اسلام آباد (این این آئی)اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے غیرمعمولی اجلاس کے بعد 31 نکاتی اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ افغان سرزمین کسی دہشت گردگروہ کے اڈے یابطورمحفوظ پناہ گاہ استعمال نہیں ہونی چاہیے۔اعلامیہ کے
مطابق اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم نے افغانستان پر زور دیا کہ وہ تمام دہشت گرد تنظیموں بالخصوص القاعدہ، داعش اور ان سے متعلق گروپس،ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور تحریک طالبان پاکستان کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھائے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ افغانستان اقوام متحدہ اوراوآئی سی کے منشورمیں درج اصولوں اور مقاصدکی پاسداری کرے۔اعلامیے کے مطابق افغان حکام تمام افغانوں بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کی معاشرے کے تمام شعبوں میں شمولیت کے لیے کام جاری رکھیں۔سیکرٹری جنرل او آئی سی کو کہا گیا کہ وہ بین الاقوامی اسلامک فقہ اکیڈمی کے علما کی سربراہی میں متعلقہ مذہبی اداروں اور علما کا ایک وفد تشکیل دیں جو افغانستان کے ساتھ برداشت، جدیدیت سمیت خواتین اور لڑکیوں کو اسلامی احکامات کے مطابق تعلیم کے یکساں مواقع کے بارے میں انگیج کریں۔اعلامیے میں او آئی سی نے افغانستان کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک میں خصوصی فنڈ کے قیام اور اس میں عطیات دینے کی اپیل بھی کی ہے۔اجلاس میں افغانستان میں فوڈ سیکورٹی پروگرام کے اجرا کا فیصلہ کیا گیا اورفوڈ سیکورٹی کے بارے میں اسلامک آرگنائزیشن کو اس حوالے سے ضروری کام کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔او آئی سی وزرائے خارجہ کے غیرمعمولی اجلاس میں افغانستان کی امداد کے لیے رقوم کے بڑے وعدے سامنے نہیں آئے ۔ڈیکلریشن میں افغانستان کے لیے سفارتکار طارق علی بخت کو او آئی سی کا خصوصی نمائندہ مقرر کرنے کا فیصلہ بھی ہوا اس حوالے سے افغانستان میں خصوصی نمائندے کا سیکرٹریٹ بھی کھولا جائے گا۔
