English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ترکی نے ایتھوپیا کو ڈرون کیوں بیچے؟دنیا بھر میں ڈرون سے دہشتگردی پھیلانے والے امریکا کو تشویش

امریکی حکام نے ترکی کے ساتھ ایتھوپیا کو مسلح ڈرونز کی فروخت کا معاملہ اٹھایا ہے اور اس سودے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایتھوپیا سے ایسے شواہد ملے ہیں کہ وہاں حکومت نےباغی جنگجوؤں کے خلاف ڈرون سمیت ہتھیاراستعمال کیے ہیں۔تاہم ترکی نے امریکاکی اس تنقید کومسترد کر دیا ہے کہ وہ افریقامیں تخریبی کردار ادا کرتا ہے.

ایک سینئر مغربی عہدہ دار نے کہا کہ واشنگٹن کو ڈرونز کی فروخت پر’’گہرے انسانی خدشات‘‘ لاحق ہیں اور یہ ادیس ابابا پر عاید امریکا کی اسلحہ فروخت کی پابندیوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آسکتے ہیں۔ایتھوپیا کی حکومت اور شمالی خطے تیغرائی کی قیادت کے درمیان ایک سال سے جاری جنگ میں ہزاروں شہری ہلاک اورلاکھوں بے گھرہو چکے ہیں۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ امریکا کے ہارن آف افریقا کے لیے ایلچی جیفری فیلٹمین نے گزشتہ ہفتے ترکی کے دورے کے موقع پرایتھوپیا میں مسلح ڈرون کے استعمال اور شہری نقصانات کے خطرے کی اطلاعات پر بات کی ہے۔ترکی کے ایک سینیرعہدہ دار نے بھی تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن نے چند اجلاسوں میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

البتہ ترکی نے امریکاکی اس تنقید کومسترد کر دیا ہے کہ وہ افریقامیں تخریبی کردار ادا کرتا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایتھوپیا میں تمام فریقوں کے درمیان مذاکرات پر زور دے رہا ہے اور اس مقصد کے لیے ان سے رابطے میں ہے۔واضح رہے کہ ترکی اس وقت یورپ، افریقااور ایشیا کے متعدد ممالک کو ڈرون فروخت کر رہا ہے اور دنیا بھر میں ڈرون ٹیکنالوجی کے حوالے سے معتبر سمجھاجانے لگاہے.

گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ نے ایتھوپیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کے کمیشن کے قیام پر اتفاق کیا تھا مگر اس ملک کی حکومت نے اس تجویز کی سخت مخالفت کی تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے مئی میں ایتھوپیا کی مسلح افواج کے لیے دفاعی مصنوعات کی برآمدات پر پابندی عاید کردی تھی۔ستمبر میں وائٹ ہاؤس نے بالواسطہ طور پر بھی ان پالیسیوں پر پابندیوں کا اختیاردیا تھا جن سے اس ملک کے استحکام کو خطرہ ہے یا بحران میں توسیع ہوگی یا وہاں انسانی امداد میں خلل پڑے گا، حالانکہ ترکی کے خلاف اس طرح کے کسی قریبی اقدام کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے انکارکیا ہے کہ آیا پابندیوں کا اطلاق ترکی پر ہوسکتا ہے۔ایک سینیر ترک عہدہ دار کے بہ قول وزارت خارجہ نے اس بات کا جائزہ لیا ہےکہ 2022ء کے بجٹ کی منصوبہ بندی کے حصے کے طور پر ڈرون کی فروخت امریکی خارجہ پالیسی پر کس طرح اثرانداز ہوسکتی ہے۔

عہدے دار کا مزید کہنا تھا کہ امریکا نے ترکی کی ڈرون فروخت سے اپنی بے چینی کا اظہار کیا ہے لیکن ترکی اس علاقے میں طے شدہ پالیسیوں پر عمل کرتا رہے گا.

وزارت دفاع سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے سینیر ترک عہدہ دار نے کہاکہ انقرہ کا کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے