اسلام آباد (آن لائن) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں روزانہ 25,000 ٹن یوریا کی پیداوار ہوتی ہے جو ہماری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے.جو لوگ مصنوعی قلت پیدا کرنے میں ملوث ہیں ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملک میں کھاد خصوصاً یوریا کی طلب اور رسد کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال ملک میں گندم، گنے، کپاس اور مکئی کی ریکارڈ بمپر فصلیں پیدا ہوئیں، حکومت کی زراعت دوست پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں نے 822 ارب روپے اضافی آمدنی حاصل کی،اضافی آمدنی کے نتیجے میں کسانوں کی طرف سے یوریا کی زیادہ خریداری ہوئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ کاشتکاروں کو خاص طور پر اگلے 3ہفتوں میں کھاد کی دستیابی گندم کی بمپر فصل ماڈل کرنے کے لیے بہت اہم ہے۔انہوں نے صوبائی چیف سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ذریعے کھاد کی ذخیرہ اندوزی، اسمگلنگ اورسپلائی چین سے باہر مڈل مین کے ذریعے خریداری کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔وزیراعظمنے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ کھاد کے پروڈیوسرز سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ اس سال گندم کی ریکارڈ پیداوار حاصل کرنے کے لیے کسانوں کو یوریا کی مناسب فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔علاوہ ازیں وزیراعظم کی زیر صدارت اسلام آباد میں میکرو اکنامک ایڈوائزری گروپ کا اجلاس ہواجس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں اجناس کی بلند قیمتوں کے باوجود ملک مین شرح نمو اب بھی 4 فیصد سے زیادہ رہنے کی توقع ہے، حکومت کے 3 سال معاشی کامیابی کی کہانی ہیں۔ مزید برآں وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ طلب کر لی۔وزیر اعظم نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو گوادر اور تربت میں متاثرین کو فوری امداد پہنچانے کی ہدایت کرتے ہوے کہا کہ متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جائے ۔

