English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سپریم کورٹ کا ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کو عہدے سے ہٹانے کا حکم

القمر

سپریم کورٹ آف پاکستان کی کراچی رجسٹری میں کراچی تجاوزات کیس کی سماعت جاری ہے۔ عدالت نے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیر کو رفاعی پلاٹوں اور پارکس پر قبضے کے کیسز کی سماعت جاری ہے۔ گٹر باغیچہ تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران ایڈمنسٹریٹر کراچی کی جانب سے سخت زبان استعمال کیے جانے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔

سماعت کے دوران مرتضیٰ وہاب عدالت میں موجود تھے اور ان کا بینچ سے مکالمہ ہوا۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہم کیا چلے جائیں؟ حکومت چھوڑ دیں؟ جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ مسٹر چپ کریں۔ کیا بات کر رہے ہیں آپ۔ سیاست نہیں کریں یہاں۔

عدالت نے مزید کہا کہ جائیں نکل جائیں یہاں سے۔ ہم آپ کو ابھی فارغ کر دیتے ہیں۔ ایڈمنسٹریٹر کو شہریوں کی خدمت کے لیے رکھا جاتا ہے۔ ایڈمنسٹریٹر کا رویہ سیاسی رہنماؤں کا ہے، شہریوں کی خدمت کا نہیں۔ بادی النظر میں ایڈمنسٹریٹر کراچی اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام رہے ہیں۔

عدالت نے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو حکم دیا کہ مرتضیٰ وہاب کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے اور کہا کہ ان کی جگہ کسی غیر جانب دار اور اہل شخص کو ایڈمنسٹریٹر لگایا جائے۔

مرتضیٰ وہاب نے بعد ازاں سپریم کورٹ سے اپنے رویے پر معافی بھی مانگی اور کہا کہ میں اپنے رویے پر معذرت خواہ ہوں اور ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام کرنا چاہتا ہوں۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہم آپ کو عہدے سے ہٹا چکے۔ اب آپ ایڈمنسٹریٹر نہیں رہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ آپ ریاست نہیں، حکومت ہو۔ آپ کا عہدے پر رہنا مفادات کا تصادم ہو گا۔

دوسری جانب اس سے قبل نسلہ ٹاور کیس کی سماعت کے دوران کمشنر کراچی نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ عمارت کی پانچ منزلیں گرا دی گئی ہیں اور 400 مزدور کام کر رہے ہیں۔ اندر سے اسٹرکچر ختم ہو چکا ہے صرف باہر سے نظر آ رہا ہے۔

عدالت نے عمارت گرانے کا کام ایک ہفتے میں مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے نسلہ ٹاور کی زمین ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے