کراچی:امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سندھ اسمبلی کے سامنے دیے جانے والے دھرنے کے پانچویں دن دوپہر میں دھرنے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی جماعت اسلامی کی اہل کراچی کے حقوق کی جاری جدوجہد اوردھرنے کو لسانی رنگ دینے اور مہاجر سندھی مسئلہ بنانے کی کوشش کررہی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں نے لسانیت وعصبیت کی سیاست کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری تحریک اور جدوجہد کراچی کے ہر زبان اور علاقے سے تعلق رکھنے والوں کے حقوق کی جنگ اور تحریک ہے، کراچی منی پاکستان ہے اور یہاں ہر زبان بولنے اور علاقے سے تعلق رکھنے والے رہتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے تو نہ صرف کراچی دشمنی کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ اندرون سندھ کے غریب عوام کو بھی محکوم و مظلوم بنا یا ہے۔پیپلزپارٹی عوامی حقوق کی جدوجہد کو لسانی رنگ دینے سے باز رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک پورے کے مظلوم ومحکوم عوام کی تحریک ہے۔جماعت اسلامی کا دھرنا سردی کے موسم اور بارش کے باوجود بھی جاری رہے گا۔جمعہ 7جنوری کو امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اس دھرنے میں شرکت کریں گے۔ہمارے احتجاجی پلان میں وزریر اعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ اور دھرنا بھی شامل ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کالاقانون واپس لے اور2013اور2021میں بلدیاتی اداروں کے جتنے بھی اختیارات سلب کیے گئے ہیں وہ تمام اختیارات اور محکمے واپس کرے۔کراچی کو میگا سٹی کا درجہ دیتے ہوئے بااختیار شہری حکومت قائم کی جائے جس کا سربراہ میئر بھی ایک بااختیار میئر ہو اور اس کا انتخاب براہ راست ہو۔کراچی میں یونین کونسلوں کی تعداد اندرون سندھ کی طرح آبادی کے تناسب سے رکھی جائیں جو 700سے 750تک ہوں۔یونین کونسلوں کی گرانٹ میں بھی اضافہ کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ کراچی میں یونین کونسلوں کی حد بندی اور تعداد 45ہزار سے 50ہزار تک کی آبادی کی بنیاد پر کی جائیں جبکہ اندرون سندھ میں یونین کونسلیں 10سے 25ہزار آبادی کے حساب سے بنائی جائیں،کراچی میں یونین کونسلوں کی گرانٹ 10کروڑ جبکہ باقی صوبے میں یہ گرانٹ 65کروڑ تک دی جاتی ہے۔

