English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکہ میں ٹرک ڈرائیور کو 110 برس کی قید، معافی کے لیے بھی مہم جاری

امریکہ کی ریاست کولاراڈو کے شہر ڈینور میں ایک ٹرک ڈرائیور کو 110 برس قید کی سزا دینے پر قریبی رشتے داروں، قانون سازوں اور ان کے دیگر حامیوں نے معافی کا مطالبہ کیا۔

سال 2019 میں ٹرک ڈرائیور روگیل اگولیرا میڈیروز کے ٹرک کے بریک فیل ہو گئے تھے جس کی وجہ سے حادثے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سلسلے میں ان کو 110 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

روگیل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ سزا نا انصافی پر مبنی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ملک بھر کے ٹرک ڈرائیور احتجاج کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی جا رہی ہے۔


امریکہ سینسِز بیورو کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2020 سے جولائی 2021 کے دوران ملک کی آبادی محض 0.1 فی صد کے اضافے کے ساتھ 33 کروڑ 18 لاکھ رہی۔ اس عرصے میں ملک کی آبادی میں تین لاکھ 92 ہزار 665 نفوس کا اضافہ ہوا۔ (فائل فوٹو)

امریکہ سینسِز بیورو کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2020 سے جولائی 2021 کے دوران ملک کی آبادی محض 0.1 فی صد کے اضافے کے ساتھ 33 کروڑ 18 لاکھ رہی۔ اس عرصے میں ملک کی آبادی میں تین لاکھ 92 ہزار 665 نفوس کا اضافہ ہوا۔ (فائل فوٹو)

کولوراڈو میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے روگیل کے وکیل لیونارڈ مارٹینیز نے کہا کہ ایسی لمبی سزاؤں پر مبنی ناانصافی کے معاملے کو دیکھنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف نظام کی اصلاح کی ضرورت ہے بلکہ پراسیکیوٹر اور ججوں کے اقدامات کو بھی دیکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ لڑائی صرف روگیل کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ سب کی لڑائی ہے۔

کولوراڈو میں یہ فیصلہ دینے والے جج کا مؤقف تھا کہ قوانین کی وجہ سے وہ روگیل کو سزا دینے پر مجبور ہوئے جن پر گاڑی چلاتے ہوئے قتل کا مقدمہ ثابت ہوا تھا۔

روگیل کے خاندان کا کہنا تھا کہ وہ ہلاک ہونے والے افراد کے خاندانوں کی تکلیف کو کمتر ثابت نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ کولوراڈو کے گورنر جیرڈ پولس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں فوری اقدام کریں اور 26 برس کے ٹرک ڈرائیور کی سزا کو کم کریں۔ اس کا کرمنل ریکارڈ بھی ختم کریں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روگیل واقعے کے وقت نہ ہی نشے کی حالت میں تھے اور انہوں نے پراسیکیوٹرز سے مکمل تعاون بھی کیا۔

روگیل کی سزا میں کمی کے مطالبے کی آن لائن پٹیشن پر اب تک 45 لاکھ افراد دستخط کر چکے ہیں۔

امریکہ میں پاکستانی طلبہ کے لیے کتنے مواقع ہیں؟





please wait



No media source currently available

کولوراڈو کے ڈیموکریٹک پارٹی کے گورنر جیرڈ پولس نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ معافی کی درخواست کا جائزہ لے رہے ہیں۔

پراسیکیوٹرز کی جانب سے بھی اس طویل سزا کے خلاف احتجاج کے بعد سزا کو تبدیل کرنے کا کہا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈرائیور نے مقدمے سے پہلے استغاثہ کی جانب سے دی گئی ڈیل لینے سے انکار کیا تھا۔ منگل کو مقامی اٹارنی نے جج کے سامنے اس معاملے کو جلد نمٹانے کی اپیل دائر کی ہے۔

روگیل نے مقدمے کے دوران اہنے بیان میں کہا تھا کہ وہ 2019 میں اپنے ٹرک پر لکڑیاں لے کر جا رہے تھے جب ایک ڈھلوان پر ان کی بریک فیل ہو گئی اور ان کا ٹرک اپنے آگے دو گاڑیوں پر چڑھ دوڑا۔ اس دوران آگ لگنے کے واقعے کی وجہ سے کئی گاڑیاں تباہ ہوئیں۔ اس واقعے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔


روڈ آئی لینڈ کے ایک اسکول میں سات سالہ لیانا آرسیلا کو ویکسین لگانے سے پہلے پولیس کے ایک 'تھیراپی ڈاگ' کے ذریعے تھیراپی فراہم کی جا رہی ہے ( سات دسمبر 2021ء ۔فائل فوٹو)

روڈ آئی لینڈ کے ایک اسکول میں سات سالہ لیانا آرسیلا کو ویکسین لگانے سے پہلے پولیس کے ایک 'تھیراپی ڈاگ' کے ذریعے تھیراپی فراہم کی جا رہی ہے ( سات دسمبر 2021ء ۔فائل فوٹو)

ہلاک ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سے مخاطب ہو کر روگیل کا کہنا تھا کہ وہ قاتل نہیں ہیں۔ انہوں نے کسی کو تکلیف پہنچانے کا کبھی نہیں سوچا تھا۔

ہلاک شدگان کے اہلِ خانہ کا مؤقف ہے کہ روگیل کو کچھ عرصے کے لیے قید کی سزا ضرور دی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے