اسرائیلی فوج کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے فلسطینی شہریوں بالخصوص پتھرائو کرنے والوں کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں گولی مارنے کے نئے احکامات پر فلسطینیوں میں غم و غصے کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔
فائر ٹو کِل کے حوالے سے اسرائیلی فوج کی طرف سے منظور کی گئی نئی پالیسی نے فلسطینی اداروں اور عوام کو خوف میں ڈال دیا ہے۔نئی اسرائیلی پالیسی کے بعد فلسطینی شہریوں کی زندگیوں کے بارے میں عالمی برادری فکر مند ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو قابض افواج اور آباد کاروں کے طرز عمل کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں ان کے حوالے سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج کی کمان نے اپنے فوجیوں کو نئی ہدایات جاری کیں جن میں فوجیوں کو فلسطینیوں پر طاقت کے استعمال کو وسعت دی گئی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت پہلے سے بے لگام اسرائیلی فوجی نہتے فلسطینیوں پر بھی گولیاں چلا سکتے ہیں۔جبکہ اس سےقبل اسرائیلی فوج کی طرف سے ہدایات تھیں کہ فوجی صرف اس وقت گولی چلا سکتے ہیں جب انہیں جان کا خطرہ لاحق ہو۔
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق نئی ہدایات میں اسرائیلی فوجیوں کو فلسطینیوں پر پتھر پھینکنے والوں اور پٹرول بم پھینکنے والوں کوگولی مارنے کی اجازت دی گئی ہے۔علاوہ ازیں اسرائیلی فوجی اس وقت بھی ان پر گولی چلا سکتے ہیں جب وہ جائے وقوعہ سے نکل چکے ہوں۔
فلسطینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ نئی ہدایات قابض فوجیوں کو مزید فلسطینیوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کی اجازت دینے کے مترادف ہیں۔ فلسطینی حکام نے اسے متعلقہ بین الاقوامی حکام اور عدالتوں میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
فلسطینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں ان ہدایات پربہت سنجیدگی سے غور کرنے اورانہیں قابض فوج کے سپاہیوں کی خواہشات، مزاج اور اندازوں کے مطابق فلسطینی شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی مکمل آزادی دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔
بیان میں اسرائیلی فوج کے نئے اقدامات کو بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی پر مبنی اقدام قرار دیا گیا۔
The post فلسطینیوں کو قتل کرنے کیلیے غاصب اسرائیلی فوجیوں کے اختیارات میں توسیع،شہریوں میں اشتعال first appeared on Daily Jasarat News.
