نئی دہلی (اے پی پی)جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے خواتین کے لیے شادی کی قانونی عمر 21سال کرنے کے مودی حکومت کے اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مودی کابینہ نے حال ہی میں ایک نیا بل متعارف کرانے کی منظوری دی ہے جس کے تحت خواتین کی شادی کی قانونی عمر 18سے بڑھا کر 21 سال کرنے کے لیے بچوں کی شادی پر پابندی کے قانون 2006 (پی سی ایم اے ) میں ترمیم کی جائے گی۔جماعت اسلامی ہند کے امیرنے ایک بیان میں کہاکہ ہم نہیں سمجھتے کہ بھارت میں خواتین کے لیے شادی کی قانونی عمر کو بڑھا کر 21کرنا کوئی دانشمندانہ اقدام ہے۔ فی الحال عالمی اتفاق رائے ہے کہ خواتین کے لیے شادی کی قانونی عمر 18 سال ہونی چاہیے۔ بہت سے ترقی یافتہ ممالک سمیت زیادہ ترممالک میں اس کی پیروی کی جا رہی ہے۔ حکومت کو لگتا ہے کہ عمر 21 سال تک بڑھانے سے ماں بننے کی عمر میں اضافہ ہوگا، شرح پیدائش کم ہوگی اور ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت بہتر ہوگی۔ تاہم اعداد وشمار اس نقطہ نظر کی حمایت نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر غربت اور صحت کی دیکھ بھال تک ناقص رسائی موجودہ سطح پر رہتی ہے تو عمر کی حد میں اضافے کا صحت کے ان اشاریوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے بھارتی حکومت پر زوردیا کہ وہ جلد بازی میں قانون پاس نہ کرے بلکہ متعلقہ شعبوں کے ماہرین اور کمیونٹی لیڈروں کے ساتھ بات چیت شروع کرکے اس مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کرے۔
