بڑھانے کے لیے جو لائحہ عمل اختیار کیا گیا ہے وہ انتہائی خطرناک اور قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔انہوںنے مطالبہ کیا کہ نیٹو مشرقی یورپ سے فوجی انخلا کرکے وہاں نصب میزائلوں کو ہٹائے ۔ ریابکوف کا کہنا تھا کہ روس سال ختم ہونے سے پہلے مذاکرات شروع کرنے پر آمادہ ہے، اور بات چیت جنیوا میں شروع کی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ روس نے سیکورٹی امور پر نیٹو سے کئی مطالبات کیے ہیں، جس میں اس اتحاد میں توسیع نہ کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ روس اس پر فوری بات چیت چاہتا ہے، تاہم اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ نیٹو ماسکو کی فہرست تسلیم کر لے گا۔ ادھر امریکا کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں یورپ سے صلاح و مشورے کے بغیر مذاکرات نہیں کرے گا۔وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری جین ساکی نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ اس سلسلے میںہمارے یورپی اتحادیوں اور شراکت داروں کے بغیر یورپی سلامتی پر کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔
