English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سانحہ مری اور اداروں کی بے حسی پر پاکستانی امریکی شہری کا بین

القمر

نیویارک سے خالد بلتستانی

مری کے سانحہ اور حکومت کی بے حسی پر نیویارک سے پاکستانی نژاد امریکی شہری خالد بلتستانی نے اپنے احساسات کا اظہار کچھ اس طرح کیا ہے۔
کچھ ہونے والا نہیں ہے قوم اب کسی اسی طرح کے ایک دوسرے سانحہ کا انتظار کرے۔ ہاں ایک ٹوپی ڈرامہ پھر شروع ہوگا وزیراعظم صاحب ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائیں گے اس کو ہمیشہ کی طرح فل اختیار دیا جاے گا کہ وہ اپنی رپورٹ میں زمہ داروں کا نعین کر کے رپورٹ میں ان سب کے نام مینشن کرے جو اس سانحہ کے زمہ دار ہیں اور پھر یہ رپورٹ مکمل ہوکر فائلوں کے قبرستان میں دفن ہوجائے گی۔
فی ہلاکت ایک ایک دو دو کروڑ روپے دے کر رات گئی بات گئی ہوجائے گی۔ ان کے نزدیک اگر حکومت مخلص ہے تو کسی بھی کمیٹی کی ضرورت نہیں سب سے پہلے مری کی ساری سول انتظامیہ کو معطل کر ے۔ اس کے بعد کمیٹی کمیٹی کھیلے۔ اس آ فت زدہ علاقے میں جتنے کمشنر ڈپٹی کمشنر آ تےہیں سب کو فارغ کرے۔ ان سے پہلے یہ سانحہ کسی دور دراز ویران بیان یہ صحرا میں نہیں ہوا ہے۔ یہ مری اور اس کے اطراف میں پھیلی ہوئی سڑکوں اور گلیات کے اطراف میں ہوا ہے جہاں شاید ہر دو چار میل پر کسی نہ کسی علاقے کا تھانہ لگتا ہوگا کہاں مر گیے تھے سارے پولیس والے پبلک کی مدد کرنا علاقے کی پولیس کا کام ہے کدھر مرے تھے سارے تھانوں کے ایس ایچ اوز یہ پھر کیا مری اور۔ گلیات میں حکومت نے سارے تھانے ختم کردیے ہیں؟
پولیس کدھر غائب تھی خاکی وردی والے جن کا کام محازوں پر ہونا چاہیے ان سے پولیس کا کام بھی لیا جارہاہے پولیس کو ہمارے سیاستدانوں نے اپنی غلامی اور حرام کمانے کے لیے رکھا ہے۔ کسی بھی ملک میں اس طرح کی جب بھی آ فات آ تی ہے سارے شہر کی پولیس سڑکوں اور گلیوں میں شہریوں کی رہنمائی کے لیے چوبیس گھنٹے ایمر جنسی کی ڈیوٹیاں دینے کے لیے ہرسڑک پر ٹریفک کنٹرول کر رہی ہوتی ہے۔
یہ صرف پاکستان ایسا ملک ہے ساری دنیا میں جہاں وزیر اعظم اور صوبے کا وزیر اعلی نکل کر آ رڈر دے رہا ہوتا ہے کہاں مرے ہوتے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر، آئی جی اور ڈی آئ جی۔ پولیس اگر حکومت نے کچھ انصاف کرنا ہے تو علاقے کے آئی جی اور ڈی آئی جی پویس کے سارے علاقوں کے ایس ایچ اوز کمشنرز اور ان کے ڈپٹیز کو فورن ان کی زمہ داریوں سے فارغ کریں ورنہ تو یہ کمیٹی کمیٹی کمیشن کمیش کا چورن بیچنے والا ٹوپی ڈرامہ قوم کے ساتھ ختم کرے بلکہ جتنا پیسہ ان کمیٹیوں اور کمیشنوں کے حرام خوروں کو۔ رپورٹ بنانے کے لیے حکومت خرچہ کرے گی میں سمجھتا ہوں وہ پیسہ ان ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں میں تقسیم کردینا چاہیے لیکن ایسا ہونا والا نہیں۔ اتنے لوگوں کی ہلاکت پر اب ان کمیٹیوں، کمیشن کے افسران اور چیرمین صاحب ٹی اے ڈی اے اور دیگر مراعات کے نام پر لاکھوں کروڑوں روپے۔ کھا جائیں گے۔
آپ یقین کریں ویساہی ہونا ہے اور ہوگا جس ملک میں صدر اور وزیر اعظم سیلاب اور دوسری آفات کے نام پر آنے والی امداد کے قیمتی ہار چرا کر اپنی بیویوں کو تحفے میں دے دیتے ہیں اس ملک میں کبھی بھی کسی اُمّہ دار پولیس ا فیسر اور سول سروس ا فیسر اور کمشنرز کو آج تک نہ کسی حکومت نے ملازمت سے نکالا ہے اور نہ ہی کسی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ نے کبھی سزا دی ہے۔
آپ سب دیکھیں گے کہ جتنے بھی شہری ہلاک ہوئے ہیں ان غریبوں کے چالیسویں سے پہلے پہلے حکومت کے بنائے ہوئے سارے کمیشن اور کمیٹیاں مال کھا پی کر اگلے سال کے لیے اپنے خاندانوں کو ویکیشن پرکسی فارن کنٹری میں لے جاکر عیاشیوں میں لگا دیں گے۔ بس دیکھتا جا شرماتا جا پیارے
(نوٹ مصنف کی آرا سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے