ویب ڈیسک —
انسانی حقوق کے علمبرداروں نے کہا ہے کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ امریکہ کشیدگی کے شکار تبتی افراد اور سنکیانگ کے خطوں میں بسنے والی اقلیتوں کے بارے میں چین کے رویے پر دباؤ میں اضافہ کر رہا ہے۔ ان کی رائے میں ایسا لگتا ہے کہ حقوق انسانی کے گروہوں کی جانب سے کی جانے والی لابنگ کی وجہ سے چین پر دباؤ میں اضافہ ہونا لازم ہے۔
حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سال 2021ء میں چین کی جانب سے ایک قانون وضع کیا جانا، پھر بائیکاٹ اور ایک سرکاری عہدے دار کی تعیناتی کا معاملہ سب کے کان کھڑے ہونے کے لیے کافی تھا اور کشیدگی کے شکار چین کے ان خطوں کے بارے میں امریکی عزم مزید واضح ہوا ہے۔
چین کے شمال مغربی علاقے سنکیانگ کے مسلمان اور ایغور نسل کی آبادی کے علاوہ چین کے ہمالیائی خطے میں تبتی نسل کے لوگ گزشتہ نصف صدی کے دوران عبادت کی آزادی اور اپنی مقامی ثقافت کے اظہار کے لیے کمیونسٹ حکومت سے مطالبات کرتے آ رہے ہیں۔


جلا وطن ایغور گروپوں کی تنظیم، عالمی کانگریس کے ترجمان، دلجات رست کے الفاظ میں ”مشرقی ترکستان (سنکیانگ) میں جاری انسانی بحران کے بارے میں توجہ مبذول کرنا دراصل امریکی قومی مفاد میں ہے اور ساتھ ہی امریکی اقدار اور روایات کی پاسداری کا ضامن ہے، جہاں کہیں بھی نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم سرزد ہوتے ہیں، جیسا کہ ایغور آبادی کے ساتھ ہو رہا ہے، ایسی صورت میں لوگ ہمیشہ امریکہ کی جانب دیکھتے ہیں کہ وہ کوئی اقدام اٹھائے”۔
بقول ان کے، ”دیگر لبرل جمہوری ملکوں کی طرح، امریکہ ہمیشہ مظلوم مذہبی یا نسلی گروہوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے؛ جو کہتا ہے کہ اب ‘ایسا نہیں ہوگا’ چاہے معاملہ ‘ہولوکاسٹ’ جیسے جرائم کا ہو؛ یا اب ایغوروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ظالمانہ رویے کا”۔
ایشیائی سمندری علاقوں میں چین کے بڑھتے ہوئے توسیعی عزائم اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں کاپی رائیٹس کی چوری کے معاملوں پر تقریباً چار سالوں سے امریکی عہدے دار چین کے ساتھ تجارتی تنازعے میں الجھے ہوئے ہیں۔
متعدد غیر ملکی حکومتیں اور انسانی حقوق کے داعی یہی مؤقف رکھتے ہیں کہ چین نے 10 لاکھ سے زائد ایغور افراد کو حراستی مراکز میں قید رکھا ہوا ہے۔ ان حراستی مراکز کے لیے چین دعویٰ کرتا ہے کہ یہ’پیشہ ورانہ تعلیمی مراکز’ ہیں جن کا مقصد مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گرد حملوں کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔


No media source currently available
تبت جو نسلی طور پر غیر چینی علاقہ ہے جس پر چین نے سال 1951ء میں قبضہ کر لیا تھا، ان علاقوں میں چین بودھ مت کی خانقاہوں پر کنٹرول میں اضافہ کرتا جا رہا ہے، اور وہاں تبتی زبان میں نہیں بلکہ چینی زبان کو تعلیم کا ذریعہ بنا رہا ہے۔ ان پالیسیوں کے ناقدین کو عام طور پر حراست میں لے لیا جاتا ہے، جنہیں طویل مدت قید میں رکھنا عام سی بات ہے۔
گزشتہ پانچ سال کے دوران، امریکہ ہانگ کانگ میں چین کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کے معاملے پر اور تائیوان کی فضائی حدود پر پیپلز لائبریشن آرمی کی ناجائز پروازوں کے خلاف آواز بلند کرتا رہا ہے۔
چین پر دباؤ میں اضافہ
گزشتہ ماہ چین کی سرپرستی میں منعقد ہونے والے سرمائی اولمپک گیمز کے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے، امریکی صدر جوبائیڈن نے ایغوروں کے ساتھ چین کے روا رکھے جانے والے رویے کا حوالہ دیا تھا۔
بائیڈن نے 23 دسمبر کو ایغوروں کو جبری مشقت سے بچانے کے لیے بل، جسے ایوان کی دونوں جانب سے منظور کیا گیا، پر دستخط کر کے اسے قانون کی شکل دے دی ہے۔


No media source currently available
اس قانون کا مقصد یہ ہے کہ اس بات کو واضح کر دیا جائے کہ سنکیانگ کی جبری مشقت کے کیمپوں میں تیار کردہ مصنوعات کو امریکی منڈیوں میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔
تبت کو ہدف بناتے ہوئے، امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے 20 دسمبر کو عذرا ضیا کو تبت کے امور پر امریکہ کی خصوصی رابطہ کار تعینات کیا ہے۔ عذرا ضیا نائب امریکی وزیر خارجہ ہیں جو مقامی انڈین امریکی آبادی کے انسانی حقوق سے متعلق امور کی نگرانی پر مامور ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے معاملے پر خاص نگاہ رکھتے ہوئے، امریکی خصوصی رابطہ کار تبت کی آبادی کے انسانی حقوق کی سربلندی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر خصوصی نظر رکھیں گی، تاکہ تبتی آبادی کی مخصوص مذہبی، لسانی اور ثقافتی شناخت کو تحفظ دینے میں مدد فراہم کی جا سکے”۔
دسمبر کے اوائل میں قانون سازوں نے بائیڈن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ سے مل کر تبتی آبادی کے حقوق سے متعلق اپنے ایجنڈے پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
بائیڈن پر دباؤ؟
ایک انٹرویو میں تائی پے میں قائم شنگ چی قومی یونیورسٹی میں سفارت کاری کے پروفیسر، ہوانگ کوائی بو نے کہا ہے کہ بائیڈن کی جانب سے تبت اور سنکیانگ پر دھیان مرکوز کرنا روایتی امریکی پالیسی کے عین مطابق ہے، لیکن ہو سکتا ہے کہ انسانی حقوق سے متعلق امریکی گروہوں کی جانب سے داخلی طور پر لابنگ کے نتیجے میں یہ معاملات منظر عام پر زور شور کے ساتھ نمودار ہوئے ہوں۔
چین کا رد عمل
ہمیشہ کی طرح، چینی عہدے دار حقیقت سے پردہ اٹھنے کے معاملے کو مسترد کرتے رہے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ چین کے مغربی خطوں کے بارے میں امریکی ردعمل اس کے داخلی امور میں مداخلت کے مترادف ہے۔
ادھر، پروفیسر ہوانگ کوائی بو نے کہا ہے کہ ”یہ کہنا کہ میرے داخلی امور میں مداخلت نہ کی جائے، میرے خیال میں، چین کا یہ حالیہ انداز انتہائی جابرانہ ہے”۔
سرکاری تحویل میں کام کرنے والے چینی خبر رساں ادارے، ‘شنہوا’ نے سنکیانگ کے خلاف پابندی کے امریکی قانون کی منظوری کی مذمت کی ہے۔ شنہوا نے اسے ”جھوٹ کا پلندہ” قرار دیا ہے۔ خبر رساں ادارے نے کہا ہے یہ چین کے داخلی معاملات میں بے جا مداخلت کی ایک کوشش کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے، جو ہر معاملے میں اپنی بات منوانے پر مصر ہے۔
