ویب ڈیسک —
منگل کو قازقستان کے صدر نے اعلان کیا کہ روسی زیر قیادت سیکیورٹی اتحاد نے اپنا مشن مکمل کر لیا ہے اور دو روز میں ان کی واپسی شروع ہو جائے گی۔
پچھلے ہفتے یہ فوجی قازقستان میں ہنگاموں اور بدامنی کو کنٹرول کرنے کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔ سابق روسی ریاستوں کے فوجی اتحاد، کلیکٹیو ٹریٹی آرگنائزیشن سے تعلق رکھنے والے ان فوجیوں کی اکثریت کا تعلق روس سے ہے۔ یہ قازقستان کے صدر کی درخواست پر وہاں حکومت مخالف مظاہروں کو ختم کرانے کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔
30 سال پہلے سابق سویت یونین سے آزاد ہونے کے بعد یہ شدید ترین حکومت مخالف عوامی مظاہرے تھے۔ مظاہروں کا آغاز تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں ہر احتجاجی مظاہروں سے ہوا تھا۔
دو جنوری سے شروع ہونے والے یہ مظاہرے بڑھ کر سیاسی رنگ اختیار کر گئے اور آمرانہ حکومت کے خلاف یہ پورے ملک میں پھیل گئے۔ چند ہی روز میں یہ مظاہرے پر تشدد ہو گئے اور مظاہرین سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کرنے لگے۔ نتیجتاً درجنوں شہری اور قانون نافذ کرنے والے اہل کار ہلاک ہوئے۔
سب سے زیادہ بد امنی قازقستان کے سب سے بڑے شہر الماتی میں ہوئی۔ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایوف نے کہا ہے کہ ان ہنگاموں کے پیچھے دہشت گرد تھے، جنہیں غیر ملکی سرپرستی حاصل ہے۔
کلیکٹیو ٹریٹی آرگنائزیشن (CSTO) سے مدد طلب کرنے کا دفاع کرتے ہوئے منگل کو پارلیمنٹ سے خطاب میں توکایوف نے کہا کہ اگر ہم ایسا نہ کرتے تو نہ صرف الماتی بلکہ دارالحکومت اور پورے ملک پر ہمارا کنٹرول باقی نہیں رہتا۔
صدر نے کہا کہ CSTO نے اپنا مشن مکمل کر لیا ہے اور اب ان کے فوجیوں کی واپسی دو روز بعد شروع ہو جائے گی۔ اس ساری کارروائی میں دس دن سے زیادہ نہیں لگیں گے۔
ادھر کریملن کے ترجمان سے پوچھے گئے اس سوال پر کہ فوجوں کی واپسی اتنی جلدی کیوں کی گئی تو جواب میں ترجمان دیمیتری پیسکوف نے کہا کہ فوجیں قازقستان کے صدر کی درخواست پر بھیجی گئی تھیں اور واپسی بھی انہیں کی صوابدید پر ہو رہی ہے۔ یہ ان کا تجزیہ ہے اور ہم اس میں مداخلت کا کوئی حق نہیں رکھتے۔
صدر توکایوف نے منگل کو علی خان اسمائیلوف کو ملک کا نیا وزیر آعظم مقرر کر دیا ہے۔ انچاس سالہ اسمائیلوف ملک کے وزیرخزانہ رہ چکے ہیں۔ عوام کو راضی کرنے کی غرض سے انہوں نے سابق وزیر ااعظم اور کابینہ کو برخواست کر دیا تھا اور 180 دنوں کے لیے ایندھن کے نرخوں میں اضافے پر پابندی لگا دی ہے، اس کے علاوہ ملک کی انتہائی مقتدر شخصیت نور سلطان نذر بایوف کو قومی سلامتی کونسل کی سربراہی سے بھی ہٹا دیا ہے۔
الماتی میں زندگی اب معمول کی طرف لوٹ رہی ہے۔ دکانیں، بازار کھل گئے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ چلنا شروع ہو گئی ہے۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران بہت سی دکانوں کو لوٹ لیا گیا تھا۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ حکومت اس سلسلے میں کیا مدد کرے گی۔
(خبر کا مواد اے پی سے لیا گیا ہے)
