English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ڈیل ڈن ہوچکی ہے

القمر
سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ن لیگ کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار سے متعلق سوال کا جواب دے دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز سے پوچھا گیا کہ وزارت عظمیٰ کےلیے ن لیگ کے اگلے امیدوار کون ہوں گے؟ ن لیگی نائب صدر نے جواب دیا کہ جب وقت آئے تو جماعت فیصلہ کرے گی اور اس حوالے سے حتمی اختیار پارٹی قائد نواز شریف کے پاس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف ہماری پارٹی کے صدر ہیں، انتہائی سینئر ہیں، وزیر اعظم کے عہدے کے لئے وہ سب سے آگے ہیں۔مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم کے فیصلے کا اختیار نواز شریف کے پاس ہے، ہم سب شہباز شریف کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور ان کی سپورٹ کریں گے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنااللہ نے جیونیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر مریم نواز کی نااہلی ختم ہوگئی تب بھی (ن) لیگ کی جانب سے وزیراعظم بننے کی دوڑ میں سب سے آگے شہباز شریف ہی ہوں گے۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت بیک ڈور ڈپلومیسی پر کام کر رہی ہے، اس لئے اب میاں نواز شریف کی واپسی کی بازگشت سنائی دینا شروع ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیات سمجھتی ہے کہ اگر وہ عوام سے دور رہے تو الیکشن میں کامیابی مشکل ہوجائے گی کیونکہ وہ گذشتہ 5 سال سے حکومت سے باہر ہے۔ اب ان کی یہی حکمت عملی نظر آتی ہے کہ وہ بھرپور طریقے سے انتخابات میں جا کر اقتدار میں واپس آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کبھی تحریک عدم نہیں لائیں گے کیونکہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ غیر یقینی کی صورتحال رہی تو مزید مسائل جنم لے سکتے ہیں، وہ اس سے اجتناب کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب عمران خان اپنی مقررہ مدت سے ایک منٹ پہلے تک اقتدار بھی نہیں چھوڑیں گے اور وقت پر ہی انتخابات کروائیں گے۔
سیاسی حلقوں میں یہ افواہ گردش کر رہی ہے کہ بالآخر میاں نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ سے ”ڈیل“ ہو گئی ہے معلوم نہیں اس افواہ میں کس قدر حقیقت ہے تاہم ڈیل ہر سیاسی محفل کا موضوع گفتگو ہے۔تاہم اس ڈیل بارے میں تین چار مسلم لیگی لیڈروں (نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز اور اسحق ڈار) کے سوا کسی کو کچھ علم نہیں کہ ”ہنڈیا“ میں کیا پک رہا ہے میاں نواز شریف بھی پیٹ کے ہلکے نہیں کہ وہ ہر کسی کو رازدان بنا لیں لہذا ان سے کوئی بات اگلوانا کار دارد۔ یہی کیفیت ان کے سابق ”دوست“ چوہدری نثار علی خان کی ہے جو اتنی جلدی اپنی مٹھی نہیں کھولتے۔ میاں نواز شریف، چوہدری نثار علی خان، میاں شہباز شریف اور اسحق ڈار پر مشتمل ”سپرا کچن کیبنٹ“ ہوا کرتی تھی چاروں جو فیصلہ کر لیتے تھے تو کسی کو ہوا نہیں لگنے دیتے تھے۔
میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے بارے میں برملا یہ بات کہی جاتی ہے دونوں فوج کی ”گڈ بک“ میں ہیں دونوں فوج سے ڈیل کرنے کی شہرت رکھتے ہیں نواز شریف اور فوج کے درمیان خوشگوار تعلقات کا قیام ان کا ایجنڈا رہا ہے لیکن جب بھی میاں نواز شریف نے ان دو قریبی ساتھیوں کو ”بائی پاس“ کر کے کوئی بڑا فیصلہ کیا تو وہ اس کے نتیجے میں آئین کا آرٹیکل ( 2 ( 58 کی زد میں آ گئے یا پھر پرویزی مارشل لاء لگ گیا۔ پانامہ سکینڈل تو دور کی بات نہیں اگر بقول بریگیڈئیر اعجاز شاہ مسلم لیگ والے ہماری بات مان لیتے تو آج مسلم لیگ کی ہی حکومت ہوتی۔ سوال یہ ہے کیا میاں نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کا ”مائنس ون“ کا فارمولہ قبول کر لیا ہے اس بارے میں مسلم لیگی قیادت نے پر اسرار طور پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے کوئی مسلم لیگی لیڈر اس معاملہ پر زبان کھولنے کے لئے تیار نہیں۔
جب بھی مسلم لیگ (ن) کی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ہوتی یا ان بن ہو جاتی تو میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان پر مشتمل جوڑی کی راولپنڈی آمد و رفت تیز ہو جاتی چوہدری نثار علی خان کو اپنے عسکری پس منظر پر ناز ہے یہی وجہ ہے وہ اپنے اس پس منظر کو خوب کیش کراتے اور معاملہ طے کروا لیتے لیکن جب سے چوہدری نثار علی خان، میاں نواز شریف سے ”کٹی“ کر چکری میں جا بیٹھے ہیں نواز شریف کا کیس لڑنے والا کوئی نہ رہا میاں شہباز شریف بھی اکیلے رہ گئے ہیں انہیں راولپنڈی کے ”چکر“ لگانے کی دو بار سزا بھی مل چکی ہے 6، 6 ماہ کی قید کے بعد ان کو ضمانت پر رہائی ملی تو انہوں نے راولپنڈی میں ایک غیر سیاسی اور ریٹائرڈ زندگی گزارنے والی ”شخصیت“ سے ملاقات کر کے ڈیل کی راہ ہموار کر لی۔
شنید ہے میاں شہباز شریف نے یہ ملاقات میاں نواز شریف کی آشیر باد سے کی ہے۔ یہ شخصیت ڈیل کو حتمی شکل دینے کے لئے لندن گئی اور میاں نواز شریف سے طویل ملاقات کی اس ملاقات میں کیا طے پایا ہے کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی لیکن لندن سے آنے والی ٹھنڈی ہوائیں ڈیل کا پیغام دے رہی ہیں۔ میاں نواز شریف جو گاہے بگاہے اسٹیبلشمنٹ کو ”ووٹ کو عزت دو“ کا درس دیتے رہتے ہیں کی ”خاموشی“ بھی ممکنہ ڈیل کی تصدیق کرتی ہے جب میں نے جج ارشد ملک فیم مسلم لیگی رہنما ناصر بٹ جو ہر وقت نواز شریف کے ساتھ سائے کی طرح رہتے ہیں سے ڈیل بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا تاہم ان کا اصرار ہے کہ میاں نواز شریف ”ووٹ کو عزت دو“ کے بیانیہ سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک پریس کانفرنس میں یہ کہہ کر سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف ہی وزارت عظمی کے لئے امیدوار ہوں گے ۔ اب اس بات کی کسی حد تک تصدیق مریم نواز کے بیان سے بھی ہوسکتی ہے کہ میاں شہباز شریف سینیر ہیں اور وزارت عظمٰی کے اہل ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ ڈیل ڈن ہوچکی ہے۔
بدھ، 22 دسمبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post ڈیل ڈن ہوچکی ہے appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے