English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آج ملک میں 2013 کی نسبت زیادہ سستی سڑکیں بن رہی ہیں,وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ماضی میں سڑکیں بنانے کا اصل مقصد عوام کو فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ پیسے بنانا تھا جبکہ آج ملک میں 2013 کی نسبت زیادہ سستی سڑکیں بن رہی ہیں۔

وزیر اعظم نے ہکلہ  ڈیرہ اسمٰعیل خان موٹروے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم نے این ایچ اے کے عہدیداران کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مراد سعید کی وزارت نے پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک طویل المدتی منصوبوں سے بنتے ہیں، چین آج اس لیے کامیاب ہے کہ انہوں نے 30 سال کی منصوبہ بندی کی ہے، جب آپ اس منصوبہ بندی کے مطابق چلتے ہیں تو ملک ترقی کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سارے ترقی پذیر ممالک کا یہ مسئلہ ہے کہ ایک دو علاقوں میں زیادہ منصوبے بنائے جاتے ہیں باقی علاقے پیچھے رہ جاتے ہیں، 1960 میں پاکستان کی طویل دورانیہ منصوبہ بندی تھی، اس دوران پاکستان کے بڑے بڑے منصوبے بنے۔

وزیر اعظم نے ہکلہ ۔ ڈیرہ اسمٰعیل خان موٹروے منصوبے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ یہ ان علاقوں سے مل رہا ہے جو پیچھے رہ گئے، لوگ انہیں بھول گئے ہیں، لوگ میانوالی سے پیسے بناتے ہیں اور لاہور کی طرف آجاتے ہیں تاکہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوا سکیں، اس وجہ سے ان علاقوں کے ہسپتال پسماندہ ہوگئے ہیں اور یہاں تعلیم کا نظام نیچے چلا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے شمالی روٹ کی وجہ سے بے شمار فوائد ہوں گے، جس سے نہ صرف ان علاقوں کے سفر کا دورانیہ کم ہوگا بلکہ اس سے یہ علاقہ ترقی بھی کرے گا۔

عمران خان نے کہا کہ مجھے یاد ہے مجھے میانوالی کے لوگ کہتے تھے کہ ہمیں علاج کے لیے اسلام آباد کے ہسپتال جانا پڑتا ہے تب تک کئی مریض راستے میں ہی دم توڑ جاتے ہیں، جس کے حل کے لیے ہم نے ہیلتھ کارڈ نکالا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ہیلتھ کارڈ سے 10 لاکھ روپے تک کا مفت علاج کروایا جاسکے گا اور اس ہیلتھ سسٹم کے ذریعے نجی شعبہ میانوالی جیسے علاقوں میں ہسپتال بنائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، میں 25 سال سے پاکستان سے کرپشن ختم کرنے لگا ہوا ہوں، اس کی ایک مثال این ایچ اے ہے، جتنے پیسے پچھلے عہدیدار نے خرج کیے اس میں کئی منصوبے بن گئے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ تعمیر کے سامان کی قیمت کس حد تک بڑھ چکی ہے، پھر بھی آج 2013 کی نسبت زیادہ سستی سڑکیں بن رہی ہیں، اس کا مطلب ہے کہ کسی کی جیب میں زیادہ پیسہ جارہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو فائدہ پہنچانے کے لیے سڑکیں نہیں بنائی جارہی تھیں بلکہ پیسے بنانے کے لیے بنائی جاتی تھیں، انہوں نے ملک کو اوپر لے جانا تھا نہ ہی وہاں کوئی طویل المدتی منصوبہ بندی کی گئی تھی بلکہ سڑکیں پیسہ بنانے کے لیے بنائی جاتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مضافاتی علاقوں میں سڑکیں بنانی چاہیے تھیں، بلوچستان میں سڑکیں بنانی چاہیے تھیں، بلوچستان کے لوگوں کو آج صحیح احساس محرومی ہے کہ اتنا بڑا علاقہ ہے لیکن وہاں سڑکیں نہیں بنتیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے