English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ترکی تمام ترناانصافیوں کے باوجود یورپی یونین کوایک اسٹریٹجک ترجیح کے طو پر دیکھتا ہے: صدر ایردوان

القمر

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ترکی تمام تر ناانصافیوں کے باوجود یورپی یونین (EU) کو ایک اسٹریٹجک ترجیح کے طور پر دیکھتا ہے۔

صدر ایردوان نے ان خیالات کا اظہار انقرہ میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے سفیروں سے ملاقات  کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ  وہ یورپی یونین کے ساتھ مضبوط بنیادوں پر تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں، وہ الحاق کے نقطہ نظر کی بنیاد پر ایک مثبت ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کے لیے کوشاں ہیں، اور وہ مختلف شعبوں میں اعلیٰ سطحی مکالمے اور سلامتی کے اجلاس منعقد کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس سلسلے میں  آب و ہوا، سلامتی، ہجرت اور صحت کے  موضوعات پر بات چیت ہوئی ہے۔، انہوں نے کہا کہ وہ ان تمام اقدامات کے  باوجود  یورپی یونین سے جس ردعمل کی توقع رکھتے تھے وہ نہیں دیکھ سکے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ  ترکی کے خلاف تاخیری حربے استعمال کیے گئے تاکہ اس مثبت ایجنڈے پر عمل درآمد نہ ہو اور  خاص طور پر کسٹمز یونین کے بارے میں  ان کی خواہشات کو پورا نہیں کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  کچھ ممالک، جو سیاسی حساب کتاب کے ساتھ مکمل رکنیت سے پیدا ہونے والے اپنے حقوق کا غلط استعمال کرتے ہیں، نے اس عمل میں رکاوٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک موجودہ بحرانوں کو حل نہیں کیا جاتا، ہجرت پر دباؤ کو کم کرنا ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پناہ گزینوں کے مسئلے        یورپی یونین سے ہماری توقع صرف منصفانہ بوجھ اور ذمہ داری کا اشتراک ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہمیں اگلے موڑ میں ویزا لبرلائزیشن اور کسٹم یونین پر پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہا  ترکی نے  ویزے  کی پابندی  ختم کروانے کے بارے میں  اپنے اوپر  عائد ہونے والی تمام ذمہ داریوں کو پورا کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  قبرص میں یونانی قبرصیوں کو  جو خود کو جزیرے کا واحد مالک سمجھتے ہیں  اور ترک قبرصیوں کو نظر انداز کرتے ہیں  کو  اپنی  اس ذہنیت سے چھٹکارا حاصل کر نے کی ضرورت ہے۔

ایردوان نے کہا کہ ترک قبرصی عوام کی خود مختار مساوات کی رجسٹریشن مسئلے کو حل کرنے کی راہ ہموار کرے گی۔

ترکی کی یورپی یونین کی رکنیت کے بارے میں صدر  ایردوان نے کہا کہ

"میں نے 20 سالوں کے دوران یورپ میں لاتعداد رہنماؤں، صدور اور وزراء سے بات کی۔ میں نے دیکھا کہ کس طرح ہم نے مکمل رکنیت کے راستے میں جو قدم اٹھائے تھے وہ روکے گئے اور کس طرح ہمارے ملک کو دوہرے معیار کا سامنا کرنا پڑا۔ ان تمام ناانصافیوں کے باوجود جو ہمیں درپیش ہیں، یورپی یونین ہماری سٹریٹجک ترجیح بنی ہوئی ہے۔ درحقیقت، ہم اس سمت میں کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے