واشنگٹن: امریکا نے بدنام زمانہ گونتانا موبے جیل سے مزید پانچ قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کُل 46 قیدیوں میں سے 5 کو رہا کیا جائے گا، رہائی پانے والوں میں یمن کے 3، صومالیہ اور کینیا کا ایک، ایک قیدی شامل ہے۔
خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ پانچوں قیدیوں کو کسی بھی وقت رہا کر دیا جائے گا۔
جیل بند کرنے پر غور شروع:
خیال رہے کہ امریکا نے گوانتانا موبے جیل کو بند کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اپنے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ انتظامیہ گوانتاموبے جیل مکمل بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے،
ان کا کہنا تھا کہ اب صرف 46 قیدی جیل میں موجود ہیں، گوانتانا موبے جیل میں پہلے 800 قیدی تھے اب 14 قیدیوں پر مقدمات چل رہے ہیں جب کہ 2 کو سزا دی جا چکی ہے، جیل میں قید بقیہ قیدیوں کی منتقلی اور سزا کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا تھا کہ امریکی صدر بائیڈن گوانتانا موبے جیل بند کرنے کا وعدہ پورا کریں۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران واضح الفاظ میں کہا تھا کہ وہ نائن الیون کے بعد بنایا گیا متنازع گوانتانا موبے حراستی مرکز بند کر دیں گے لیکن امریکی قانون ساز اس فیصلے کے خلاف ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امریکی صدر جو بائیڈن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گوانتاناموبے جیل بند کرنے کا اپنا وعدہ پورا کریں۔
گوانتانا موبے جیل بنانے کا مقصد:
گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد بنائی گئی متنازع جیل کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران مشتبہ غیر ملکی دہشت گردوں کو حراست میں لے کر تفتیش کرنا تھا۔ تاہم ناقدین متنازع حراستی مرکز میں تفتیش کے لیے اختیار کیے گئے طریقوں کو بہیمانہ تشدد قرار دیتے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل امریکا کے انسانی حقوق سے متعلق پروگرام میں سیکورٹی ڈائریکٹر دافنے ایویاتار نے اپنے بیان میں کہاکہ جتنا عرصہ یہ جیل برقرار رہے گی، تب تک عالمی سطح پر انسانی حقوق کے بارے میں امریکی ساکھ متاثر ہوتی رہے گی۔
جنوری 2002 ء کے بعد سے وہاں 780 افراد کو حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر افراد پر فرد جرم بھی عائد نہیں کی گئی۔ اس وقت بھی حراستی مرکز میں 46 افراد قید ہیں جن میں 11 ستمبر کے حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد بھی شامل ہے۔

