English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

دنیا بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام کی دھمکی کا نوٹس لے،وزیراعظمچ

القمر

اسلام آباد( نمائندہ جسارت) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی برادری بھارت میں انتہاپسندوں کی مسلمانوںکے قتل عام کی دھمکیوں کا نوٹس لے اور اس کے خلاف کارروائی کرے۔وزیر اعظم نے پیر کومتعدد ٹوئٹس میں مودی کو ان کی ’مسلسل خاموشی‘ اور انتہا پسند ہندوتوا گروپوں کے خلاف بے عملی پر تنقید کا نشانہ بنایا جو ملک میں اقلیتوں کی نسل کشی کا مطالبہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیزی کے پیچھے بی جے پی حکومت کا ’انتہا پسند نظریہ‘ ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی کی مودی سرکار کے شدت پسندانہ نظریے کے سائے میں ہندوتوا جتھے پوری ڈھٹائی اور آزادی سے بھارت میں تمام مذہبی اقلیتوں پر حملہ آور ہیں۔عمران خان نے مودی حکومت کی مسلسل خاموشی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بی جے پی حکومت اقلیتوں کے خلاف انتہا پسندوں کی ترغیب کی حامی ہے،مودی حکومت خطے کے ’امن کے لیے ایک حقیقی اور موجودہ خطرہ‘ ہے جبکہ بھارت میں تمام اقلیتیں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرپرستی میں کام کرنے والے انتہا پسند گروپوں کے نشانے پر ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھارت میں کئی انتہائی دائیں بازو کے گروہوں کے رہنماؤں نے ملک میں اقلیتوں کی نسلی کشی کا اعلان کیا تھا جس کا خاص طور پر نشانہ ملک کی 20 کروڑ مسلمان آبادی تھی۔دی کوئنٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ہندوتوا کے رہنما یاتی نرسنگھانند نے 17 سے 19 دسمبر تک اتراکھنڈ کے یاتری شہر ہریدوار میں نفرت انگیز تقاریر سے بھرپور اجتماع کا اہتمام کیا تھا، جہاں اقلیتوں کا قتل کرنے اور ان کے مذہبی مقامات پر حملہ کرنے کی جانب اکسایا گیا تھا۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہندو رکشا سینا کے صدر سوامی پربودھانند گیری نے کہا کہ ’میانمار کی طرح، ہماری پولیس، ہمارے سیاست دان، ہماری فوج اور ہر ہندو کو ہتھیار اٹھانا ہوں گے اور صفائی ابھیان (نسل کشی ) کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے۔سیاسی جماعت ہندو مہاسبھا کی جنرل سیکرٹری سادھوی اناپورنا نے بھی ہتھیاروں اور نسل کشی پر اکسانے کی ترغیب دی تھی۔دی وائر نے ان کی تقریر کا حوالہ دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہتھیاروں کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں، اگر تم ان کی آبادی کو ختم کرنا چاہتے ہو تو انہیں مار دو، مارنے کے لیے تیار ہو جاؤ اور جیل جانے کے لیے تیار رہو، یہاں تک کہ اگر ہم میں سے 100 لوگ بھی ان میں سے 20 لاکھ (مسلمانوں) کو مارنے کے لیے تیار ہو جائیں، تب بھی ہم جیت جائیں گے اور جیل جائیں گے۔رپورٹ کے مطابق مذہبی رہنما سوامی آنندسوروپ نے ایک مثال دی کہ سڑک پر مسلمان دکانداروں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں جس گلی میں رہتا ہوں وہاں ہر صبح مجھے ایک ملا نظر آتا تھا جس کی داڑھی ہے اور آج کل وہ زعفرانی داڑھی رکھتا ہے۔ یہ ہریدوار ہے مہاراج، یہاں کوئی مسلمان خریدار نہیں ہے، اس لیے اس شخص کو اٹھا کر باہر پھینک دو۔دی وائر نے لکھا کہ اس 3روزہ سربراہی اجلاس میں حکمران جماعت کی طرف سے سیاسی حوصلہ افزائی کے لیے بی جے پی رہنما اشونی اپادھیائے اور بی جے پی مہیلا مورچہ کی رہنما ادیتا تیاگی نے بھی شرکت کی۔ا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے