نائجر کے وزیر اعظم اوہو مودو محمودونے کہاہے کہ ان کے ملک کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ترکی کے تجربات اور فوجی سازو سامان کی ضرورت ہے۔
نائجر صدر محمودو نے یہ بات استنبول میں پریس بریفنگ میں کہی جہاں پر وہ "تیسری ترکی-افریقہ پارٹنرشپ سمٹ” کے لیے آئے تھے۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی کے سرمایہ کاروں نے حال ہی میں نائیجر کے ساتھ ساتھ ترک اداروں میں بھی سرمایہ کاری کرنا شروع کی ہے، محمودو نے کہا کہ ان کے ملک میں نائجر-ترک فرینڈشپ ہسپتال بھی ہے اور وہ ترکی کے ساتھ تعاون سے بہت خوش ہیں۔
انہوں نے معلومات کا اشتراک کرتے ہوئے کہا کہ ایک منصوبہ جس میں ترک حکومت اور کمپنیوں کے ساتھ بہت سے مختلف شعبوں میں تعاون کا تصور ہے، اس وقت مذاکرات کی میز پر ہے۔
صدر نے بتایا کہ "سیکیورٹی، زراعت اور صنعت ان تعاون کے شعبوں میں سب سے آگے ہیں۔ صنعت کے شعبے میں ترک کمپنیوں کے لیےفری زون کا موقع بھی دیا جا سکتا ہے۔ جب کہ ہم تعاون کے شعبوں کو متنوع بنانا چاہتے ہیں، ہم فی الحال تعلیمی ، حفظان صحت اور انسانی امداد جیسے شعبوں میں اپنا تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں ۔”
