طرابلس:جنگ زدہ لیبیا میں صدارتی امیدواروں کے ایک گروپ نے انتخابات کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گروپ نے انتخابی کمیشن پرزور دیا کہ وہمقررہ تاریخ پر انتخابات نہ ہونے کی وجوہات منکشف کرے۔
انھوں نے کمیشن سے انتخابی امیدواروں کی حتمی فہرست شائع کرنے کا مطالبہ کیا ۔انھوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ انتخابات میں تاخیر ناگزیرہے اور وہ اس بارے جلدسرکاری اعلان کی توقع کرتے ہیں۔متعدد مبصرین نے پولنگ میں تاخیرکی پیشین گوئی کی لیکن ووٹ سے چند روز قبل کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ۔
صدارتی انتخابات کے لیے جمعہ کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ان کا مقصد ایک عشرے سے ملک میں جاری تنازع کے بعد اقوام متحدہ کی نگرانی میں امن عمل کو آگے بڑھانا ہےلیکن ان انتخابات کی قانونی بنیاد پر گہری تقسیم پائی جاتی ہے اورممتاز امیدواروں کوعدالتی چیلنجوں کا سامنا ہوسکتاہے۔واضح رہے کہ لیبیا میں 2011 کے انقلاب کے بعد گذشتہ ایک دہائی کے دوران میں خانہ جنگی جاری ہے۔لیبیا میں اکتوبر2020 میں تاریخی جنگ بندی ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے گذشتہ ایک سال کے دوران میں حالات نسبتا پرسکون رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کثیرالجہت امن کوششوں کے حصے کے طور پرانتخابات کے انعقاد پرزور دے رہی ہے۔لیکن ایک متنازع انتخابی قانون اور اگلی حکومت کے اختیارات پراتفاق نہ ہونے کی وجہ سے امن عمل میں کئی رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔مشرقی شہر بنغازی سے تعلق رکھنے والے فوجی جنرل خلیفہ حفتر اورسابق مقتول حکمران کرنل معمر القذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کی امیدواری نے حریف کیمپوں کی خاص مخالفت کو جنم دیا ہے۔لیبیا میں ہزاروں غیر ملکی جنگجوں سمیت درجنوں مسلح گروہ موجود ہیں۔ملک کے بہت سے علاقے ان کے کنٹرول میں ہیں۔اس صورت حال میں تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی تیزی سے نازک ہوتی جارہی ہے۔

