English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کرونا ٹسٹ کے نتایج میں تاخیر، مسافر پروازیں چھوڑنے پر مجبور

نیویارک کے علاقے لانگ ائی لینڈ میں موسم معتدل ہے، ہلکی دھوپ نکلی ہوئی ہے اور درجہ حرارت 17 ڈگری سنٹی گریڈ کے قریب ہے۔ مظفر زیدی کا 12 افراد پر مشتمل خاندان عراق زیارت پر جانے کے لیے تیار ہے۔ پاسپورٹ، ٹکٹ اور دیگر ضروری دستاویزات ساتھ رکھ لی ہیں۔ خاندان کے ایک قریبی دوست اور ٹریول ایجنٹ امان سلمان انہیں ایئرپورٹ پہنچانے کے لیے اپنی گاڑی لے کر آ چکے ہیں۔

مگر ایک مسئلہ ہے۔ کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کے کارڈ تو سب کے پاس ہیں لیکن سفر کے لیے لازمی کرونا ٹسٹ کی رپورٹ ابھی تک نہیں ملی۔ فلائٹ میں محض چار گھنٹے باقی رہ گئے ہیں۔ یہ ٹسٹ انہوں نے تقریباً 50 گھنٹے قبل کرایا تھا۔ اگر بروقت رپورٹ نہ ملی تو وہ اپنی منزل کی جانب روانہ نہیں ہو سکیں گے۔

کرونا ٹیسٹنگ کے ایک اور مرکز کے باہر لوگ اپنی باری کے منتظر ہیں۔ فائل فوٹو

کرونا ٹیسٹنگ کے ایک اور مرکز کے باہر لوگ اپنی باری کے منتظر ہیں۔ فائل فوٹو

خوش قسمتی سے ایئرپورٹ پہنچنے تک ٹیسٹ کے منفی نتایج زیدی خاندان کو مل گئے اور وہ جہاز پر سوار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں ہے۔ بیرون ملک فضائی سفر کرنے والے اکثر افراد کو ان دنوں کرونا ٹیسٹنگ کا رزلٹ بروقت حاصل کرنے میں مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں اومیکرون کے باعث کرونا وائرس کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں جس سے کرونا ٹیسٹنگ کے نظام پر دباو بڑھ رہا ہے۔ تین جنوری کو ایک ہی دن میں دس لاکھ سے زیادہ کیسز امریکہ میں سامنے آئے جو ایک ریکارڈ ہے۔ اگلے روز پونے نو لاکھ کیسز کی تصدیق ہوئی۔

نیویارک ہی کے معاذ صدیقی نے پاکستان جانے کا منصوبہ کئی ماہ قبل بنایا تھا۔ اپنا کرونا ٹیسٹ منفی آنے کے باوجود وہ مقررہ پرواز پر سوار نہ ہو سکے، کیونکہ ٹسٹ کی رپورٹ تاخیر سے ملی۔

ٹریول ایجنٹ امان سلمان بتاتے ہیں کہ انھیں ہر روز کئی ایسے صارفین کے فون آتے ہیں جنھیں تمام تر تیاریوں کے باجود پی سی ار ٹسٹ رپورٹ بروقت نہ ملنے کی وجہ سے اپنی فلائٹ منسوخ کرانا پڑتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کرونا ٹسٹ کی رپورٹ میں تاخیر نے بین الاقوامی سفر کرنے والوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

نیویارک کے کرونا ٹیسٹنگ کے ایک مرکز کے باہر لوگ اپنی باری کے انتظار میں ہیں۔ فائل فوٹو

نیویارک کے کرونا ٹیسٹنگ کے ایک مرکز کے باہر لوگ اپنی باری کے انتظار میں ہیں۔ فائل فوٹو

امان سلمان بتاتے ہیں کہ کچھ لوگوں کو یہغلط فہمی ہوتی ہے کہ ویکسین کی خوراکیں مکمل کرنے والوں کو شاید کسی اضافی ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم درحقیقت ہرملک نے اپنے تقاضوں کے مطابق کرونا سے بچاؤ کے اپنے ایس او پیز ترتیب دے رکھے ہیں۔ مگر ایس او پیز میں یہی فرق ایک مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر عراق جانے والوں کے لیے سفر شروع کرنے کے 72 گھنٹوں کے اندر پی سی ار ٹیسٹ کرانا ضروری ہے جب کہ پاکستان نے 48 گھنٹوں کی شرط نافذ کی ہے۔ امریکہ سمیت کئی ممالک سفر شروع کرنے سے صرف 24 گھنٹوں پہلے کرونا منفی ٹسٹ کا تقاضا کر رہے ہیں۔

امریکہ کے کئی شہروں میں ان دنوں کرونا ٹیسٹنگ کی جگہوں پر لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔ اور ٹیسٹ کے نتایج ملنے میں چار پانچ دن تک لگ رہے ہیں۔ دوسری جانب ایسی پرائیوٹ لیبارٹریز بھی ہیں جو پی سی آر ٹسٹ کی رپورٹ ایک گھنٹے میں دے دیتی ہیں، مگر اس کے لیے دو سو سے تین سو ڈالر دینے پڑتے ہیں، جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔نیویارک کے ہیلتھ گروپ بیسٹ میڈل کیئر کے ڈاکٹر مشاہد فاروقی کرونا کے مریضوں کا اعلاج کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ لوگ نہ صرف بیرون ملک سفر کے لیے ٹسٹ کروا رہے ہیں بلکہ بیماری کی علامات محسوس کر کے احیاطاً ٹسٹ کروا رہے ہیں تاکہ بروقت احتیاطی تدابیر کر سکیں۔

امریکی صدر جو بائڈن نے اومیکرون ویرئنٹ سامنے آنے کے بعد دسمبر میں نئ حکمت عملی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت نئے سال میں پچاس کروڑ ٹیسٹنگ کٹس امریکی خاندونوں کو مفت مہیا کی جائیں گی۔ اب تک گھریلو سطح پر قابل استمعال ان ٹیسنٹگ کٹس کی کمی اور ان کی قیمت امریکہ میں ایک مسئلہ رہی ہے۔ تاہم یہ کٹس مل بھی جائیں تب بھی مسافروں کو ان سے زیادہ فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ ایئر لائنز ان کے نتایج کو تسلیم نہیں کرتیں۔ سفر سے پہلے پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہی لازمی ہے جو صرف لیباٹریاں کر سکتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے