مجلس وحدت مسلمین نے سندھ حکومت کی طرف سے پیش کیے جانے والے بلدیاتی بل کا ازسر نوجائزہ لینے کا مطالبہ
کرتے ہوئے آل پارٹی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔
ایم ڈبلیوایم سندھ کے صوبائیئی سیکرٹری سیاسیات سید علی حسین نقوینے دیگر صوبائی رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے
خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلدیاتی بل کے جن نکات پر دیگر اسٹیک ہولڈرز اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں ان پر حکومت
کو نظرثانی کرنا ہو گی۔
بل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہم آہنگی انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ بل کا مقصد علاقائی ترقی اور عوام کو سہولیات
کی فراہمی ہونا چاہئے۔قومی و لسانی بنیادوں پر صوبے کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ان پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مجلس وحدت
مسلمین نے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس میں کراچی اور اندرون سندھ کی تمام سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت
دی جائے گی۔
باہمی مشاورت سے ایسا لائحہ عمل طے کیا جائے گا جس سے صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو اور عوام کو خوشحال زندگی گزارنے کے
بہترین موقع میسر آ سکیں۔انہوں نے کہا ہم کراچی شہر کے مسائل کا حل چاہتے ہیں، جو شہر ملک کو ستر فیصد ریونیو دیتا ہے اس مکمل
طور پر نظر انداز رکھا گیا ہے۔کراچی کی ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں کا تعین 29 دسمبر کو اے پی سی میں کیا جائے گا۔ پریس کانفرنس
میں مولانا صادق جعفری،علامہ مبشر حسن،میر تقی ظفر ناصر حسین بھی شریک تھے۔
No related posts.
