English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان کی خارجہ پالیسی کیا ہے؟

القمر
عمران خان نے حال ہی میں اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ نائن الیون میں کوئی افغان شہری ملوث نہیں تھا لیکن افغانستان پرامریکہ کی مسلط کردہ جنگ ایک جنونی عمل تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے افغانستان میں نام نہاد جنگ کے نام پر بیس سال تک قبضہ کیے رکھا، سمجھ نہیں آیا امریکی افغانستان میں کیا اہداف حاصل کرنا چاہتے تھے، افغانستان کے ایک کروڑ 40 لاکھ عوام امداد کی منتظر ہیں اور امریکہ کو اب افغان عوام کا ساتھ چھوڑنا نہیں چاہیے۔ انہوں نے سابقہ حکمرانوں پر عوام کی بجائے ڈالروں کی محبت میں افغان جنگ کا حصہ بننے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں چونکہ بیس برس پہلے فیصلے کرنے والے لوگوں کے قریب تھا ، اس لئے میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ افغان جنگ میں حصہ لینے کافیصلہ ڈالروں کے لئے کیا گیا تھا ۔ اس موقع پر پاکستانی عوام کی فلاح پیش نظر نہیں تھی‘۔
یوں تو وزیر اعظم نے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں امریکہ کا حلیف بننے کے بارے میں ماضی کی غلط پالیسیوں پر پہلی بار تنقید نہیں کی۔ وہ اس سے پہلے بھی امریکہ کا ساتھ دینے اور افغانستان میں القاعدہ کے خلاف امریکی جنگ میں تعاون کے معاملہ پر نکتہ چینی کرتے رہے ہیں۔ بلکہ اقتدار میں آنے سے پہلے انہوں نے افغان طالبان کی مسلسل حمایت میں ایسا سیاسی مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں ’طالبان خان‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا رہا ہے۔ تاہم افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور طالبان کے ساتھ معاہدہ کا حوالہ دیتے ہوئے عمران خان ایک بار پھر خود کو درست ثابت کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں کہ وہ تو ہمیشہ سے ہی بات چیت کرنے اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے تنازعات ختم کرنے کی بات کرتے تھے جس کی پاداش میں انہیں طالبان خان کہا جاتا تھا حالانکہ وہ پہلے بھی درست تھے اور اب بھی ٹھیک کہہ رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے دو روز پہلے اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ ’وہ تو آج تک یہی نہیں سمجھ سکے کہ امریکہ افغانستان میں بیس برس تک کون سے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا تھا‘۔ آج امریکہ پر ڈالروں کے عوض پاکستانی لیڈروں کی ’وفاداریاں ‘ خریدنے کا الزام لگاتے ہوئے اسی مؤقف کو دہرانے کے علاوہ یہ بتایا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے برسر اقتدار آنے سے پہلے پاکستان کی ہر حکومت نے اپنے قومی مفاد کی بجائے غیر ملکی یا دوسرے لفظوں میں امریکی مفاد کی خدمت گزاری کی ہے۔ اب عمران خان نے بطور وزیر اعظم اس چلن کو تبدیل کیا ہے اور اس طرح پاکستان کا وقار دنیا بھر میں پھر سے بلند ہونے لگا ہے۔ یہ بحث بھی بے مقصد ہوگی کہ قومی وقار اور سفارتی کامیابی کو ماپنے کا کون سا پیمانہ عمران خان کے دعوؤں کا احاطہ کرنے کے لئے درکار ہوگا۔ البتہ یہ جاننا چاہئے کہ پاکستان اور موجودہ حالات میں تحریک انصاف کی پاکستانی حکومت سفارتی، معاشی اور سیاسی کامیابی کے لئے واشنگٹن کی نظر کرم کی محتاج ہے۔
جہاں تک خارجہ تعلقات کا معاملہ ہے تو پاکستان کی خارجہ پالیسی افغانستان کے گرد گھومتی ہے۔ پاکستان اس وقت افغانستان سے قحط اور بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر گھر چھوڑنے والے پناہ گزینوں سے بچنے کے لئے ہی امریکہ کو قائل کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ وہاں پیدا ہونے والا انسانی بحران علاقے اور دنیا کے لئے خطرناک ہوسکتا ہے۔ گویا اس معاملہ میں بھی اسے واشنگٹن کی امداد چاہئے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات اور کشمیر کے سوال پر کسی بریک تھرو کے لئے بھی امریکی دوستی پاکستان کے لئے کلیدی اہمیت کی حامل ہوگی۔ ملکی معیشت و سیاست کی بنیاد اس وقت سی پیک کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس منصوبہ کی مناسب طریقے سے تکمیل اور اس کے ثمرات سمیٹنے کے لئے بھی اسے واشنگٹن کو راضی کرنا پڑے گا کہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کسی بھی طرح امریکی مفادات اور سلامتی کے لئے خطرہ نہیں ہوں گے۔
امریکا کی نئی ترجیحات اور عزائم کی روشنی میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے معماروں اور نگہبانوں کو ایک راہ کا تعین کرنا پڑے گا۔ جمہوریتوں اور آمریتوں کے مقابلے میں پاکستان کو کسی ایک گروپ کا انتخاب کرنا ہے یا غیر جانبداری اپنا کر پوری دنیا کے ساتھ مل کر ترقی کی راہ اپنانی ہے جس کا فیصلہ کرنا ابھی باقی ہے لیکن خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے ذمہ داروں کی طرف سے یکسوئی بھی نظر نہیں آتی۔ ایک طرف وہ چین کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہشمند ہیں اور دوسری طرف وہ جمہوری سربراہ کانفرنس کے دعوت نامے کو بھی ٹھکراتے دکھائی دیتے ہیں اور تیسری جانب وہ افغانستان میں امریکی مدد کے خواہاں بھی ہیں۔
اس وقت نہ تو وزارت خارجہ کو سمجھ آرہی ہے اور نہ ہی عمران خان کو آخر ان کی خارجہ پالیسی ہے کیا؟ کیا پاکستان نے روس اور چینی بلاک میں جانے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر پاکستان کو آئی ایم ایف کو خیرباد کہنا ہوگا اور پھر فٹیف کا معاملہ بھی یقینی طور پ لٹک جائےگا۔ عمران خان ایک طرف تو بائیڈن کے فون کے انتظار میں ہیں اور دوسری جانب وہ امریکہ کو استحصالی قوت بھی قرار دیتے ہیں۔ کیا یہ کامیاب خارجہ پالیسی ہوسکتی ہے؟
جمعرات، 23 دسمبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post پاکستان کی خارجہ پالیسی کیا ہے؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے