English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کالا بلدیاتی قانون جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنے پورے شہر میں پھیل گئے

القمر

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کے تحت سندھ حکومت کے بلدیاتی کالے قانون کے خلاف سندھ اسمبلی کے سامنے جاری دھرنے کے گیارویں روز دھرنو ں کا دائرہ وسیع کردیا گیا ،بنارس چوک ، ناظم آباد ، لسبیلہ چوک، گرومندر،نمائش چورنگی ، تبت سینٹر،ریگل چوک اوردیگرمقامات پر دھرنے دیے گئے، اورنگی ٹائون ، بلدیہ ٹائون ، میٹروول ، سعیدآباد ، بنارس ، پاک کالونی سمیت ضلع غربی اور کیماڑی کے مختلف علاقوں سے قافلے اور جلوس دھرنا دیتے اور احتجاج کرتے ہوئے مرکزی دھرنے کے مقام سندھ اسمبلی پہنچے ، شہر بھر سے بڑی تعداد میں خواتین نے بھی شرکت کی ۔دھرنے میں مزدوروں کے قافلے ،تاجر رہنمائوں و مارکیٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداران ، اقلیتی برادری کے نمائندوں اور گڈاپ ٹائون سے مختلف برادریوں اور قبائل کے نمائندوں نے بھی شرکت کی ۔ دھرنے سے نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی ، ضلع غربی کے امیر مولانامدثر حسین انصاری ،ضلع کیماڑی کے امیر مولانا فضل احدنے بھی خطاب کیا۔دھرنے میں مردو خواتین شرکا کے اندر زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا ۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے میں میڈیا کے نمائندوں ، خواتین اور دیگر شرکا سے الگ الگ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کل حکومتی نمائندوں کو پھر بتایا ہے کہ کراچی کومیگا سٹی کا درجہ دیا جائے۔یہاں پر یونین کمیٹیوں کی تعداد کسی بھی طرح انصاف پر مبنی نہیں ہے۔کراچی میں ایک یونین کونسل کے لیے 65 ہزار آبادی کو ایوریج رکھا گیا ہے۔اس طرح آپ خود کراچی اور باقی سندھ میں آبادی کی نامناسب تقسیم کررہے ہیں۔ہم کہتے ہیں ،پورے سندھ میں آبادی کی تقسیم ایک جیسی رکھیں۔کراچی میں 600 یونین کمیٹیاں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کو پورے ملک میں یوم یکجہتی کراچی منایا گیا۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اور نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے پورے ملک کودھرنے کی حمایت میں لا کر کھڑا کیاہے ، ہمارے بچے اور بزر گ اور خواتین دھرنے میں مسلسل موسم کی سختی برداشت کر رہے ہیں۔جس طرح دھرنے کے شرکا نے استقامت کے ساتھ وقت گزارا ہے۔اس سے شہر کے لوگوں میں اُمید پیدا ہوئی۔کراچی ایک میگا سٹی ہے۔یہاں تمام مذہبی اور لسانی اکائیاں موجود ہیں۔اس شہر پر پورے ملک کا انحصار ہے، اس وقت مجموعی طور پر صورتحال یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کو سرکاری ملازمتیں نہیں مل رہی ہیں۔کراچی میں ایک بھی اسپتال ایسا نہیں ہے جہاں مناسب سہولیات مسیر ہوں ،شہر میں کہیں بھی چلے جائیں جگہ جگہ گڑھے نظر آتے ہیں۔کوئی ترقیاتی پروجیکٹ آگے نہیں بڑھ رہا ہے ، ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی سے وصول کیا گیا موٹر وہیکل ٹیکس کراچی میں ہی خرچ ہونا چاہیے ۔کل حکومت کا وفد آیا تھا۔ہم نے واضح کردیا ہے کہ ہم فیس سیونگ نہیں بامعنی مذاکرات چاہتے ہیں۔اس لیے ہم نے مذاکرات کے لیے کمیٹی کا اعلان کردیا ہے۔اگر بامقصد مذاکرات کرنے ہیں تو حکومتی نمائندے متنازع باتیں نہ کریں۔امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جب میئر براہ راست منتخب ہو سکتا ہے تویہاں کیوں نہیں،کراچی میں بھی مئیر کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے۔ہم دوسری سیاسی جماعتوں سے بھی کہتے ہیں اگر دم ہے تو وہ بھی ریڈ زون میں آکر احتجاج کرلیں۔ دھرنے میں این ایل ایف کراچی کے صدر خالد خان ، سیکرٹری قاسم جمال اور دیگر تنظیموں کے رہنمائوں اور مزدوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ٹھیکیداری نظام کے ظلم ، جبری برطرفیوں ، سن کوٹے کی بندش سمیت دیگر مسائل بیان کیے ۔ نائب امیر کراچی اسامہ رضی نے ان کا خیر مقدم کیا اور جماعت اسلامی کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ، دھرنے سے خالد خان ، قاسم جمال ، محمد سلیم ، کے پی ٹی ایمپلائز یونین کے لالا نذیر ، اسٹیچنگ گارمنٹ ہوزری لیبر الائنس کے ذکی الدین ، ٹرائی پیک لیبر یونین سی بی اے کے نیاز حسین ، میریٹ پیکجنگ یونین کے شہادت علی ، ماہی گیر اتحاد یونین کے نورحسین اراکانی ، کے الیکٹرک لیبر یونین کے زمرد خان اور دیگر مزدوررہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے مطالبات اور دھرنے کے شرکا سے اظہار یکجہتی کیا اور کراچی سمیت سندھ بھر کے عوام کی جاری جدوجہد میں مزدور بھی شانہ بشانہ ہیں ، حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں تحریک جاری رہے گی ۔چیئر مین جامع الائنس مارکیٹ ایوسی ایشن کے شیخ محمد ارشاد ، صدر اللہ والا مارکیٹ کے شیخ محمد رفیع احمد ، صدر نیو جامع چیمبر کے مسرور احمد ، جنرل سیکرٹری آرام باغ کلاتھ ایسوسی ایشن کے عبدالٰہی خان ، فنانس سیکرٹری آرام باغ کلاتھ ایسوسی ایشن کے شاہد خان ، جامع کمپلیکس کے نائب صدر محمد ایوب ،جامع کلاتھ مارکیٹ کے فنانس سیکرٹری سید عابد علی ، نیو کاظم دخا مارکیٹ کے جنرل سیکرٹری محمد حنیف ، نیو جامع مارکیٹ کے عبدالقدیر ، صدر شاہ فیصل مارکیٹ کے شیخ محمد ذیشان شمسی نے شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی تاجر برادری بھی جماعت اسلامی کی دھرنا تحریک اور حقوق کراچی کی جدو جہد میں شریک ہے ، دھرنے میں کرسچن پیپلز الائنس سندھ کے صدرپاسٹر جمال راجپوت ،کراچی کے صدر پاسٹر ریحان غوری ، مسیحی مذہبی اسکالر مسز غزالہ شفیق ، جماعت اسلامی منارٹی ونگ کے صدر یونس سوہن ایڈووکیٹ، جنرل سیکرٹری پرویز برکت نے بھی شرکت کی اور اقلیتی برادری کی جانب سے دھرنے کے شرکا سے اظہاریکجہتی کیا ۔ پالاری ،خاصخیلی ،گبول کلمتی اور قبائل پر مشتمل کراچی راجوڑی اتحاد کے شاہجہاں جوکھیو ، عبد الستار برفت سمیت دیگر رہنمائوں نے گڈاپ کے عوام کے ہمراہ دھرنے میں شرکت کی ،اپنے اتحاد میں شامل تمام برادریوں اور قبائل کی جانب سے عوام کے حقوق کے لیے جاری جماعت اسلامی کے دھرنے سے اظہار یکجہتی کیا ۔ شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ سندھ حکومت کا کالا قانون صرف کراچی کے عوام ہی نہیں سندھ کے تمام لوگوں اور مظلوم و محکوم عوام کے خلاف ہے اسے کسی صورت قبول نہیں کیا سکتا ۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن دھرنے میں شریک خواتین سے خطاب کررہے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے