مشیر خزانہ سینیٹر شوکت ترین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرے گا، ترمیمی فنانس بل میں 350 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ واپس لی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت منگل 28 دسمبر کو ترمیمی فنانس بل قومی اسمبلی میں پیش کرے گی، جس کی ایوان سے منظوری لی جائے گی، ذرائع کا بتانا ہے آئی ایم ایف کی شرط ہے کہ ترمیمی فنانس بل قومی اسمبلی سے پاس کرانا ضروری ہے لہذا ترمیمی فنانس بل آرڈیننس سے نافذ نہیں ہوگا۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ آئی ایم ایف کی ایک ارب ڈالر قرض کی قسط ترمیمی فنانس بل سے مشروط ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کا بل بھی فنانس بل کے ساتھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
دوسری جانب مشیر خزانہ سینیٹر شوکت ترین کا کہنا ہے کہ 12 جنوری کو آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں چھٹی جائزہ رپورٹ پیش کی جائے گی۔
شوکت ترین کا کہنا ہے کہ پاکستان 12 جنوری سے قبل آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرے گا، ترمیمی فنانس بل میں 350 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ واپس لی جائے گی۔

