English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

‘سائبرسیکیورٹی اور آب و ہوا کا بحران بڑھتا جا رہا ہے: عالمی رپورٹ’

عالمی اقتصادی فورم نے منگل کو ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سائبر سیکیورٹی اور خلا دنیا کی معیشت کے لیے ابھرتے ہوئے خطرات ہیں، جو کہ موسمیاتی تبدیلی اور کرونا وائرس کی وبا سے پیدا ہونے والے درپیش چیلنجوں میں اضافے کا باعث ہیں۔

عالمی خطرات سے متعلق جاری ہونے والی یہ رپورٹ 1000 ماہرین اور رہنماوں کی آرا کے سروے پر مبنی ہے۔

عام طور پر یہ رپورٹ سوئٹزرلینڈ کے برف پوش مقام ڈیوس میں بزنس رہنماووں اور عالمی رہنماؤں کے سالانہ موسم سرما کے اجتماع سے پہلےجاری کی جاتی ہے۔

لیکن کرونا کی عالمی وبا کے باعث اس فورم کو لگاتار دوسرے سال ملتوی کر دیا گیا ہے۔ البتہ، ورلڈ اکنامک فورم اب اگلے ہفتے چند ورچوئل اجلاس منعقد کرے گا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹد پریس کے مطابق اس سال کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن 2022 کے آغاز پر وبائی بیماری اور اس کے معاشی اور معاشرتی اثرات اب بھی دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔

تازہ ترین عالمی منظر کیسا دکھائی دے رہا ہے ؟

اس وقت ترقی یافتہ اور ترقی پزیر قوموں میں ویکسین تک رسائی میں بڑا فرق ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کی معیشتیں غیر مساوی شرح پر بحال ہو رہی ہیں اور یہ رجحان سماجی تقسیم کو مزید وسیع کر سکتا ہے اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کو ہوا دینے کی وجہ بن سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی وبا سن 2024 تک عالمی معیشت کو 2.3 فیصد کا نقصان پہنچائے گی۔

ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں وبائی مرض سے پہلے کے مقابلے میں 5.5 فیصد سکٹرنے کی پیش گوئی ہے، جبکہ امیر ممالک کی معیشتیں 0.9 فیصد کی شرح سے آگے بڑھیں گی۔

ڈیجیٹل خطرات

عالمی وبا کے دوران دفاتر میں کام کرنے والے بہت سے لوگ گھر سے کام کر رہے ہیں جبکہ طالب علم گھر سے کلاس لیتے ہیں۔ ان رجحانات نے آن لائن پلیٹ فارمز اور آلات کی ایک بڑی تعداد کو جنم دیا اور رپورٹ کے مطابق ان کے نتیجے میں رونما ہونے والی تبدیلی نے سلامتی کو درپیش خطرات میں ڈرامائی انداز میں اضافہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں ڈیجیٹل معاملات کی ماہر کیرولینا کلنٹ، جو مارش نامی کمپنی میں رسک مینجمنٹ کی سربراہ ہیں، کہتی ہیں کہ "ہم اس وقت اس مقام پر ہیں جہاں سائبر حملوں کو کو مؤثر طریقے سے روکنے اور ان کا انتظام کرنے کی ہماری صلاحیت کے مقابلے میں یہ خطرات زیادہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔”

خیال رہے کہ مارش کی پیرنٹ کمپنی مارش میکملن، زہورچ انشورنز گروپ اور ایس کے گروپ نے مل کر ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ تیار کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آن لائن فورمز کے وسیع تر استعمال سے سائبر حملے زیادہ جارحانہ اور وسیع تر ہوتے جا رہے ہیں، کیونکہ مجرم زیادہ خطرناک اہداف کے پیچھے جانے کے لیے سخت ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔

امریکہ میں سائبر حملے اور چین کا کردار





please wait



No media source currently available

ڈیجیٹل دنیا میں نقائص پیدا کرنے والے میلویئر اور تاوان کے لیے کیے جانے والے آن لائن حملوں کا دور دورا ہے۔ دوسری طرف کرپٹو کرنسیوں میں اضافے سے آن لائن مجرموں کے لیے اپنی جمع کردہ ادائگیوں کو چھپانا آسان ہوتا جارہا ہے۔

سروے کا جواب دینے والوں نے سائبر سیکیورٹی کےخطرات کو مختصر اور درمیانی مدت کے خطرے کے طور پر شمار کیا ہے۔ لیکن ماہرکلینٹ نے کہا کہ رپورٹ کے مصنفین اس بات پر فکر مند ہیں کہ اس مسئلے کو اہم ترین مسائل میں شامل ہونا چاہیے۔ایسا کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ سائبر حملے کمپنیوں اور حکومتوں کے لیےایک یعنی ‘بلائنڈ اسپاٹ’ ہے۔

خلا ئی دوڑ

رپورٹ میں خلائی مہمات کو خطرات کی آخری حد قرار دیا ہے۔

جدید ترقی کے دور میں سیاروں کو لانچ کرنے کی ٹیکنالوجی میں آنے والی لاگت میں کمی نے کمپنیوں اور حکومتوں کے درمیان ایک نئی خلائی دوڑ شروع کر دی ہے۔

مثال کے طو رپر رپورٹ کہتی ہے کہ گزشتہ سال، آن لائن تجارت کی بڑی کمپنی ایمیزون کے بانی جیف بیزوز کے خلائی سیاحتی منصوبے بلیو اوریجن اور ورجن گیلیکٹک کمپنی کے رہنما رچرڈ برانسن نے خلائی مشنز کا آغاز کیا، جبکہ ایلون مسک کے اسپیس ایکس کے کاروبار نے خلابازوں اور سیٹلائٹس کو لانچ کرنے کی جانب بڑی پیش رفت کی۔

دریں اثنا، بہت سے ممالک اپنے خلائی پروگراموں کو تیز کر رہے ہیں کیونکہ وہ جغرافیائی سیاسی اور فوجی یا سائنسی اور تجارتی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

لیکن ان تمام پروگراموں سے زمین کے مدار میں ٹکرانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مداروں کے بڑھتے ہوئے استعمال نے خلا میں بھیڑ اور ملبے میں اضافے سے ٹکڑاو کے ممکنہ خطرات کو بڑھا دیا ہے۔

کیا خلا کی سیاحت کا عام آدمی کو فائدہ ہو گا؟





please wait



No media source currently available

خلائی استحصال ان شعبوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں سروے میں شامل جواب دہندگان کے خیال میں چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بہت کم بین الاقوامی تعاون موجود ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کی منیجنگ ڈائریکٹر سعدیہ زاہدی نے جنیوا سے ایک ورچوئل پریس بریفنگ میں کہا کہ اس سروے کا جواب دینے والے ماہرین اور رہنما اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ خلا میں بہترین طریقے سے آگے بڑھنے کے لیے بہت کچھ کیا جا رہا ہے۔”

ان کے مطابق دیگر شعبوں میں مصنوعی ذہانت، سائبر حملے اور نقل مکانی اور مہاجرین شامل ہیں۔

موسمیاتی بحران

موسمیاتی تبدیلی کا بحران سب سے بڑا طویل مدتی مسئلہ ہے۔

اس تحقیقی سروے کے جواب دہندگان کے مطابق، اگلی دہائی کے دوران کرہ ارض کے حالات سب سے زیادہ تشویش ناک ہیں، جس میںسرفہرست تین خطرات یعنی موسمیاتی تبدیلی، انتہائی درجے کےموسم، اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان پر عمل کرنے میں ناکامی شامل ہیں۔

لاہور میں اسموگ کی بنیادی وجہ کیا ہے؟





please wait



No media source currently available

ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے مختلف ممالک مختلف طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ کچھ ممالک دوسرے کے مقابلے کاربن کے صفر اخراج کا ماڈل اپنانے کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دونوں نقطہ نظر کے منفی پہلو ہیں۔

ایک طرف تو کم رفتار سے آگے بڑھنے سے زیادہ لوگوں کو بنیاد پرست بتایا جا سکتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت فوری طور پر کام نہیں کر رہی ہے۔
دوسری طرف کاربن کا استعمال کرنے والی صنعتوں سے تیزی سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش معاشی بحران کو جنم دے سکتی ہے اور لاکھوں لوگ اپنا روزگار کھو سکتے ہیں۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ جلد بازی میں ماحولیاتی پالیسیوں کو اپنانے سے فطرت کے لیے غیر ارادی نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔

ان کے علاوہ غیر آزمودہ بائیو ٹیکنیکل اورجیو انجینئرنگ ٹیکنالوجیز کے استعمال کے متعلق ابھی بہت سے نامعلوم خطرات منڈلا رہے ہیں۔

اس خبر میں شامل مواد خبر رساں ادارے اے پی سے لیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے