English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

باضمیر حکومتی ارکان پارلیمنٹ منی بجٹ مسترد کردیں‘ شہبازشریف

لاہور (نمائندہ جسارت) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ منی بجٹ کے ذریعے پاکستان کے ہاتھ پائوں باندھنے کی تیاری ہورہی ہے ، امید ہے حکومتی باضمیر ارکان جرأت مندانہ اسٹینڈ لیں گے ، اتحادی بھی ہمت سے کام لیں اور کلمہ حق کہیں ، حکومتی اتحادی عوام اور پاکستان پر ظلم میں شامل ہوئے تو پی ٹی آئی کے ساتھ وہ بھی شریک جرم کہلائیں گے، یہ پارلیمنٹ کے ہر رکن کا امتحان ہوگا۔موجودہ حکومت قرض کی سطح 2018ء سے اب تک 40 ارب ڈالر کی خوفناک سطح پر پہنچا چکی ہے ، منی بجٹ منظور نہیں۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران حکومت نے 4 ارب 96 کروڑ ڈالر غیرملکی قرض لیا ، 4 ارب 96 کروڑ ڈالر غیرملکی قرض میں سے 3 ارب 45 کروڑ غیرترقیاتی مقاصد کے لیے ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی سے بچنے کے لیے عالمی کمرشل بینکوں پر انحصار ہمارے خدشات کی تصدیق ہے ، غیرملکی بینکوں پر انحصار کی حکومتی پالیسی آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ 14 ارب ڈالر بجٹ تخمینے میں سے اب تک 4 اعشاریہ 699 ارب ڈالر جمع ہوئے ہیں ، قرض کے پیسے پر معیشت پائیدار ہوسکتی ہے اور نہ ہی ملک کے حق میں کوئی عقل مندانہ پالیسی ہے ، جب ساری معیشت ، دفاع اور حکومتی نظام قرض پر کھڑا ہوگا تو جیو اکنامکس کا فلسفہ محض لطیفہ بن جائے گا۔ دوسری جانب حکومت نے منی بجٹ پارلیمنٹ سے پاس کرانے کے بجائے اسے آرڈیننس کے ذریعے پاس کرانے کا فیصلہ کیا ہے ، میڈیا رپورٹس میں ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے اتنے مختصر سے عرصے میں بل کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ کا جوائنٹ سیشن بلانا ممکن نہیں ، موجودہ حالات کے تناظر میں حکومت نے آئی ایم ایف کو ایک بار پھر جی ایس ٹی کی چھوٹ واپس لینے کے لیے صدارتی آرڈیننس کے نفاذ کے لیے قائل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزارت کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے 12 جنوری 2022ء تک منی بجٹ پر عمل درآمد شروع کرنے کی شرط عاید کی ہے جس کے پیش نظر منی بجٹ اب آرڈیننس کے ذریعے پاس کرایا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے