English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مری میں سڑکوں پر پڑی برف ہٹانے اور راستوں کو کلیئر کرنے کا کام مکمل

مری میں شدید برفباری کے باعث مرکزی سڑکوں پر پڑی برف ہٹانے اور راستوں کو کلیئر کرنے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ ملحقہ راستوں سے برف ہٹانے اور آمدورفت کی بحالی کا کام جاری ہے۔

ایک روز قبل کلنڈنہ اور جھیکا گلی کے قریب شدید برف کے باعث سڑک پر گاڑیوں میں محصور ہو کر سردی اور دم گھٹنے سے 22 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق تمام راستے ہر طرح کی نقل و حرکت کے لیے کھولے جاچکے ہیں کھلنا اور باریاں کے راستے بھی کلیئر کردیے گئے ہیں۔

اسلام آباد سے مری جانے والے تمام راستے آج بھی بند ہیں—تصویر: ڈان نیوز

انہوں نے کہا کہ مرکزی راستے کلیئر کرنے کے بعد فوجی انجینئرز لنک روڈز پر توجہ دے رہے ہیں، ریلیف کیمپس اور طبی سہولیات بھرپور صلاحیت کے ساتھ کام کررہے ہیں جبکہ پھنسے ہوئے لوگوں کو فوجی ٹرانسپورٹ کے ذریعے اسلام آباد پہنچایا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے ایک ٹوئٹ میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گل نے بتایا کہ مری جانے والی تمام بڑی شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے کلیئر کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’گزشتہ رات تقریباً 600 سے 700 کاروں کو علاقے سے نکالا گیا، جس کے لیے راولپنڈی پولیس، ضلعی انتظامیہ اور پاک فوج کے جوانوں نے رات بھر کام کیا‘۔

شہباز گل نے مزید کہا کہ ’اسلام آباد اور راولپنڈی سے مری جانے والی سڑکوں پر پولیس اہلکار موجود ہیں، سڑکیں آج کے لیے بند رہیں گی‘۔

دوسری جانب پنجاب پولیس نے بھی ایک ٹوئٹر پیغام میں عوام سے اپیل کی کہ راولپنڈی/اسلام آباد سے مری جانے والے تمام داخلی راستے آج بھی بند ہیں، شہری اس طرف کا رخ نہ کریں۔

‘اتنی برفباری کی مثال نہیں ملتی’

نتھیا گلی کے قریب رہنے والے ایک انتظامی افسر بھی صورتحال پر حیران ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جتنی برف اس سال اس علاقے میں پڑی، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

نتھیا گلی کے قریب رہنے والے انتظامی افسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ برف باری یا شدید برفباری نہیں تھی بلکہ ایسی برفباری کی کوئی مثال نہیں ملتی کیونکہ ہر چند گھنٹے پر چار سے پانچ فٹ برف پڑ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنی شدید برفباری نہیں دیکھی، شدید آندھی چل رہی ہے، درخت جڑ سے اکھڑ چکے ہیں اور برفانی تودے گر رہے ہیں، لوگ انتہائی خوفزدہ ہیں اور ہر کسی کی اپنی ایک دردبھری کہانی ہے۔

تحقیقات کی یقین دہانی

دوسری جانب حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔

پنجاب حکومت کے ترجمان حسن خاور نے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح لوگوں کو بچانا ہے اور اس کے بعد ریلیف کا کام شروع کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اعلیٰ سطح کی انکوائری بھی کی جائےگ ی اور اگر کسی قسم کی کوتاہی نظر آئی تو ذمے داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

300 سے زائد افراد کو طبی امداد دی گئی

ہفتہ کو رات گئے جاری ایک بیان میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا کہ 300 سے زائد افراد کو آرمی ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کی ٹیم نے طبی امداد فراہم کی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ جھیکا گلی، کشمیری بازار، لوئر ٹوپہ اور کلڈنہ میں ایک ہزار سے زیادہ پھنسے ہوئے لوگوں کو کھانا فراہم کیا گیا

ساتھ ہی بتایا گیا کہ پھنسے ہوئے لوگوں کو ملٹری کالج مری، سپلائی ڈپو، آرمی پبلک اسکول اور آرمی لاجسٹک اسکول کلڈنہ میں رہائش دی گئی اور کھانا، چائے مہیا کی گئی۔

ہوٹل مالکان نے صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی

مری جانے والے اکثر سیاحوں نے سوشل میڈیا پر ہوٹل مالکان کے رویے کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ مری کے ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس کے مالکان نے کرایوں میں ہوشربا اضافہ کردیا جس سے مسئلہ مزید سنگین شکل اختیار کر گیا اور برفباری میں پھنسے لوگ کرائے کی ادائیگی کے بجائے اپنی گاڑیوں میں رات گزارنے پر مجبور ہوئے ۔

ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ اگر مقامی لوگ اور ہوٹل والے تعاون کرتے تو حالات مختلف ہوتے لیکن مری کے مقامی لوگوں کی ساکھ اور طرز عمل اس حوالے سے بہت خراب ہے۔

جہاں ایک طرف لوگ مری کے مقامی افراد اور ہوٹل مالکان کے رویے پر برہم ہیں، وہیں ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ مقامی لوگوں نے برف میں پھنسے سیاحوں کے لیے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے اور انہیں اس مشکل وقت میں کھانا اور کمبل پیش کیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا مری کا فضائی دورہ

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مری کے برفباری سے متاثرہ علاقوں کا فضائی معائنہ اور متاثرہ علاقوں میں جاری ریلیف آپریشن کا مشاہدہ کیا۔

وزیر اعلی عثمان بزدار کو ریلیف کمشنر/ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے ریلیف آپریشن کے بارے بریفنگ دی۔

خیال رہے کہ مری میں شدید برفباری، درختوں کے گرنے اور بڑی تعداد میں سیاحوں کے گاڑیوں میں پہنچنے سے سڑکیں بلاک ہوگئی تھیں جس کے پیشِ نظر سے جمعے سے مری میں داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔

سڑکیں بلاک ہونے کے سبب جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب سیاح اپنے گاڑیوں کے اندر برف میں پھنس کر رہ گئے تھے اور دم گھنٹنے، سردی کی وجہ سے 22 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

صورتحال بے قابو ہوتی دیکھ کر حکومت پنجاب نے مری کو آفت زدہ قرار دیتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی۔

بعدازاں پولیس، ریسکیو ورکرز اور پاک فوج کے جوانوں نے پھنسے ہوئے سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا اور سڑکیں کلیئر کیں۔

تاہم مری میں سیاحوں کے داخل ہونے پر تاحکم ثانی پابندی عائد ہے۔

سانحہ مری: محکمہ موسمیات کے شدید برفباری کے انتباہ پر توجہ نہیں دی گئی

مری میں 22 افراد کی اموات کا سبب بننے والی صورتحال سے چند روز قبل شدید برف باری کا انتباہ جاری کیا گیا تھا، اس کے باوجود نیشنل ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ سمیت متعلقہ محکمے پیشگی اقدامات کرنے میں ناکام رہے۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے دیگر محکموں اور راولپنڈی، اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ پہاڑی علاقے میں ٹریفک اور رہائش کے مسائل پر بات کرنے کے لیے کوئی پیشگی اجلاس نہیں بلایا گیا۔

محکمہ موسمیات نے 5 جنوری کو الرٹ جاری کیا تھا کہ شدید برف باری کے باعث مری، گلیات، نتھیاگلی، کاغان، ناران اور دیگر علاقوں میں 6 جنوری سے 9 جنوری کی سہ پہر تک سڑکیں بند ہوسکتی ہیں۔

محکمہ موسمیات نے کہا تھا کہ ’تمام متعلقہ حکام کو خاص طور پر پیش گوئی کی مدت کے دوران ‘الرٹ’ رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔‘

خیال رہے کہ 5 جنوری (بدھ) کو مری میں 6.5 انچ برف باری ہوئی، جس کے بعد اگلے روز 8.5 انچ جبکہ 7 جنوری (جمعہ) کی صبح سے ہفتہ کی صبح تک 16.5 انچ برف باری ریکارڈ کی گئی۔

محکمہ موسمیات کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ مری کے لیے یہ معمول کی برف باری ہے۔

محمکمہ موسمیات کی جانب سے یہ الرٹس اور معلومات ویب سائٹ پوسٹ کرنے کے علاوہ براہ راست بڑی تعداد میں سرکاری محکموں کو بھیجی جاتی ہیں۔

اگرچہ محکمہ موسمیات کے الرٹ کے فوراً بعد 5 جنوری کو تحصیل مری کی انتظامیہ نے ایک ٹریول ایڈوائزری جاری کی جس میں مشورہ دیا گیا کہ سیاحوں کو پہاڑی مقام پر جانے سے پہلے موسم کی تازہ ترین معلومات اور ٹریفک سے متعلق معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

چونکہ مری ضلع راولپنڈی کی ایک تحصیل ہے اس لیے ڈپٹی کمشنر نے زمینی حقائق کا جائزہ لینے کے لیے کوئی ہنگامی اجلاس نہیں بلایا۔

تاہم راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر محمد علی نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ سیاحوں کی سہولت اور ٹریفک کی روانی کو منظم کرنے کے لیے تمام اہم مقامات پر انسپکٹرز کی نگرانی میں ٹریفک وارڈنز کی ایک بڑی تعداد کو تعینات کردیا گیا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ بہارہ کہو کے بعد ٹول پلازہ پر سیاحوں کا داخلہ کیوں نہیں روکا گیا تو انہوں نے کہا کہ جمعہ کی شام 6 بجے کے بعد تحصیل مری کے تمام انٹری پوائنٹس کو بند کر دیا گیا تھا لیکن اس سے ایک اور افراتفری پیدا ہوگئی تھی کیونکہ خیبر پختونخوا اور پنجاب سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔

دوسری جانب این ڈی ایم اے کی راولپنڈی اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ہونے والے اجلاسوں کے دوران صرف جڑواں شہروں میں اربن فلڈنگ پر بات ہوئی۔

اس ضمن میں پنجاب حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا کہ ممکن ہے کہ این ڈی ایم اے مری میں ہونے والی تباہی کا اندازہ نہ لگاسکی ہو‘۔

جب مری میں پھنسے ہوئے لوگوں کے محفوظ انخلا کے لیے امدادی اور بچاؤ کی کوششیں جاری تھیں تو این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں بشمول فوج، ریسکیو 1122، راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ پولیس کے ساتھ اشتراک کیا۔

الیکٹرانک میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کی مدد سے تمام تجارتی مقامات بشمول ریستورانوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اضافی لوگوں کی رہائش کے انتظامات کریں، یہاں تک کہ مقامی لوگوں سے بھی کہا گیا کہ جہاں تک ممکن ہو پھنسے ہوئے سیاحوں ٹھہرائیں‘۔

جس کے بعد بہت سے مقامی ہوٹلوں نے مدد کی پیشکش کی اور ایک ہوٹل نے پھنسے ہوئے سیاحوں کو مفت کھانا فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

سانحہ مری: گاڑیوں میں دم گھٹنے کے واقعات سے کس طرح بچا جائے؟

اکبر علی پانی نکالنے والے پمپ اور جنریٹر کا بہت اچھا مکینک تھا۔ شہر میں بارش شروع ہوتے ہی بجلی بند ہوچکی تھی اس لیے اکبر نے سوچا کیوں نہ آج ورکشاپ سے چھوٹا گیس سے چلنے والا جنریٹر گھر لے جاؤں تاکہ بچے بڑے کم از کم رات سکون سے نیند پوری کرسکیں۔ اکبر مکینک کے چھوٹے سے گھر میں بغیر پنکھا چلائے بیٹھنا بھی محال تھا۔ ایک ہی بڑی کھڑکی تھی جو کھول لیں تو باہر سے بدبو اور مچھر دونوں کی یلغار ہوتی ہے۔

کمرے کے ساتھ ہی چھوٹا سا برآمدہ تھا لہٰذا اکبر صاحب نے جنریٹر وہاں رکھا اور پڑوسی زاہد الیکٹریشن کے تعاون سے مین سوئچ سے جنریٹر کا کنکشن لگا دیا۔ اگلی صبح سلیم بھائی حسبِ معمول اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ہر گھر کا دروازہ بجا کر پانی آنے کی اطلاع دینے نکلے، جب اکبر کے دروازے پر دستک دی تو خاموشی سے ایک لمحے کو ٹھٹھک گئے۔ بار بار دروازے پر دستک دینے کے باوجود کوئی جواب نہیں آ رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں گلی کے تمام بڑے اور بچے اکبر علی کے گھر کے باہر جمع ہوچکے تھے۔

اندر سے صرف جنریٹر چلنے کی اونچی آواز آ رہی تھی۔ محلہ دار باہمی مشورے کے بعد دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تو اکبر مکینک سمیت تمام اہلِ خانہ بستروں پر مردہ حالت میں پائے گئے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جنریٹر کا دھواں بھرنے سے پورے گھرانے کی موت واقع ہوگئی تھی۔ چند قدم دُور اکبر علی کا سسرال تھا لہٰذا ان کی ساس بھی حادثے کی اطلاع ملتے ہی فوری پہنچ گئیں۔ اکبر کی ساس نے روتے ہوئے سوال کیا کہ آخر جب دھواں بھر رہا تھا تو اکبر علی نے اٹھ کر تازہ ہوا کے لیے دروازہ کیوں نہیں کھولا؟ آخر جنریٹر کیوں بند نہیں کیا گیا۔ اہلِ محلہ کے ذہنوں میں یہی سوال تھا۔

گزشتہ برس فروری میں امریکی ریاست ٹیکساس میں سرد موسم میں اچانک آنے والے طوفان میں بھی ایسا ہی کچھ ہوا کہ جب ٹیکساس کے شہر ہوسٹن کو بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

سردی سے بچنے کے لیے اپنے گھر کے گیراج میں کھڑی گاڑی میں شوہر بیوی اور ان کے 2 بچوں پر مشتمل خاندان نے پناہ لی۔ صبح تک ماں اور ایک بچہ موت کے منہ میں چلے گئے جبکہ باپ اور دوسرا بچہ ہسپتال پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور ان کی جان بچ گئی۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جاں بحق ہونے والوں کے جسم سے زہریلی گیس کاربن مونو آکسائیڈ کے شواہد پائے گئے تھے۔ بعدازاں ہوسٹن انتظامیہ نے ایڈوائزری جاری کی کہ بلڈنگ کے اندرونی حصوں میں گاڑی چلا کر بیٹھنا موت کا سبب بن سکتا ہے۔

ایک دہائی قبل ہمارے پڑوس میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔ بجلی کی بندش اور شدید گرم موسم میں تھوڑی تسکین پانے کے لیے دو دوست اپنے گھر کے گیراج میں کھڑی گاڑی میں اے سی چلا کر سو گئے اور نہ جانے کس پہر انجن کی گیس کے سبب دونوں کی موت واقع ہوگئی۔ ان کے گھر والے گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے شہر سے باہر گئے ہوئے تھے اور انہیں 4 روز بعد دونوں کی موت کا علم ہوا۔

اب تک پورے ملک میں جنریٹر سے خارج ہونے والی گیس سے ہلاکتوں کے درجنوں واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں جبکہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں گیس کے ہیٹر سے متعلقہ اموات کی تعداد کافی زیادہ ہے۔

چند روز قبل مری سے دردناک مناظر پر مبنی ویڈیوز سامنے آئیں۔ ہنسنے کھیلنے کے لیے جانے والے 20 سے زائد افراد اچانک موت کی آغوش میں چلے گئے۔ درست وجوہات تو تحقیق کے بعد ہی سامنے آئیں گی لیکن مری پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق اموات گاڑی کے اندر گیس بھرنے کے سبب ہوئیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسا کیا ہوتا ہے کہ گاڑی کا ہیٹر سوئچ بند کرنے، جنریٹر کا بٹن یا پھر گیس کا وال بند کرنے کا موقع بھی نہیں مل پاتا؟ اکثر واقعات میں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرنے والوں نے زندہ رہنے کی جدوجہد جیسے کی ہی نہیں۔ ایسے تمام واقعات کا آپس میں کچھ تعلق ضرور بنتا ہے۔ آئیے وہی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کیا انجن سے نکلنے والی گیس زہریلی ہوتی ہے؟

کار انجن پیٹرول ہو یا قدرتی گیس سے چلنے والے انجن، سب ایک اصول کے تحت کام کرتے ہیں۔ ہوا اور فیول کا مکسچر جب انجن کے سیلنڈر میں اسپارک پلک کی مدد سے جلتا ہے تو انجن کے پسٹن کو حرکت میں لاتا ہے۔ یہی حرکت انجن چلانے کا سبب بنتی ہے۔

فیول اور ہوا کے اس مکسچر کے جلنے سے پیدا ہونے والی گیس ایگزاسٹ پائپ کے ذریعے ہوا میں تحلیل ہوجاتی ہے۔ گاڑیوں میں ایگزاسٹ پائپ سے مراد سائلنسر ہے۔ عام حالات میں ایک اچھی کنڈیشن والی گاڑی سے خارج ہونے والی گیسوں میں بڑا حصہ نائٹروجن، آبی بھاپ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ہوتا ہے جو اگرچہ ماحول کے لیے نقصان دہ ضرور ہیں لیکن زہریلی نہیں ہوتیں۔

انجن کی گیس زہریلی کب بنتی ہے؟

انجن چند مخصوص حالات میں کاربن مونو آکسائیڈ اور ہائیڈرو آکسائیڈ خارج کرتا ہے جس کی معمولی مقدار بھی انسانی صحت کے لیے شدید مضر اور جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ پاکستان میں نئے ماڈل کی گاڑیوں میں کیٹالیٹک کنورٹر نصب ہوتا ہے جس میں موجود فلٹر مضر صحت اخراج کے زہریلے مواد کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

پاکستان میں پرانی گاڑیوں میں کیٹالیٹک کنورٹر نہیں ہوتا۔ پرانے یا کمزور انجن سے کاربن مونو آکسائیڈ اور ہائیڈرو آکسائیڈ جیسی گیسوں کا زیادہ اخراج ہوتا ہے۔ بہت سے ممالک میں مخصوص عرصے کے بعد گاڑی سے نکلنے والی گیس کا تجزیہ کروا کر فٹنس سرٹفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔ اگر انجن کی گیس میں زہریلی گیس پائی جائے تو ایسی گاڑی کو چلانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

اگر گاڑی کو اسٹارٹ کرنے کے بعد کافی دیر تک چلایا نہ جائے تو زہریلی گیس بننے کا عمل شروع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور ایسا ہی خدشہ اس وقت بھی ہوتا ہے جب انجن شدید سرد موسم میں بغیر گاڑی چلائے چلتا رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گاڑی چلنے کی صورت میں انجن میں مخصوص حد تک حرارت پیدا ہوتی ہے جو انجن میں ہوا اور فیول کے مکسچر کو ایک مخصوص حد سے زیادہ گاڑھا نہیں ہونے دیتی۔

لیکن جب گاڑی کا انجن اسٹارٹ ہونے کے بعد گاڑی چلائی نہ جائے تو ایندھن گاڑھا ہوتا جاتا ہے اور مکمل طور پر بخارات میں تبدیل نہیں ہوتا، جس سے ہائیڈرو کاربن اور کاربن مونو آکسائیڈ کا زیادہ اخراج ہوتا ہے جو گرم انجن میں کم ہوسکتا تھا۔ جدید گاڑیوں میں پہلے کے مقابلے میں اس خامی پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے لیکن خطرے کو مکمل ختم نہیں کیا جاسکا ہے۔ سرد موسم میں کیٹالیٹک کنورٹر بھی ٹھیک سے کام نہیں کرتا۔

چھوٹے جنریٹروں میں کسی قسم کا کوئی فلٹر نصب نہیں ہوتا نیز سستے انجن کی تیاری کے لیے معیار پر سمجھوتہ کیا جاتا ہے۔ انجن اور ایگزاسٹ پائپ کے درمیان عام طور پر کوئی فلٹر بھی موجود نہیں ہوتا اور یہ بھی کہ انجن اور سائلنسر کے درمیان فاصلہ اس قدر کم ہوتا ہے کہ گیس بغیر کسی رکاوٹ کے اصل حالت میں باہر آ رہی ہوتی ہے۔

کاربن مونو آکسائیڈ کیا ہے؟

کاربن مونو آکسائیڈ بے رنگ و بُو انتہائی مضرِ صحت گیس ہے۔ یہ قاتل گیس خون میں شامل ہوکر خون سے آکسیجن کی روانی میں رکاوٹ ڈالتی ہے جس سے دل اور دماغ سمیت بہت سے اعضا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور بالآخر موت واقع ہوجاتی ہے۔

انجن کی گیس بند گاڑی میں کیسے داخل ہوسکتی ہے؟

اکثر یوں ہوتا ہے کہ گاڑی کے شیشے مکمل بند ہوتے ہیں لیکن کسی گندے نالے یا کچرے کے ڈھیر کے پاس سے بھی گزرے تو گاڑی کے اندر تک ناخوشگوار بُو پھیل جاتی ہے۔ ظاہر ہے یہ بدبو کسی راستے سے کار کے اندر داخل ہوئی ہوگی۔ دروازے کے خراب ربڑ یا ڈگی بھی وہ راستہ ہوسکتی ہے۔ کار کے اے سی سسٹم کے لیے ڈکٹ بنی ہوتی ہے جس کے کنٹرول سسٹم میں ہوا کی سمت کا تعین کرنے اور باہر کی ہوا کو اندر آنے کی اجازت دینے جیسے آپشن ہوتے ہیں۔

اے سی ڈکٹ میں مختلف چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں ہوتی ہیں جن کا ترتیب سے کھلنا اور بند ہونا ہوا کی سمت کا تعین کرتا ہے۔ پرانی گاڑیوں میں یہ سسٹم مینؤل ہوتا ہے یعنی نوب کو گھما کر ڈکٹ کی کھڑکی کھولی اور بند کی جاتی ہے جبکہ نئے ماڈل کی گاڑیوں میں بٹن سے یہ سب کام ہوتا ہے جس میں ہر اندرونی کھڑکی کے ساتھ چھوٹی سی موٹر منسلک ہوتی ہے۔ عموماً گاڑیوں میں یہ کھڑکیاں تھوڑی یا زیادہ لیکیج کر رہی ہوتی ہیں یعنی ہوا اندر آنے سے روکنے والی کھڑکی بند ہونے کے باوجود بھی باہر کی ہوا یہاں تک کے بعض اوقات مٹی بھی اندر آ رہی ہوتی ہے۔ آسان الفاظ میں یہی کہہ سکتے ہیں کہ گاڑی مکمل طور پر ایئر ٹائٹ نہیں ہوتی ہے۔

مری میں اموات کا ممکنہ سبب کیا ہو سکتا ہے؟

چونکہ پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں برف باری نہیں ہوتی اس لیے ہم برف باری کے دوران ڈرائیونگ کے اصولوں اور خطرات سے بھی بڑی حد تک واقف نہیں ہیں۔ دنیا کے جن ممالک میں شدید برف باری ہوتی ہے وہاں گاڑی کی خصوصیات اور اسے چلانے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے مثلاً سرد علاقوں میں گاڑیوں کے لیے خصوصی طور پر بنائے گئے ٹائر لگے ہوتے ہیں جو گاڑی کو برف پر پھسلنے سے محفوظ رکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ سفر پر نکلنے سے پہلے لوگ موسم کا حال ضرور سن لیتے ہیں بلکہ گاڑی کے ریڈیو میں بھی موسم کا حال بتانے والا چینل لگا رہتا ہے، اس کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر کسی موقعے پر درجہ حرارت منفی سے مثبت کی طرف چلا جائے تو ایک دم برف پگھلنے کے عمل کے دوران شدید پھسلن ہوسکتی ہے اور اس موقعے پر احتیاط سے گاڑی چلانی ہوتی ہے۔

پاکستان میں سانحہ مری نے تو سب کو افسردہ کردیا ہے لیکن ممکنہ اسباب کو سمجھے بغیر کسی ایسی صورتحال میں ہم بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں میں 4 فٹ تک برف پڑچکی ہے۔

پاکستان کے زیریں علاقوں سے لاکھوں افراد ہر سال برف باری سے لطف اندوز ہونے کے لیے مری سمیت دیگر بالائی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ اس سال بھی ایسا ہی ہوا لیکن برف باری معمول سے زیادہ تھی اور سیاحوں کا رش بھی زیادہ تھا۔

طوفان اور برف باری کے سبب مختلف علاقوں میں سڑک پر درخت اور بجلی کے پول گرنے کی وجہ سے بھی راستے میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور ہزاروں لوگ سڑکوں پر پھنسے رہے۔ اس دوران قیمتی جانوں کا نقصان بھی ہوا ہے۔ گمان یہی ہے کہ برف باری کے دوران پھنسی ہوئی گاڑیاں گھنٹوں تک راستہ ملنے کے انتظار میں کھڑی رہیں۔ اس دوران ممکنہ طور پر برف نے سڑک سے ایک فٹ اوپر گاڑی کے سائلنسر پائپ سے گیس کا اخراج بھی روک دیا ہوگا۔

گاڑی کا سائلنسر بند ہونے کی صورت میں انجن کمپارٹمنٹ میں ایگزاسٹ پائپ اور انجن کو ملانے والی سیل پر شدید دباؤ آتا ہے اور وہاں سے بھی لیکیج شروع ہوجاتی ہے۔ ممکنہ طور پر انجن کی گیس نے انجن کمپارٹمنٹ میں جمع ہونا شروع کیا ہوگا اور وہاں سے یہ اے سی کی ڈکٹ کے راستے کیبن میں داخل ہوئی ہوگی۔

کار کا انجن چونکہ انتہائی کم درجہ حرارت پر کھڑی حالت میں چل رہا تھا لہٰذا کاربن مونو آکسائیڈ کے پیدا ہونے کے امکانات بہت زیادہ تھے۔ سرد ہوا سے بچنے کے لیے کھڑکیاں بند تھیں اور گاڑی میں آکسیجن 4 یا 5 لوگوں کی ضرورت سے کم رہی ہوگی اور مزید یہ کہ کاربن مونو آکسائیڈ نے معصوم جانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا ہوگا۔

کینیڈا میں ہونے والی ایک تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگر کوئی گاڑی یا کوئی بھی مقام برف سے مکمل طور پر اس قدر ڈھک جائے کہ آکسیجن کے اندر آنے کا راستہ بھی بند ہوجائے تو 35 منٹ میں دم گھٹنے سے موت واقع ہوسکتی ہے۔ ممکن ہے کہ سانحہ مری کے دوران کچھ اموات کاربن مونو آکسائیڈ اور چند سردی میں ٹھٹھرنے جیسے معاملات کے سبب ہوئی ہوں۔

امریکی ریاست ٹیکساس میں اموات کیوں ہوئیں؟

امریکی ریاست ٹیکساس میں گاڑی میں گیس بھرنے سے گزشتہ سال ہونے والی ہلاکتوں کے بعد ایک مرتبہ پھر واضح الفاظ میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ کسی بھی ایسے مقام پر جہاں تازہ ہوا کی آمد و رفت کا خاطر خواہ انتظام نہ ہو وہاں گاڑی کا انجن چلا کر رکھنا خطرناک ہوسکتا ہے، یہاں تک کہ اگر گیراج میں گاڑی کھڑی ہے اور کوئی چھوٹا درازہ کھلا ہو تب بھی ایسا کرنے سے گریز بہتر ہوگا۔

ٹیکساس والی اموات کی وجہ کاربن مونو آکسائیڈ کا کار کے کیبن میں داخل ہوجانا تھا۔ ایک اہم بات یہ بھی جان لیں کہ بند گیراج میں گاڑی کا انجن چلا کر رکھنا گرمی یا سردی کسی موسم میں بھی خطرات سے خالی عمل نہیں ہے اس لیے ایسا کرنے سے لازمی گریز کیجیے۔

گیس ہیٹر کیسے اموات کا سبب بنتا ہے؟

پاکستان میں سردیوں کے دوران قدرتی گیس سے چلنے والے ہیٹر کا استعمال عام ہے۔ گیس ہیٹر سے ہونے والی اموات کی ایک بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ رات کسی پہر گیس کچھ دیر کے لیے بند ہوجاتی ہے اور کچھ دیر بعد دوبارہ آجاتی ہے، چونکہ گیس سپلائی بند ہونے سے برنر بند ہوجاتا ہے اس لیے دوبارہ سپلائی بحال ہونے پر برنر چلنے کے بجائے صرف گیس ہی ہوا میں تحلیل ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

چونکہ سردی سے بچاؤ کے لیے کمرہ ہر طرف سے بند ہوتا ہے لہٰذا گیس کچھ ہی دیر میں کمرے میں پوری طرح بھر جاتی ہے اور کمرے میں موجود آکسیجن پر غالب آجاتی ہے۔ نیند کی حالت میں لوگ آکسیجن کے بجائے گیس اپنے اندر کھینچتے ہیں اور بالآخر سانس گھٹنے سے ان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ طبّی زبان میں ایسی حالت کو ‘ایس فیزیا’ کہتے ہیں۔

گیس بھر جانے سے مرنے والے مزاحمت کیوں نہیں کر پاتے؟

عموماً ایسا اس وقت ہوتا ہے جب لوگ نیند کی حالت میں ہوتے ہیں۔ مخصوص مقدار سے زیادہ گیس پھیپھڑوں میں جاتے ہی جسم کے افعال کو کمزور بناتی ہے۔

گیس بھرنے کے باوجود موت سے بچ جانے والے ایک شخص نے بتایا کہ ان کے جسم میں اس قدر طاقت بھی باقی نہیں بچی تھی کہ سامنے دکھائی دینے والا دروازہ کھول دیتے یا کسی طرح باہر نکل جاتے یعنی اعصاب پر آکسیجن کی کمی اس قدر دباؤ ڈالتی ہے کہ ہلنا بھی مشکل ہوجاتا ہے اور انسان ہوش کھونے لگتا ہے۔

کسی مقام پر آگ لگ جائے تو جھلسنے سے زیادہ ان لوگوں کی اموات ہوتی ہیں جن کا دم گھٹ جاتا ہے۔ انسانی جسم میں آکسیجن جب کبھی ایک مخصوص سطح سے نیچے جائے گی تو بے ہوشی غلبہ پالیتی ہے اور دماغ ماؤف ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

برف باری یا شدید موسمی اثرات سے اپنی حفاظت کیسے کریں؟

اب تو ہر فون میں موسم بتانے والی ایپلیکشن موجود ہے اس لیے سفر پر جائیں یا کسی کام سے گھر سے باہر جارہے ہوں تو صرف ایک منٹ نکال کر موسم کا حال جان لیجیے تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جاسکے اور موسم کے مطابق لباس پہنا جاسکے، خاص طور پر جب شدید گرمیوں میں ہیٹ اسٹروک یا بارشوں کے موسم میں شدید طوفان کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہوں۔

امریکی ادارہ صحت گاڑی میں کاربن مونو آکسائیڈ سے محفوظ رہنے کے لیے تجویز کرتا ہے کہ اگر برف باری میں گاڑی پھنس جائے تو ایک گھنٹے میں صرف 10 منٹ گاڑی کا انجن اور ہیٹر چلائیں اور پھر بند کردیں۔ گاڑی کی ایک کھڑکی کو تھوڑا سے کھلا رکھیں اور یہ یقینی بنائیں کہ ایگزاسٹ پائپ بلاک نہ ہو۔

خدانخواستہ اگر آپ برف باری میں پھنس جائیں تو کوشش کریں کہ جاگتے رہیں اور جس قدر ممکن ہوسکے حرکت کرتے رہیں تاکہ جسم میں خون کی روانی جاری رہے۔ اپنے جسم کو جس قدر ممکن ہوسکے ڈھانپ لیں اور کوئی بھی حصہ کھلا نہ چھوڑیں۔

اکثر پاکستانی برف باری یا انتہائی سرد موسم کے عادی نہیں ہوتے لہٰذا ہمیں صرف اسی وقت ایسے علاقوں کے سفر کے لیے نکلنا چاہیے جب ہماری تیاری ہر طرح سے مکمل ہو یعنی راستے کا احوال اچھی طرح معلوم ہو۔ موجودہ دور میں گوگل میپ بھی ٹریفک کی صورتحال سے باخبر رکھتا ہے۔

آخری بات

کچھ دیر کی سہولت یا تفریح آپ کی قیمتی زندگی کا نعم البدل نہیں ہوسکتی ہے۔ احتیاط ضروری ہے اور اپنی جان کی حفاظت کو اوّلین ترجیح رکھیں۔

منبع: ڈان نیوز

The post مری میں سڑکوں پر پڑی برف ہٹانے اور راستوں کو کلیئر کرنے کا کام مکمل appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے