English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کرونا کے اومیکرون ویریئنٹ کے سبب 4500 سے زائد بین الاقوامی پروازیں منسوخ

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی نئی قسم ’اومیکرون‘ کے سبب ہفتے کو 4500 سے زائد پروازیں منسوخ اور ہزاروں پروازوں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

پروازوں کی ٹریکنگ ویب سائٹ ‘فلائٹ ویئر’ کے مطابق دنیا بھر میں کم از کم 2000 پروازیں کرسمس کے دن منسوخ ہوئیں جن میں سے لگ بھگ 700 پروازیں یا تو امریکہ جانی تھیں یا امریکہ سے کسی اور ملک ان کی اڑان ہونی تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق 1500 سے زائد پروازوں کو اومیکرون ویریئنٹ کے باعث تاخیر کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

فلائٹ ویئر کے مطابق جمعے کو لگ بھگ 2400 پروازیں منسوخ ہوئیں جب کہ تقریباً 11 ہزار پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔

سائٹ کے مطابق اتوار کو اڑان بھرنے والی 600 پروازیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔

پائلٹس، فضائی عملہ اور دیگر اسٹاف یا تو بیمار ہو گئے ہیں یا ان کا کسی کرونا سے متاثرہ فرد سے ملنے کی وجہ سے وہ قرنطینہ میں ہیں جس کے باعث ڈیلٹا اور یونائیٹڈ ایئر لائنز سمیت متعدد ایئر لائنز کو اپنی پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔

فلائٹ ویئر کے مطابق یونائیٹڈ ایئر لائنز نے جمعے اور ہفتے کو لگ بھگ 200 پروازیں منسوخ کیں جو کہ طے شدہ فلائٹس کی 10 فی صد تھیں۔

نیو ایئر، کرسمس اور اومیکرون: کیا اس سال بھی تقریبات کرونا کی نذر ہوں گی؟





please wait



No media source currently available

یونائیٹڈ ایئر لائنز کا جاری کردہ بیان میں کہنا ہے کہ رواں ہفتے اومیکرون کیسز میں اضافے کے سبب ان کے عملے اور ان کی ایئر لائنز سے منسلک افراد پر براہ راست اثر ہوا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وجہ سے انہیں پروازیں منسوخ کرنا پڑیں اور انہوں نے ایئر پورٹ آنے والے مسافروں کو مطلع کر دیا ہے اور وہ کوششوں میں ہیں کہ مسافروں کی دوبارہ سے بکنگ کی جا سکے۔

اسی طرح ڈیلٹا ایئر لائنز نے بھی ہفتے کو کم از کم 260 اور جمعے کو لگ بھگ 170 پروازیں منسوخ کیں۔

کمپنی کے کہنا ہے کہ وہ ان صارفین سے معذرت خواہ ہیں جنہوں نے اپنی کرسمس چھٹیوں کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی۔

امریکہ کی آٹو موبائل ایسوسی ایشین کے تخمینوں کے مطابق 10 کروڑ 90 لاکھ سے زائد افراد جہاز، ٹرین یا دیگر ذرائع سے 23 دسمبر سے 2 جنوری کے درمیان سفر کرنے والے تھے۔ جو کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں 34 فی صد زیادہ تھے۔

تاہم یہ سارے منصوبے اومیکرون کی تشخیص سے پہلے بنائے گئے تھے جو کہ امریکہ میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

اس خبر میں مواد خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ سے لیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے