English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سپریم کورٹ کا کراچی میں پارک کی زمین پر بنی مساجد، مزار اور قبرستان گرانے کا حکم

کراچی: سپریم کورٹ نے کراچی میں کڈنی پل پارک کی زمین پر بنی مساجد، مزار اور قبرستان گرانے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں طارق روڈ کے قریب مدینہ مسجد کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، کمشنر اور ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب سمیت دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے مرتضیٰ وہاب سے استفسار کیا کہ آپ غیر قانونی مسجد کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے؟ اس پر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ عدالت حکم دے تو کارروائی کریں گے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ لوگوں کو دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے، آپ کا کام ہے اور ہمارے حکم کا انتظار کرتے ہیں۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ یہ عبادت گاہیں نہیں اقامت گاہیں ہیں، نہ بجلی کا بل نہ کوئی اور بل، یہ تو ہمارے سامنے آگیا ہے، کراچی میں کئی جگہ غیر قانونی تعمیرات کردی گئیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔

دورانِ سماعت عدالت نے طارق روڈ کی درست حدود معلوم نہ ہونے پر ایڈمنسٹریٹر اور ڈی ایم سی ایسٹ کی سرزنش بھی کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے پاس کام کوئی نہیں، کیا کیا ہے اس شہر کے ساتھ آپ لوگوں نے، ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اس کو ٹھیک کرنے کیلئے تو دھماکا کرنا ہوگا، دوبارہ بنے گا یہ شہر، جیسے جرمنی بنا، جاپان بنا، پولینڈ بنا ایسے بنانا پڑے گا، جہاں چار آدمی کا گھر تھا وہاں چالیس گھرانے رہ رہے ہیں، سلیپ بک رہے ہیں یہاں، کیا کررہے ہیں، صرف پیسہ ہی بنانے کا کام کرنا ہے؟۔

جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا کہ  پی ای سی ایچ ایس سے نارتھ ناظم آباد تک ایک ہی حال ہے، دو دو سو گز پر آٹھ منزلہ عمارتیں بنا دی گئیں، زلزلہ آئے گا سب ختم ہوجائے گا، کروڑوں لوگ مر جائیں گے، اگر آپ بچے تو آپ پر خون ہوگا لوگوں کا، آپ لوگوں کو کیا پرواہ، سوچتے ہیں میں تو چلا جاؤں گا ریٹائر ہوکر، باہر جاکر لائف انجوائے کروں گا جیسے سب کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے