
کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کے تحت سندھ حکومت کے بلدیاتی کالے قانون کے خلاف سندھ اسمبلی کے سامنے جاری دھرنا چودھویں روز بھی جاری ہے، مرکزی دھرنے کے علاوہ شہر کے دیگر مقامات پر بھر دھرنے دیے گئے ،ضلع گلبرگ وسطی سے آنے والے قافلے واٹر پمپ چورنگی ، عائشہ منزل ، کریم آباد ،لیاقت آباد ڈاکخانہ ،گرومندر، نمائش چورنگی ،تبت سینٹر اور ریگل چوک پر دھرنے دیتے اور احتجاج کرتے ہوئے سندھ اسمبلی پہنچے ، دھرنے سے امیرضلع گلبرگ فاروق نعمت اللہ نے بھی خطاب کیا۔ دھرنے میں عوامی شرکت اور جوش و خروش میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ،،شہر بھر سے بڑی تعداد میں خواتین نے بھی شرکت کی ۔حیدرآباد سمیت اندرون سندھ سے آنے والے وفود ،اورنگی ٹائون سمیت دیگرعلاقوںکی تاجر تنظیموں و ایسوسی ایشنز کے عہدیداران ودیگر وفود نے بھی شرکت کی اور دھرنے کے شرکا سے اظہار یکجہتی کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے کے شرکا ، حیدرآباد سمیت سندھ کے مختلف علاقوں سے آنے والے وفود اور خواتین سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سندھ کے حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ تم کراچی ہی نہیں پورے سندھ پر قابض ہو،یہ قبضہ ختم کرو اور مظلوم اور محروم عوام کو ان کا حق دو ، سندھ اسمبلی پر جاری یہ کراچی دھرنا قوم کے بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے ، کراچی دھرنا عوامی امیدوں کا مرکز و محور بن گیا ہے ،انہوں نے کہاکہ کراچی پر قبضے کا مطلب سندھی مہاجر سرائیکی پٹھان بلوچ سب کے حقوق پر قبضہ ہے ،کراچی کو اس کا حق ملے گا تو ہر زبان بولنے والا کراچی کا ہر شہری خوش رہے گا اور اس کے مسئلے حل ہوں گے۔ ہمارے دھرنے میں کراچی کے ہر علاقے اور ہر زبان بولنے اور اندرون سندھ سے وفود نے شرکت کی اور یہ ثابت کردیا ہے کہ لسانیت و عصبیت کی سیاست نہیں چلے گی۔لسانیت و عصبیت کی سیاست پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے کی ہے جو انہی کو مبارک ہو۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم کا کہنا تھا ہم دھرنا ختم کردیں لیکن ہم نے واضح کردیا تھا کہ دھرنا بھی جاری رہے گا اور مذاکرات بھی ،3 دن ہوگئے کوئی پیش رفت نہیں ،بامقصد مذاکرات سے راہ فرار اختیار کی گئی تو ہم شارع فیصل پر بھی دھرنے کا اعلان کرسکتے ہیں ، ہم وزیر اعلیٰ ، بلاول زرداری اور آصف زرداری سے کہتے ہیں کہ یہ کیسی پالیسی ہے کہ مذاکرات بھی کرنا چاہتے ہیں اور صوبائی وزرا ایسے بیانات دے رہے ہیں کہ مذاکرات کا عمل اور فضا خراب ہو جائے، صوبائی وزارت اطلاعات میڈیا پر کروڑوں روپے کے اشتہارات دے کر من پسند سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے ، ہم امید کرتے ہیں کہ میڈیا عوامی احساسات و جذبات کی ترجمانی کرے گا ۔میں تو حیران ہوں کہ سعید غنی صاحب ایسا کیوں کہہ رہے ہیں ،وہ جس آمر کی بات کررہے ہیں اسی کی حکومت میں سعید غنی یوسی چیئرمین تھے اور وہ اس کمیٹی میں بھی شامل ہیں جو ہم سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی ہے ،وہ یہ بتائیں کہ وہ جماعت اسلامی کے خلاف بات کر رہے ہیں یا پیپلز پارٹی کے خلاف ،وہ بھول گئے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان کو ڈیڈی کون کہتا تھاسعید غنی صاحب یہ بتائیں کیا کے ڈی اے سندھ حکومت کے ماتحت ہونا چاہیے یا نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی 14 سال سے صوبے پرمسلط ہے اس نے کراچی سمیت پورے سندھ کو تباہ کیا ،بلدیاتی اداروں سے اختیارات لے کر انہیں مفلوج بنایا ،پچھلے کئی سال سے دعویٰ کیے جارہے ہیں کہ 3 سو بسیں آنے والی ہیں لیکن آج تک ایک بس بھی نہیں آئی ،نعمت اللہ خان کے مکمل کردہ K3منصوبے کے بعدآج تک K4منصوبہ پورا نہیں ہوا ،صوبے کا 95 فیصد ریونیو کراچی دیتاہے لیکن اس تناسب سے اسے حق نہیں دیا جاتا ،وفاقی حکومت نے بھی کے فور کے لیے نعرے اور اعلانات کے سوا کچھ نہیں کیا۔انہوں نے مزیدکہاکہ کوئی وڈیرہ اور جاگیردار کسی صورت نہیں چاہتا کہ عوام کو اختیارات ملیں اور وہ اوپر آئیں ،بلدیاتی نمائندے بااختیار ہوںگے تو پورے سندھ کے نمائندے بااختیار ہوں گے، اندرون سندھ میں کونسلرز،چیئر مین اور میئربھی پیپلز پارٹی سمیت کسی بھی پارٹی کا ہو ہم ان سب کو بااختیار اور باوسائل کرنے کی بات کرتے ہیں ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی میں میگاسٹی گورنمنٹ قائم کی جائے ،دیہی و شہری آبادی میں یکساں تناسب سے نئی حلقہ بندیاں کی جائیں ،بین الاقوامی طرزکا ٹرانسپورٹ کا نظام دیا جائے،شہر میں میئر ،ڈپٹی میئر ،کونسل کے ممبران کا براہ راست انتخاب کیا جائے ،کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کا نگران بااختیار میئر کو بنایا جائے ،بااختیار شہری حکومت کے ماتحت صحت ،تعلیم، اسپورٹس، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا مربوط نظام بنایا جائے، کے ڈی اے ،ایس بی سی اے ،واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ،سٹی پولیس وٹریفک پولیس سمیت بلدیاتی اداروں میگاسٹی گورنمنٹ کے تحت کیے جائیں ، کوٹا سسٹم ختم اورنئی مردم شماری ڈی فیکٹو کے بجائے ڈی جور طریقے سے کی جائے ۔کوٹا سسٹم کے غیر معینہ مدت تک کے اضافے اور جعلی مردم شماری کی منظوری پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے مل کر دی ،کراچی کی حق تلفی اور اس کے ساتھ ظلم و زیادتی میں ایم کیو ایم ،پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی سمیت تمام حکومتی جماعتیں شامل ہیں ۔ دھرنے میںجمعیت طلبہ عربیہ کراچی کے ارکان و کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ دھرنے میںاورنگی ٹائون 13 مارکیٹ تنظیموں پر مشتمل اورنگی ٹائون ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر عبد اللہ بٹرا، سینئر نائب صدر زبیر الدین ، نائب صدر سید رضی حیدر رضوی ، سیکرٹری شہباز نومی ، جوائنٹ سیکرٹری فیض الحسن ودیگر عہدیداران نے شرکت کی اور حق دو کراچی کو تحریک کے روح رواں حافظ نعیم الرحمن کو اپنی حمایت کی یقین دہانی کرائی ۔واضح رہے کہ جماعت اسلامی ضلع کورنگی کے تحت آج لانڈھی بابر مارکیٹ،چراغ ہوٹل کورنگی نمبر 5،ڈی سی آفس،کورنگی نمبر 2،ناصر جمپ،کورنگی کراسنگ،قیوم آباد پر احتجاجی دھرنے دیے جائیں گے۔ عوام شام 5 بجے چراغ ہوٹل ٹاؤن آفس پر جمع ہوںگے اور ریلی کی شکل میں ڈی سی آفس کورنگی ڈھائی نمبرپہنچیں گے جہاں سے امیر ضلع عبدالجمیل خان کی قیادت میں سندھ اسمبلی کی جانب روانہ ہوںگے اور راستے میں کورنگی روڈ، ڈیفنس موڑ،کالا پل،لکی اسٹار،صدر،زینب مارکیٹ، ریگل چوک پر دھرنا دیتے ہوئے سندھ اسمبلی مرکزی دھرنے میں پہنچیں گے۔
