English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

شامیوں کو ہیش ٹیگ کی نہیں سر چھپانے کے لئے گھر کی ضرورت ہے: فریدون سنر لی اولو

القمر

ترکی کے اقوام متحدہ کے لئے مستقل نمائندے فریدون سنرلی اولو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” ہیش ٹیگ لگانا اچھا ہے لیکن سر چھپانے کے لئے ایک گھر زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہم شامی عوام کی آخری امید ہیں”۔

سنر لی اولو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا ہے کہ سیاسی مرحلے میں تاخیر نے شامی عوام کے مصائب اور ضروریات دونوں میں اضافہ کیا ہے۔ آئینی کمیٹی کے اگلے مذاکرات کا ہر ممکنہ حد تک جلد منعقدہ ہونا اور اس مذاکراتی مرحلے سے کوئی ٹھوس نتیجہ نکلنا ضروری ہے۔

شامی بحران کے حل میں سلامتی کونسل کی ناکامی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ” ہیش ٹیگ لگانا اچھا ہے لیکن سر چھپانے کے لئے ایک گھر کا ہونا زیادہ ضروری ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ تاریخ اس کونسل کو ہیش ٹیگ نسل کے لقب سے نہیں یاد کرے گی۔ ہم ہر مہینے اس کونسل میں آتے ہیں اور ٹویٹ کر کے واپس لوٹ جاتے ہیں۔ اگلے مہینے دوبارہ اسی عمل کو دہراتے ہیں۔ میں اپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہم شامی عوام کی آخری امید ہیں۔ کیا ہم صرف ایک ہش ٹیگ ہی لگا سکتے ہیں؟ نئے سال کے فیصلوں کے بارے میں ٹویٹ کرنے کی بجائے شامی عوام کے لئے حقیقی معنوں میں کچھ اچھا کیا جا سکتا ہے”۔

سنر لی اولو نے کہا ہے کہ شام کی صورتحال دہشت گرد تنظیموں کو پھلنے پھولنے کے لئے بھی سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے۔

دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف جدوجہد کے بھیس میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK/YPG کے ساتھ تعاون کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ ایک دہشت گرد تنظیم کے خلاف دوسری دہشت گرد تنظیم کے ساتھ طویل المدت تعاون کبھی سود مند نہیں ہو سکتا۔ اس بات سے متنبہ کرنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ داعش کے خلاف جدوجہد کے بھیس میں ہشت گرد تنظیم پی کے کے کی شاخوں کے ساتھ تعاون کر کے آپ اپنا مطلوبہ نتیجہ حاصل نہیں کر سکیں گے”۔

فریدون سنرلی اولو نے کہا ہے کہ میں اقوام متحدہ کے رکن تمام ممالک سے کہنا چاہتا ہوں کہ دہشت گرد تنظیموں کے سرغناوں کے لئے سُرخ قالین بچھاتے وقت احتیاط سے کام لیں۔ آپ ان سرغناوں کے ساتھ تعاون کر کے دہشت گردی کو جائز حیثیت دے رہے ہیں۔ یہ سرخ قالین جو آپ دہشت گردوں کے قدموں تلے بچھا رہے ہیں بہت جلد خون میں لت پت ہو سکتے ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ آپ اپنے ہاتھوں پر معصوم شامیوں کا خون دیکھنا چاہیں گے”۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے