English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فارن فنڈنگ کیس: پی ٹی آئی کی ایمانداری کا پردہ چاک ہونے کو ہے

القمر

پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکمراں جماعت نے انتخابی ادارے سے 31 کروڑ سے زائد کی رقم خفیہ رکھی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف کی طرف سے درجنوں اکاؤنٹس ظاہر ہی نہیں کیے گئے۔ الیکشن کمیشن اب سکروٹنی کمیٹی کی اس رپورٹ پر سماعت کرے گا۔ منگل کو جاری ہونے والی تین رکنی سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی طرف سے الیکشن کمیشن میں عطیات سے متعلق غلط معلومات فراہم کی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے چند افراد کے علاوہ فارن فنڈنگ کے مکمل ذرائع ظاہر نہیں کیے ہیں جس کی وجہ سے سکروٹنی کمیٹی اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے قاصر ہے۔

 اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی سال 2012-13 کی آڈٹ رپورٹ پر بھی کوئی تاریخ درج نہیں، آڈٹ رپورٹ پر تاریخ نہ ہونا اکاونٹنگ معیار کے خلاف ہے، آڈٹ فرم کی فراہم کی گئی کیش رسیدیں بھی بنک اکاؤنٹس سے مطابقت نہیں رکھتی۔ درخواست گزار کی جانب سے مانگی گئی بینک اسٹیٹمنٹس فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا گیا، پی ٹی آئی نے پانچ سال کے دوران 32 کروڑ کی رقم چھپائی، اسکروٹنی کمیٹی کو تحریک انصاف کینیڈا اور نیوزی لینڈ کے بینک اکائونٹس تک بھی رسائی نہیں دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کو یورپی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جاپان، سنگاپور، ہانگ کانگ، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈ اور فن لینڈ سمیت دیگر ممالک سے فنڈ موصول ہوئے۔ کمیشن کے مطابق تحریک انصاف کو نیوزی لینڈ سے موصول ہونے والے فنڈ تک سکروٹنی کمیٹی کو رسائی نہیں دی گئی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق سٹیٹ بینک کے ریکارڈ میں انکشاف ہوا کہ عمران خان کی جماعت کے 65 بینک اکاؤنٹ ہیں اور سال 2008-09 اور 2012-13 میں تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے سامنے ایک ارب 33 کروڑ روپے کے عطیات ظاہر کیے۔ سٹیٹ بینک کی بینک سٹیٹمنٹ سے ظاہر ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک ارب 64 کروڑ روپے کے عطیات موصول ہوئے۔ یوں تحریک انصاف نے 31 کروڑ روپے سے زائد کی رقم (310،440،444) الیکشن کمیشن میں ظاہر نہیں کی۔ خیال رہے کہ تحریک انصاف کے سابق رکن اکبر ایس بابر نے سنہ 2014 میں پارٹی فنڈز میں بے ضابطگیوں کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی تھی۔ اس درخواست پر الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی نے 96 سماعتیں کیں۔ اکبر ایس بابر نے الزام عائد کیا تھا کہ دو آف شور کمپنیوں کے ذریعے لاکھوں ڈالر پی ٹی آئی کے بینک اکاؤنٹوں میں منتقل کیے گئے اور تحریک انصاف نے یہ بینک اکاؤنٹ الیکشن کمیشن سے خفیہ رکھے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کا کیس الیکشن کمیشن کے پاس پانچ سال سے التوا میں پڑا ہوا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے پہلی بار 14نومبر 2014کو پارٹی کے مرکزی نائب صدر اور سیکرٹری اطلاعات کے عہدوں پہ فائز رہنے والے سابق رہنما اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن کے سامنے دائر کی تھی۔ اس پٹیشن میں انہوں نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور دیگر عہدیداران پہ بھارت اور اسرائیل سمیت بیرون ممالک سے ہنڈی اور دیگر مشکوک ذرائع سے فنڈز وصول کرنے اور منی لانڈرنگ سمیت بدعنوانی میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ اس پٹیشن کے ساتھ انہوں نے مختلف ممالک سے وصول کئے گئے فنڈز کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو فراہم کرتے ہوئے پولیٹکل پارٹیز آرڈرز 2202اور الیکشن ریفارمز ایکٹ 2017کے تحت کارروائی کرنے کی استدعا بھی کی لیکن پانچ سال گزر جانے کے باوجود اکبر ایس بابر الیکشن کمیشن اور عدالتوں کے درمیان انصاف کے حصول کے لیے جوتے چٹخاتے پھر رہے ہیں کیونکہ تحریک انصاف کی قیادت ہر فورم پہ پارٹی فنڈز کی تفصیلات فراہم کرنے سے نہ صرف انکاری ہے بلکہ حیلے بہانوں سے نظام انصاف میں پائی جانیوالی خامیوں کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے کیس کو مسلسل لٹکائے جا رہی ہے۔

تحریک انصاف نے پارٹی اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کرنے کا الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار بھی کئی بار چیلنج کیا، نومبر 2015میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس حوالے سے ایک رٹ پٹیشن دائر کی گئی جس کی سماعت کے باعث ڈیڑھ سال تک الیکشن کمیشن کی کارروائی رکی رہی، فروری 2017میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پارٹی فنڈنگ کی جانچ پڑتال کو الیکشن کمیشن کا اختیار قرار دیتے ہوئے معاملہ دوبارہ اس کے پاس بھجوا دیا۔ اس دوران تحریک انصاف نے اکبر ایس بابر کی پارٹی رکنیت ختم کرنے کو جواز بنا کر دوبارہ پٹیشن کو ناقابل سماعت قرار دینے کے لیے چیلنج کیا تاہم الیکشن کمیشن نے اس کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا جس کے خلاف ایک بار پھر تحریک انصاف نے عدالت عالیہ سے رجوع کر لیا۔ پانچ سال میں مجموعی طور پہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے پارٹی اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کرنے اور اکبر ایس بابر کی پارٹی رکنیت کے حوالے سے پانچ بار رٹ پٹیشنز دائر کی گئیں۔ ایک پٹیشن میں تحریک انصاف نے پارٹی فندز کی اسکروٹنی کو ان کیمرا کرنے کی استدعا بھی کی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ 26نومبر 2015کو ایک رٹ پٹیشن میں عمران خان نے بیان حلفی دیا کہ وہ پارٹی اکاؤنٹس کی اسکروٹنی کے حوالے سے عام شہریوں کو جوابدہ نہیں ہیں تاہم عدالت عالیہ نے تحریک انصاف کی تمام پٹیشنز پہ فیصلے صادر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو پارٹی فنڈز کی جانچ کا مجاز قرار دیا۔نومبر 2014سے اب تک الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو 24تحریری احکامات جاری کئے جن میں پاکستان اور بیرون ممالک پارٹی کے اکاؤنٹس کی تفصیلات اور بینک اسٹیٹمنٹ جمع کرانے کی ہدایات دی گئیں لیکن تحریک انصاف نے آج تک ان پہ عمل درآمد نہیں کیا۔ بالآخر مارچ 2018میں الیکشن کمیشن نے ڈی جی لا کی سربراہی میں تین رکنی اسکروٹنی کمیٹی قائم کر دی جس نے قریبا چار سال بعد ایک رپورٹ شائع کی ہے مگر تاحال اس پر فیصلہ نہیں ہوسکا۔

پاکستان تحریک انصاف گزشتہ پانچ سال سے پارٹی کی فنڈنگ کے کیس پہ الیکشن کمیشن کے ساتھ پنگ پانگ کھیل رہی ہے لیکن اسٹیٹ بینک کی رپورٹ اور اسکروٹنی کمیٹی کی جاری کارروائی سے لگتا ہےکہ اب یہ کھیل جلد ختم ہونے والا ہے۔ اس کیس کا فیصلہ جو بھی ہو لیکن دوسروں کو ذاتی آمدنی کے ذرائع اور منی ٹریل فراہم نہ کرنےکے طعنے دے کر ان پر بدعنوانی کا لیبل لگانے والی تحریک انصاف کی قیادت پانچ سال سے اس کیس سے جس طرح راہ فرار اختیار کر رہی ہے وہ اس کے قول و فعل میں تضاد کا پردہ چاک کرنے کے لیے کافی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے