English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مسلم لیگ (ن) کےرہنماؤں کا مریم نواز کی آڈیو لیک پر برہمی کا اظہار

القمر

مسلم لیگ (ن) نے اپنے رہنماؤں کی ٹیلی فون کالز کی ریکارڈنگ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا مبینہ طور پر ایک اور آڈیو کلپ منگل کو آن لائن لیک ہوا تھا جس میں انہیں سابق سینیٹر پرویز رشید کے ساتھ بعض صحافیوں کے ان کی پارٹی کے بارے میں مبینہ تعصب پر بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

اس مبینہ آڈیو لیک سے مین اسٹریم اور سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کے میڈیا اداروں کے حوالے سے طرزِ عمل پر ایک بحث چھڑ گئی ہے۔

لیک ہونے والا مذکورہ کلپ اکتوبر 2016 کا معلوم ہورہا ہے جب اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف آذربائیجان کے تین روزہ دورے سے واپس آئے تھے۔ یہ وہ وقت بھی تھا جب پاناما پیپرز جاری ہوئے تھے اور نواز شریف کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات دوستانہ نہیں تھے۔

مذکورہ ویڈیو لیک پر ردِ عمل دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ رازداری کے آئینی حق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹیلی فون کالز اور نجی گفتگو کو خفیہ طور پر ٹیپ کرنا اور پھر اس میں شامل افراد کی رضامندی کے بغیر انہیں لیک کرنا اصل جرم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے اور پرائیویسی میں دخل اندازی کے مرتکب پائے جانے والے مجرموں کو قانون کے مطابق مثالی سزا دی جانی چاہیے۔

آڈیو لیک کا معاملہ سینیٹ میں بھی زیر بحث آیا جہاں چیئرمین صادق سنجرانی نے اس معاملے پر پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں بحث کی اجازت نہ دینے پر بعد میں رولنگ دینے کا فیصلہ کیا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں بھی عروج پر تھیں کہ سیاستدانوں کی گفتگو کو کون ریکارڈ کر کے خاص وقت پر لیک کررہا ہے۔

سیکیورٹی اور سیاسی تجزیہ کار حسن عسکری نے بتایا کہ اس ڈیجیٹل دور میں ایسے آڈیو اور ویڈیو کلپس کو ریکارڈ کرنے اور لیک کرنے کے لیے کسی فرد یا ادارے پر الزام لگانے والی انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ 80 اور 90 کی دہائی ہوتی تو یہ سمجھنا آسان ہوتا کہ ایسی گفتگو کون ریکارڈ کر رہا ہے، لیکن ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں جہاں ریکارڈنگ کے آلات آسانی سے دستیاب ہیں، کسی مخصوص شخص یا ایجنسی کو پورے اعتماد کے ساتھ مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

حسن عسکری کا خیال تھا کہ یہ آڈیو لیک مسلم لیگ (ن) کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا کیونکہ اس کے مخالفین اسے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی آڈیو اور ویڈیو کلپس کے سیاسی محرکات ہوتے ہیں جنہیں سیاسی تقاضوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔

اس سے قبل جب مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس میں پہلے لیک ہونے والی ایک آڈیو کلپ کے بارے میں سر عام اعتراف کیا تھا جس میں وہ بعض میڈیا ہاؤسز کو اشتہارات جاری نہ کرنے کی ہدایات دے رہی تھیں، حکمراں جماعت پی ٹی آئی نے اعلان کیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما کا اعتراف اعلیٰ سطح پر پارٹی کی میڈیا مینجمنٹ کا واضح ثبوت ہے، ساتھ ہی انہیں عدالت لے کر جانے کا عندیہ دیا تھا۔

حالیہ کلپ چند ماہ میں مریم نواز کی مبینہ طور پر لیک ہونے والی تیسری آڈیو ہے، ایسے ہی ایک لیک میں انہیں دو نیوز چینلز کے ذریعے عمران خان کی حکومت پر تنقید کرنے کے لیے اپنی ‘میڈیا مینجمنٹ’ کی مہارت کی تعریف کرتے ہوئے سنا گیا تھا کہ ‘میری میڈیا مینجمنٹ دیکھو، جیو نیوز اور دنیا نیوز نے انہیں برباد کر دیا’۔

واضح رہے کہ مریم نواز اپنے والد نواز شریف کی آخری حکومت کے دوران وزیراعظم آفس سے اسٹریٹجک میڈیا کمیونیکیشن سیل کی سربراہی کررہی تھیں۔

اس ضمن میں گزشتہ روز سینیٹ اجلاس میں قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ مریم نواز اور پرویز رشید کی آڈیو کلپ نے میڈیا کے سامنے مسلم لیگ(ن) کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کلپ میں ایسا لگتا ہے جیسے ایک استاد ایک طالب علم کو میڈیا مینجمنٹ کے بارے میں بتا رہا ہے اور یہاں تک کہ میڈیا والوں کے لیے ‘بھونکنے والے کتے’ جیسے الفاظ استعمال کیے گئے’، میڈیا کی آزادی کے بارے میں مسلم لیگ (ن) کا بیانیہ لفافہ پر مبنی تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اپنے مخالفین کے خلاف میڈیا مہم چلانے کے لیے مشہور ہے اور اس نے مرحومہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ جو کچھ کیا وہ سب کو معلوم ہے۔

اس پر مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے چیئرمین سے درخواست کی کہ وہ فیصلہ دیں کہ کیا سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہونے والے آڈیو اور ویڈیو کلپس پر بحث کی اجازت دی جا سکتی ہے، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ اگر بحث کی اجازت ہے تو ہمارے پاس اس طرح کی بے شمار کلپس ہیں۔

ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی مبینہ طور پر اسی طرح کی آڈیو کلپ پر مسلم لیگ (ن) کی قیادت عدالت سے ریلیف مانگ رہی ہے۔

جس پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ آڈیو کلپ کے معاملے پر ایوان میں بحث کی اجازت دینے یا دینے کے حوالے سے وہ بعد میں فیصلہ دیں گے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کو وزیراعظم سے زیادہ بااختیار بنا دیا گیا ہے، احسن اقبال

مسلم لیگ(ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے قانون میں گورنر اسٹیٹ بینک کو پاکستان کے وزیر اعظم سے بھی زیادہ طاقتور اور بااختیار بنا دیا ہے، گورنر براہ راست صرف بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی بات سنے گا اور اس قانون کے ذریعے حکومت پاکستان کو بینکوں کا یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ فسکل مانیٹری بورڈ کو اسٹیٹ بینک کے قانون میں ختم کیا گیا ہے اس کے نتیجے میں پاکستان میں معاشی سطح پر انتشار پیدا ہو گا جبکہ فسکل اور مانیٹری پالیسی کو کوآرڈینیٹ کرنے کا میکانزم ختم کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح اس میں جو شرائط شامل کی گئی ہیں اس میں اسٹیٹ بینک کے گورنر کو پاکستان کے وزیر اعظم سے بھی زیادہ طاقتور اور بااختیار بنا دیا ہے، پاکستان کا وزیر اعظم تو پھر بھی پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے لیکن گورنر اسٹیٹ بینک نہ پارلیمنٹ کو جوابدہ ہو گا، نہ اس ملک میں کسی کی بات سننے کا مجاز ہو گا، وہ اگر کسی کی بات سنے گا تو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی بات سننے کا مجاز ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون کے ذریعے حکومت پاکستان کو بینکوں کا یرغمال بنا لیا گیا ہے اور جب حکومت پاکستان اپنا تمام قرضہ بین الاقوامی بینکوں سے لے گی تو وہ اپنی شرائط پر قرض دیں گے اور ملک کی مالی خودمختاری پر بھی سمجھوتہ ہو گا۔

مسلم لیگ(ن) کے رہنما نے کہا کہ ہمارے نزدیک اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کا بل ملک کی معاشی خودمختاری کو سرینڈر کرنے کا بل ہےاور ہم سمجھتے ہیں کہ ہر پاکستانی ملک کے دفاع اور خودمختاری میں اپنا کردار ادا کرے۔

انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے درخواست کی کہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے اسٹیٹ بیننک کے قانون پر نظرثانی کریں اور اس میں وہ شقیں نکالیں جو قابل اعتراض ہیں اور جن سے پاکستان کی مالی خودمختاری پر سمجھوتہ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ گزارشات کسی سیاست کے جذبے کے تحت نہیں کی ہیں، یہ حکومت اور اپوزیشن کی بات نہیں ہے، یہ پاکستان کے عوام اور پاکستان کی بات ہے۔

احسن اقبال نے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کو بھی اس بل پر نظرثانی کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو پہلے پاکستانی بن کر سوچنا چاہیے تاکہ ہم وہ کام کریں جو پاکستان کے مفاد میں ہے۔

اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایسے آئٹمز جن کا براہ راست اثر عوام پر پڑ رہا تھا، ان پر ہم قومی اسمبلی میں اپنی سفارشات جمع کرانا چاہ رہے تھے لیکن آج ہم نے مسلم لیگ(ن) کی بات بہت غور سے سنی ہے اور کئی پہلوؤں پر دوبارہ غور کریں گے جبکہ ہو سکتا ہے کہ ہمیں اب اپنی ترامیم میں ایک دو نکات کا اضافہ کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ کووڈ کے بعد جو صورتحال ہے اس کے بعد ضروری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کو مل کر فیصلہ کرنا چاہیے، ہم حکومت کا حصہ ہیں یا نہیں ہیں اس بات سے قطع نظر جو فیصلہ پاکستان اور پاکستان کے عوام کے لیے صحیح ہو گا، ہم وہی کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) ڈیل کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی اور ہماری ڈیل صرف عوام کے ساتھ ہے، میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا شکریہ ادا کرتا ہوں انہوں نے بھی اس کی وضاحت کردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام ضمنی انتخابات میں تواتر کے ساتھ مسلم لیگ(ن) اور اس کے بیانیے پر اعتماد کا اظہار کررہے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کے موجودہ معاشی بحران کا حل فوری، صاف اور شفاف انتخابات ہیں کیونکہ 2018 کا تجربہ ناکام ہو گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے قائد نواز شریف کا یہ نظریہ ہے کہ پاکستان کے مسائل کو کوئی بھی ایک لیڈر، کوئی ایک جماعت اور کوئی ایک ادارہ تنہا حل نہیں کر سکتا اور پاکستان کو درپیش سیاسی، سفارتی اور معاشی چیلنجز کا حل یہی ہے کہ ہر محب وطن آئین اور جمہوریت پر یقین رکھنے والی جماعت ملکی سلامتی اور ملکی مفادات کے ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے جامع سیاست کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب مرکز میں ہماری حکومت تھی تو خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی لیکن ہم نے دونوں حکومتوں کو ملا کر سی پیک نیشنل ایکشن پلان اور قومی توانائی پالیسی سمیت قومی پالیسیوں کو کامیاب بنایا لیکن اگر آج اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کوئی تنہا پاکستان کو منزل مراد پر لے کر جا سکتا ہے وہ خودفریبی ہو گی۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے