ویب ڈیسک —
امریکہ میں سامنے آنے والے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کرونا وائرس کے پہلے برس آبادی کی شرح میں اضافہ تاریخ کی کم ترین سطح پر رہا ہے۔
ملک میں رواں برس تارکین وطن کی آمد میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ بہت سی خواتین کی زچگیوں میں تاخیر ہوئی جب کہ لاکھوں افراد وبا کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔
امریکہ سینسِز بیورو کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2020 سے جولائی 2021 کے دوران ملک کی آبادی محض 0.1 فی صد کے اضافے کے ساتھ 33 کروڑ 18 لاکھ رہی۔ اس عرصے میں ملک کی آبادی میں تین لاکھ 92 ہزار 665 نفوس کا اضافہ ہوا۔
خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق 1937 کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ملک کی آبادی میں اضافے کی شرح 10 لاکھ افراد سے بھی کم ہے۔


امریکہ میں تھنک ٹینک بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے میٹرو پولیٹن پالیسی پروگرام کے سینئر فیلو ولیم فرے نے ‘اے پی’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کم شرح نمو کی امید تھی البتہ اتنی کم کی نہیں۔ ان کے مطابق اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ وبا کا امریکہ پر ہر طرح سے اثر ہوا ہے۔
‘اے پی’ کے مطابق وبا پر کنٹرول کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی تعداد میں تو کمی واقع ہو جائے گی البتہ ملک کی آبادی کی شرح نمو بڑھنے میں وقت لگے گا۔ کیوں کہ ملک میں گزشتہ کچھ برس سے پیدائش کی شرح میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
ولیم فرے کے مطابق ایسی صورت میں ملک کو نوجوان تارکینِ وطن کی خدمات کی ضرورت رہے گی جو یہاں کام کریں اور ان کے ٹیکس سے سوشل سیکیورٹی جیسے اہم پروگرام چل سکیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی آبادی اوسطاً قدرے بڑی عمر کی ہے اور بہت کم نوجوان بچے پیدا کرنے کی جانب مائل ہیں۔
نیویارک یونیورسٹی میں پروفیسر لِنڈا کان نے بات کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان خاندانوں کی جانب سے بچے پیدا نہ کرنے کے فیصلے کی وجوہات میں کافی حد تک مالی مسائل اور صحت کے خدشات شامل ہیں۔
لِنڈا کان ایک تحقیق کی سربراہ تھیں جس میں یہ جائزہ لیا گیا کہ نیویارک میں ایسی خواتین جو مارچ 2020 میں کرونا وبا کے امریکہ میں پھیلنے سے قبل ماں بننے کا سوچ رہی تھیں، ان میں سے نصف خواتین نے وبا کے پھیلاؤ کے چند ماہ بعد ارادہ تبدیل کر لیا تھا۔


No media source currently available
ان کے بقول ہمارے نظام کے لیے کرونا وائرس ایک امتحان تھا کہ کیسے یہ خواتین اور خاندانوں کی مدد میں ناکام ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وبا کے دوران خواتین کو زیادہ نقصان ہوا۔ زیادہ تر خواتین کو بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑا جس میں ایک وجہ بچوں کو گھروں میں پڑھانا بھی تھا۔
ان کے بقول عورتوں کے لیے امریکہ میں کوئی محفوظ نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔
یاد رہے کہ یہ اندازے ملک میں بچوں کی پیدائش، اموات اور تارکینِ وطن کی آمد کے اعداد و شمار کو دیکھ کر لگائے گئے ہیں۔
اس رپورٹ میں شامل معلومات خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ سے لی گئی ہیں۔
