English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت ، عدالت عظمٰی نے نفرت انگیز تقاریر پر حکومت سے جواب طلب کرلیا

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں ہندو انتہا پسند رہنما کی جانب سے مسلمانوں کو دھمکیاں دینے کے معاملے پر عدالت عظمیٰ نے ریاست اترکھنڈ کی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس این وی رمانا کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے ہردوار میں نفرت انگیز تقریر کے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کی توجہ اس بات پر دلائی کہ عدالت نے اس طرح کے اجتماعات کے خلاف کارروائی کے لیے ایک افسر مقرر کرنے کا حکم دیا تھا ، لیکن اب تک حکومت کی جانب سے کوئی افسر مقرر نہیں کیا گیا ہے، حکومت کی جانب سے عدالتی احکامات کی تعمیل نہیں کی جارہی ہے۔ عدالت نے اترا کھنڈ حکومت کو جواب پیش کرنے کے لیے 10 روز کی مہلت دی ہے۔ سماعت کے دوران درخواست کا کہنا تھا کہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اور بار بار اس طرح کے اجتماعات منعقد کیے جارہے ہیں۔ ہندو انتہاپسندوں کا آیندہ پروگرام 24 جنوری کو علی گڑھ میں ہوگا، لہٰذا عدالت تاریخ سے پہلے اگلی سماعت مقرر کردے۔ یاد رہے کہ ہردوار شہر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہندو انتہا پسندوں کے اجتماع دھرم سنساد میں شریک رہنماؤں نے ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے لیے اکسایا تھا ۔ اجتماع سے خطاب میں ہندو انتہا پسند رہنما یاتی نرسنگھا نند نے کہا تھا کہ بڑی اور مسلح ہندو بریگیڈ مسلمانوں سے نمٹنے کا بہتر حل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے