کراچی:امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ 71فیصد گیس کی پیداوار والے صوبے کو صرف 40فیصد گیس کی فراہمی ظلم ہے ،کراچی کے تین کروڑ سے زائد شہریوں کو اور بھاری مقدار میں گیس فراہم کرنے والے صوبے کوفوری طور پر گیس فراہم کی جائے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 158کے مطابق جس صوبے میں گیس کی پیداوار ہوتی ہوپہلے وہاں کے لوگوں کو گیس فراہم کرنے کے بعد بقیہ صوبوں میں گیس دی جائے ، کراچی کی انڈسٹریزاور گھریلوصارفین کوگیس نہیں دی جارہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ شہری مارے مارے پھررہے ہیں جبکہ کے الیکٹرک، زرداری اور ان کے دوستوں کی فیکٹریوں کو گیس مسلسل مہیا کی جارہی ہے، پیپلزپارٹی وفاق میں پی ٹی آئی کے خلاف ہے لیکن گیس کے معاملے میں تمام پارٹیاں ملی ہوئی ہیں اور پرائیویٹ اداروں کو نوازرہی ہیں۔
حافظ نعیم نے کہا کہ کے الیکٹرک جیسا پرائیوٹ ادارہ سوئی سدرن گیس کمپنی کا134بلین روپے کا مقروض ہے ، کس معاہدے کے تحت کے الیکٹرک کو 70سے 100ایم ایم ڈی گیس فراہم کی جارہی ہے ؟،سوئی سدرن سرکاری ادارہ ہے جبکہ کے الیکٹرک ایک نجی ادارہ ہے جسے تمام حکومتوں نے سبسیڈی فراہم کی اور آج بھی انہیں نوازا جارہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اسی کمپنی سے بھتہ وصولی اور انتخابی کیمپئن چلائی جاتی ہیں، انڈسٹریز مالکان گیس نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں ،کراچی میں موسم سرما کا آغاز ہے اور ابھی سے ہی گیس کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے ،کراچی میں ایسی کئی انڈسٹریز ہیں جو گیس نہ ملنے کے باعث بند ہوگئیں ہیں جس میں سینکڑوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔

