English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

�م بلدیاتی قانون کو کالا قانون �ی ک�یں گے، حا�ظ نعیم کا دھرنے سے خطاب

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ ہم بلدیاتی قانون کو کالا قانون ہی کہیں گے،کالے قانون کے ذریعے شہری اداروں پر  سندھ حکومت نے قبضہ کرلیا۔

کالے قانون کے خلاف سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کے آٹھویں روز آخری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ موسم کی سختی نے دھرنہ کے شرکاء کے جذبوں کو کم نہیں کیا،جماعت اسلامی نے کراچی کے حقوق کیلیےجدوجہد کا آغاز کردیا ہے، جماعت اسلامی مظلوموں کا مرکز بن گئی ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ جب تک وڈیروں اور جاگیرداروں کا سندھ کے عوام پر قبضہ رہے گا، ہم کالا قانون کہتے رہیں گے، شہری ادارے اور محکمے عوام کو واپس کردو،ہم کالا قانون کہنا بندکردیں گے، پیپلزپارٹی نے لسانیت وعصبیت کو مزید پھیلانے کے لیے کراچی کے تمام محکموں پر قبضہ کرلیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ سند ھ حکومت این جی اوز کے پیچھے نہ چھپے،عوام کے ٹیکسو ں کا پیسہ عوام پر خرچ ہونا چاہیئے،پیپلزپارٹی  نے مظلوم سندھیوں اور بلوچوں کا استحصال کرکے اسمبلی پر قبضہ کیا ہے،سندھ میں دیہی اورشہری تقسیم پیپلزپارٹی نے خود کی ہے،پیپلزپارٹی ن اسمبلی میں عددی اکثریت دیہی عوام پر جبر و تسلط کے زریعے حاصل کی ہے،مراد علی شاہ سمیت تمام وزراء سن لیں کہ اگر ہم ایم کیوا یم والی سیاست کرتے تو ہم 2013والا مک مکا کرلیتے اوردھرنا نہیں دیتے۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ کالے بلدیاتی قانون کے خلاف کراچی سمیت سندھ کے تمام گوٹھوں اوردیہاتوں کا بھی دھرنا ہے،دھرنے میں تمام زبان بولنے والے افراد موجود ہیں،مسلک،زبان اور مذہب کی کوئی تقسیم نہیں ہے،کراچی پر قبضہ کا مطلب کراچی کے ہر شہری اور ہر زبان بولنے والے حقوق پر قبضہ ہے،آدھا ٹیکس کراچی اور آدھا ٹیکس پورا پاکستان دیتا ہے، ہمیں خیرات نہیں ہمارے ٹیکسوں میں سے ہمارا حق ہمیں دے دو،ہم حق لینے کی جدوجہد کررہے ہیں اسے کوئی بھی رنگ دینے کی کوشش کی جائے،جدوجہد جاری رکھیں گے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے شہرقائد کے ماضی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ نعمت اللہ خان کے ماس ٹرانزٹ پر عمل کیا جاتا تو آج شہر میں ٹرانسپورٹ کے سنگین مسائل نہ ہوتے، جب این ایف سی ایوارڈ میں حق مانگتے ہو تو پی ایف سی ایوارڈ میں شہروں کو حق کیوں نہیں دیتے، سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا تحریک کا مرکز اور پورا شہر میں احتجاجی تحریک چلائے جائی گی۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ ہم کے الیکٹرک کے خلاف بھی میدان عمل میں نکلےتھے ،شاہراہ فیصل پر کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج پر سندھ حکومت نے تشدد کیاتھا، ادارہ نور حق کا گھیراؤ کیا لیکن جماعت اسلامی اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹی، جماعت اسلامی کی تحریک پورے شہر کی تحریک بن گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ہی جدوجہد سے نادرا کی ایس او پیز میں تبدیلی ہوئی ہے،  شہریت کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہے،  بحریہ ٹاؤن کے متاثرین کی مدد کے لئے جماعت اسلامی ہی سامنے آئی اور بحریہ کے متاثرین کو چیک کی صورت میں اُنکی رقمیں دلوائیں، جماعت اسلامی نے اپنا پبلک ایڈ کمیٹی کا دفتر سندھ اسمبلی کے سامنے بنادیا ہے، اب

عوام کے جو مسائل اسمبلی اور سیکٹیریٹ سے حل نہیں ہوتے وہ یہاں سے ریلیف لیتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ این جی اوز کے پیچھے چھپنے والی سندھ حکومت نے نارتھ کراچی چلڈرن اسپتال بند کردیا،سندھ حکومت سے اپنے اسپتال نہیں چل سکتے شہری حکومت کے اسپتال چھین لئے،سندھ کا صحت کا بجٹ 173 ارب روپے کا ہے، لیکن سرکاری اسپتالوں کی حالت زار سب کو معلوم ہے،سندھ حکومت بجٹ کی رقم ہڑپ کر جاتی ہے۔

امیر جما عت اسلامی نے مزید کہا کہ این آئی سی وی ڈی میں روزانہ 20 آپریشن ہوتے تھے، اب صورت حال یہ ہے وہاں 2 آپریشن ہوتے ہیں، ہم وڈیروں اور جاگیرداروں کے خلاف بات کرتے ہیں، تو سندھ حکومت لسانیت کا الزام عائد کردیتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے کے شرکاء کو سلام پیش کرتے ہوئے  کہاکہ سرد موسم نے شرکاء کے جذبات کو مزید گرمایا اور ثابت قدمی سے ڈٹے رہے،  دھرنے کے شرکاء اس بات کا اعلان کررہے ہیں کہ ہم کالے بلدیاتی قانون کو نہیں مانتے۔

انہوں نے کہا کہ ادارہ نورحق جماعت اسلامی کا دفتر غریبوں، مجبوروں، محروموں کا مرکز بن گیا ہے، قبضہ مافیا سمیت تمام مافیاؤں کے حوالے سے شہریوں نے جماعت اسلامی کے مرکز کا رخ کیا، جماعت اسلامی نے حقوق کراچی تحریک چلائی اور تمام مافیاؤں کے خلاف شہریوں کو متحد کیا۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کراچی کی حق دوکراچی تحریک سے شہریوں کو حوصلہ ملا اور ان کے مسائل حل ہونے لگے،  تین کروڑ سے زائد آبادی کے لیے صرف 2سرکاری یونیورسٹیاں ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے